سیاسی و مذہبی مضامین

مختصر خلاصہ (تراویح) تفسیر قرآن (پارہ26 تا30)

چھبیسواں پارہ

اس میں کل چھ حصے ہیں

1- سورة الأحقاف مکمل
2- سورة محمد مکمل
3- سورة الفتح مکمل
4- سورة الحجرات مکمل
5- سورة ق مکمل
6- سورة الذاريات ابتدائي حصہ

سورہ احقاف میں کئی باتیں مذکور ہیں

1- والدین کے ساتھ حسن سلوک کا بیان ہے

2- حمل کی أقل مدت کا بیان کہ وہ چھ ماہ ہے

3- قوم عاد کی شرارت اور ان پر آنے والے عذاب کا تذکرہ ہے کہ ان پر ایسی ہوا چلی کہ اس نے سب کو تہ و بالا کردیا

4- جنوں کے ایمان لانے اور اپنی قوم میں داعی کی حیثیت سے کام کرنے کا بیان ہے

سورہ محمد میں بہت سی باتیں ہیں

1- جنت کی مثال بیان کی گئی ہے کہ اس میں ایسی نہر ہے کہ جس کا پانی گدلا نہیں ہوتا دودھ کی نہر کہ جس کا نہیں بدلتا شراب کی نہر خالص شہد کی نہراور ہر قسم کے پهل وغیرہ

2- آدمی جب مال پا جاتا ہے یا سرداری اور منصب کا مالک ہوجاتا ہے تو رشتہ کو نہیں نبھاتا ہے

3- الله اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت اعمال کی بربادی کا ذریعہ ہے

سورہ فتح کی بعض باتیں یہ ہیں
1- اس سورت میں فتح مبین سے مراد یا تو صلح حدیبیہ ہے یا فتح مکہ مکرمہ جیسا کہ مفسرین کے یہاں اختلاف ہے

2- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانے اور آپ کی تعظیم و توقیر اور مدد کرنے کا بیان ہے

3- صلح حدیبیہ کے بعض حالات کا بیان

4- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے خواب کا تذکرہ کہ آپ مسجد حرام کی زیارت کریں گے

5- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بعض عمدہ صفات کا بیان

سورہ حجرات میں کئی باتیں ہیں

1- نبوت و رسالت کا مقام

2- دو جماعتوں کے درمیان اختلاف کی صورت میں اصلاح کی کوشش اور بغاوت کرنے والی جماعت کے مدمقابل کھڑے ہو نا یہاں تک کہ وہ راہ راست پر آ جائے

3- سماج کو تباہ کرنے والی بعض صفات کا بیان کہ ان سے بچنا چاہئے جیسے غیبت چغلی بدگمانی سخریہ برے القاب سے خطاب وغیرہ

سورہ ق کی چند باتیں یہ ہیں
1- قیامت کا بیان کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا

2- قوم نوح أصحاب الرس ثمود عاد فرعون اور اخوان لوط کی تکذیب کا بیان ہے

3- جہنم کی کشادگی اور جنت کی قربت کا تذکرہ ہے

4- آخرت کے میدان میں کس طرح لائے جائیں گے اور مشرکین کو کیسے عذاب شدید میں ڈالا جائے گا اس کا بیان ہے سورہ ذاریات کے ابتدائی حصے کی بعض باتیں یہ ہیں

1- حساب وكتاب ہوکر رہیگا اس سے مفر نہیں ہے

2- متقیوں کے بعض صفات کا بیان کہ وہ رات میں بہت کم سوتے ہیں سحر کے استغفار کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا حق فراموش نہیں کرتے

3- ابراہيم عليه السلام کے پاس مہمانوں کے آنے اور ان کی ضیافت کا تذکرہ ہے


ستائیسواں پارہ

اس میں سورہ ذاریات کا بقیہ حصہ ہے جس میں فرعون اور اس کے اہل کاروں کے دریا میں ڈبوئے جانے قوم عاد کے ہوا کی نذر کئے جانے اور قوم ثمود اور قوم نوح علیہ السلام کے عذابوں میں گرفتار کئے جانے کا بیان ہے
سورہ طور میں کئی باتیں ہیں
1- قیامت کا بیان ہے
2- جنتی جنت میں کس طرح گھومیں پھریں گے اور ان کا اعتراف کیسا ہوگا اس کا تذکرہ ہے
3- نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو اہل مکہ نے کیا کیا کہہ کر اذیتوں کا شکار کیا اس کی جانب اشارہ ہے
سورہ نجم میں کئی باتیں مذکور ہیں
1- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے جبریل علیہ السلام کو دو مرتبہ ان کی اصلی حالت میں دیکھا ابتداء نبوت میں اور معراج کے موقع پر سدرة المنتہی کے پاس
2- انسان کی کوشش رائیگاں نہیں جاتی ہے شرط یہ ہے کہ وہ اپنی کوشش میں مخلص ہو
سورہ قمر میں کئی باتیں ہیں
1- چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا جو کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے نبوت کی نشانی اور کهلا ہوا معجزہ تھا
2- پورا قرآن مجید انسانوں کے لئے نصیحت ہے اسی لئے اسے بہت آسان بنا دیا گیا ہے تاکہ ہر شخص سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کر سکے
3- مختلف قوموں کے دنیا میں عذاب میں مبتلا ہونے اور آخرت کے دن پریشانی میں گهر نے کا بیان ہے
سورہ رحمٰن میں بھی کئی باتوں کا بیان ہے
1- قیامت کے دن حساب وكتاب کے لئے ترازو قائم کیا جائے گا
2- الله نے انسانوں کو دنیا میں بے شمار نعمتیں دی ہیں اور اچھے لوگوں کو آخرت میں مختلف نعمتوں سے نوازے گا ان کا تذکرہ کرکے بار بار یہ سوال کیا ہے؟ کہ اے انسانو اور جنو تم سب رب کی کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے؟ 
سورہ واقعہ کی بعض باتیں یہ ہیں
1- قیامت کس طرح واقع ہوگی اس کی ہلکی سی جھلک بتائی گئی ہے
2- قیامت کے روز لوگ تین زمرے میں ہونگے سابقین اولین، اصحاب الیمین اور اصحاب المشئمه یعنی جہنمی لوگ
3- الله کی قدرت کاملہ کا بیان نطفہ سے بچے کی پیدائش، کهیت میں پودے کا أ گانا، آسمان سے بارش نازل کرکے اسے پینے کے لئے میٹھا بنانا، درختوں سے آگ پیدا کرنا یہ سب اللہ ہی کی کاریگری اور قدرت ہے کسی انسان کے بس کی بات نہیں ہے
سورہ حدید کی بعض باتیں یہ ہیں
1- الله کی وحدانیت کا بیان
2- فتح مکہ سے پہلے خرچ کرنے والوں اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کی فضیلت کا بیان ہے 
3- قیامت کے دن مومنوں کو ایک نور دیا جائے گا جس کی روشنی میں وہ چل رہے ہوں گے اور منافقین اس نور سے محروم ہونگے

4- لوہا کے فوائد کا بیان ہے کہ اس سے ہتھیار بناتے ہو اور دوسرے منافع حاصل کرتے ہو جیسے : گهر بنانا، گاڑی بنانا پل وغیرہ


اٹھائیسواں پارہ

اس میں کل 9 سورتیں ہیں
سورہ مجادلہ
خولہ بنت ثعلبہ رضي الله عنها کے شوہر نے ان سے ظہار کر لیا جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ عورت اپنے شوہر کے لئے حرام ہوگئی، خولہ پریشان ہوئی کہ اب کیا ہو گا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئی اور اپنی فریاد پیش کیا اور بار بار پیش کیا ہر بار آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہی فرماتے رہے کہ تو اپنے شوہر کے لئے حرام ہوگئی آخر اس عورت نے اپنا رب کی طرف اٹھا دیا تو رب نے فوراً لبیک کہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر یہ سورت نازل کی جس میں ظہار کے کفارہ کا بیان ہے یا تو ایک غلام آزاد کیا جائے یا مسلسل دو ماہ کے روزے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے
سورہ حشر
بنونضیر قبیلے نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دھوکے سے قتل کرنا چاہا تو آپ نےان پر چڑھائی کیا کئی دنوں کے محاصرے کے بعد وہ لوگ وہاں سے نکلنے پر تیار ہوئے چنانچہ انہیں جلاوطن کیا گیا اور یہ پہلی جلاوطنی تھی جو خیبر کی جانب ہوئی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ملک شام کی طرف نکال دیا گیا
2- ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے مہمان رسول کی ضیافت کا بیان اور میزبان کی تعریف ہے
3- الله تعالى کے بعض صفات کا بیان 
سورہ ممتحنہ
اس سورت میں کئی باتیں ہیں
1- مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اسلام دشمنوں سے دوستی نہ کریں کیونکہ ان سے اسلام کوہمیشہ تکلیف ہی پہنچی ہے
2- جب عورتیں ہجرت کر کے مدینہ منورہ آنے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم دیا گیا کہ ان سے اس بات پر بیعت لیں کہ وہ شرک نہیں کریں گی چوری نہیں کریں گی زنا نہیں کریں گی اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور بہتان تراشی نہیں کریں گی
سورہ صف
1- جس چیز کی نصیحت کی جائے اس پر پہلے عمل کیا جائے ورنہ داعی مجرم ہوگا
2- جہاد کرنے والے اللہ کی نگاہ میں محبوب ہیں
3- کوئی کتنی ہی طاقت صرف کردے لیکن نور الہی یعنی اسلام مٹا نہیں سکتا ہے
سورہ جمعہ
1- جمعہ کی فضیلت اور اس کے بعض آداب کا بیان ہے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ دے رہے تھے مال تجارت آیا لوگ آپ کو قیام کی حالت میں چهوڑ کر چلے گئے جس پر سورت نازل ہوئی
2- بے عمل علماء کا بیان کہ وہ مثل گدھے کے ہیں جس پر بوجھ لدا ہوا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم کہ یہ بوجھ کس چیز کا ہے
سورہ منافقوں
اس بات کا بیان ہے کہ منافقین رسالت کی گواہی دینے میں جهوٹے ہیں نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کی چالبازیوں سے ہشیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے
نیز غزوہ احد کے موقع پر رئیس المنافقين عبد اللہ بن ابی نے یہ کہا تھا کہ مدینہ میں ہم رہیں گے نبی اور مسلمان نہیں، عزت والے ہم ہیں نبی اور مسلمان نہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب اس سورت میں دیا ہے
2- مومنوں کو اس بات کی تنبیہ کی گئی ہے کہ کہیں یہ مال اور اولاد تمہاری بربادی کا ذریعہ نہ بن جائیں
سورہ تغابن
قیامت کے دن جنتی جنت میں رہتے ہوئے غبن کریں گے وہ اس طرح سے کہ وہ لوگ جو جہنم میں چلے گئے ان کا بھی گهر جنت میں بنایا گیا ہے اب ان کے جہنم میں جانے کی وجہ سے جنت والاگهر خالی رہے گا تو جنتی اس پر قبضہ جما لیں گے اسی وجہ سے اس دن کا ایک نام یوم التغابن بهى پڑ گیا
2- مومنوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تمہاری بیویوں اور اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں تمہیں ان سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے
سورہ طلاق
1- طلاق کے بعض مسائل کا بیان
2- مختلف قسم کی عورتوں کی عدت کا بیان کہ نابالغہ اور آئسہ کی عدت تین ماہ حمل والیوں کی عدت وضع حمل وغیرہ
3- متقیوں کو پریشانی سے نجات ملے گی بے حساب رزق ملے گا ان کے معاملات آسان ہونگے ان کے گناہ مٹائے جائیں گے اور اجرعظیم ملے گا
سورہ تحریم
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم حضرت زینب بنت جحش کے پاس کچھ دیر ٹھہر تے اور وہاں شہد پیتے حضرت حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما نے وہاں معمول سے زیادہ ٹھہر نے سے روکنے کے لئے اسکیم تیار کی کہ ان میں سے جس کے پاس بھی نبی آئیں تو وہ ان سے یہ کہے کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا آپ نے فرمایا : میں نے تو زینب کے صرف شہد پیا ہے اب میں قسم کھاتا ہوں کہ یہ نہیں پیوں گا لیکن یہ بات تم کسی کو مت بتلانا اس پر یہ سورت نازل ہوئی 

2- دو جہنمی عورتوں کا بیان ہے اور یہ دونوں نبی کی عورتیں ہیں (نوح، لوط علیہما السلام) اور ان کا کافروں کے لئے بطور مثال ہے اور مومنین کے لئے دو عورتوں کی مثال بیان کی گئی ہے ایک فرعون کی بیوی آسیہ اور دوسرے عمران علیہ السلام کی بیٹی مریم


انتیسواں پارہ

سورہ ملک
1- توحيد کا بیان
2- جہنم میں داخل ہونے والوں اور داروغہ جہنم کے درمیان مکالمہ
سورہ قلم
1- باغ والوں کا واقعہ کہ جن کا باغ غرباء ومساکین کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کے نتیجے میں باغ آگ کی نذر ہوگیا2- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے اخلاق عالی کا بیان ہے

سورہ الحاقة

1- مختلف قوموں کے عذاب میں گرفتار کئے جانے کا بیان
2- قیامت کے وقوع کا بیان اور اچھے لوگوں کے جنت میں داخل ہونے اور بروں کے جہنم میں جانے کا بیان اور اسباب کا تذکرہ

سورہ المعارج

1- قیامت کے وقوع کا انداز
2- انسانوں کے بعض صفات کا بیان
3- جنتیوں کے صفات کا بیان

سورہ نوح

1- نوح عليه السلام کے طویل تبلیغ اور ان کے طریقہ دعوت کا بیان
2- استغفار کے فوائد کہ بارش نازل ہوگی مال میں اضافہ ہوگا نرینہ اولاد ملے گی باغات اور نہریں حاصل ہونگی
3- ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر بتوں کا بیان کہ نوح علیہ السلام کی قوم نے کہا کہ ہم انہیں نہیں چھوڑ سکتے

سورہ الجن

1- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم وادی نخلہ میں گئے نماز میں قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے جنوں کی ایک جماعت کا گزر ہوا تو انہوں نے قرآن مجید سنا اور ایمان لے آئے
2- مسجدیں صرف اور صرف اللہ کی عبادت کے لئے ہیں ان میں کسی اور کو نہیں پکارا جائے گا

سورہ المزمل

1- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی عبادت کا حال بیان کیا گیا ہے کہ آپ پوری رات عبادت کرتے تھے چنانچہ آپ پابندی لگائی گئی کہ پوری رات عبادت نہ کریں

2- قرآن مجید میں سے جو آسان ہو اسے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے نماز قائم کرنے زکات ادا کرنے اور قرض حسنہ دینے کا حکم ہے

سورہ مدثر

1- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم دیا گیا کہ آپ تبلیغ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے رب کی کبریائی بیان کریں

2- نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی سے انکار کرنے والے جہنم کا ایندھن بنیں گے اور پھر جہنم کی بعض صفات کا بیان ہے

3- جنتیوں اور جہنمیوں کا مکالمہ اور جہنم میں داخل ہونے کے اسباب کا بیان کہ ہم نمازی نہیں تھے مسکینوں کو کھانا نہیں کہلاتے تھے ہم گپ ہانکا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے

سورہ القیامۃ

1- جب قیامت قائم ہوگی انسان حیران ہو گا اور کہے گا این المفر کہاں بھاگ کر جاؤں لیکن وہاں نہ کوئی بهاگ سکتا ہے اور نہ تو رب کی پکڑ سے بچ سکتا ہے

2 – جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ جلدی جلدی پڑهتے کہ کہیں بهول نہ جاؤں اللہ نے فرمایا : اے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم آپ جلدی نہ کریں بلکہ غور سے سنیں ، پڑهانا ہماری ذمہ داری ہے

3- قیامت کے دن بہت سے چہرے تروتازہ ہونگے اور اپنے رب کو دیکھ رہے ہونگے اور بہت سے چہرے پژمردہ ہونگے

سورہ دهر

1- انسانوں پر ایک ایسا بھی دور آیا ہے کہ جب وہ کچھ بھی نہ تھا پھر اللہ عدم سے وجود بخشا

2- جنتیوں اور جہنمیوں کا بیان ہے

3- نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو آنے والی اذیتوں پر صبر کی تلقین کی گئی ہے  صبح و شام رب کے ذکر وفکر میں مشغول رہنے کا حکم دیا گیا ہے

سورہ مرسلات
1- قیامت کا بیان اور اس کے وقوع کے وقت آسمان پہاڑ اور ستاروں کی کیا حالت ہوگی اس کا نقشہ کھینچا گیا ہے2- قیامت کے وقوع، مجرموں کو دبوچ لئے جانے، انسان کی پیدائش، زمین کا بنایا جانا اس میں مضبوط پہاڑوں کا رکھنا اور پھر جہنم کے شعلوں کا بیان کافروں اور مشرکوں کا قیامت کے دن نا بولنا اور ان کے علاوہ اور بہت سی چیزوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بار بار یہ کہا گیا کہ ان واضح چیزوں کے جھٹلانے والوں کے لئے تباہی ہے اور یہ بات تقریباً دس مرتبہ دہرائی گئی ہے اور آخر میں کہا گیا کہ اگر تم ان باتوں پر ایمان نہیں رکھتے تو پھر کس بات پر ایمان لاؤ گے؟


تیسویں پارے کے اہم مضامین

سورہ نباء
مشرکین مکہ استہزاءو تمسخر کے طور پر مرنے کے بعد زندہ ہونے کو اور قرآن کریم کو ”النباالعظیم“ یعنی ”بڑی خبر“ کہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعی بڑی اور عظیم الشان خبر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے منہ کی بات لیکر فرمایا کہ اس ”بڑی خبر“ پر تعجب یا انکار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تمہیں عنقریب اس کی حقیقت کا علم ہوجائے گا۔
پھر اس پر کائناتی شواہد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمان و زمین اور ان میں موجود چیزیں جن کی تخلیق انسانی نقطہ نظر سے زیادہ مشکل اور عجیب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کی تخلیق فرمائی ہے اور ایسی طاقت و قدرت رکھنے والے اللہ کے لئے انسانوں کو دوبارہ پیداکرنا کون سا مشکل کام ہے۔ پھر اس اعتراض کا جواب دیا کہ اگر یہ برحق بات ہے تو آج مردے زندہ کیوں نہیں ہوتے؟ ہر چیز کے ظہور پذیر ہونے کے لئے وقت متعین ہوتا ہے۔
وہ چیز اپنے موسم اور وقت متعین میں آموجود ہوتی ہے۔ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ”موسم“ اور وقت متعین یوم الفصل (فیصلہ کا دن) ہے لہٰذا یہ کام بھی اس وقت ظاہرہوجائے گا۔
پھر جہنم کی عبرتناک سزاﺅں اور جنت کی دل آویز نعمتوں کے تذکرہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے جاہ و جلال اور فرشتوں جیسی مقرب شخصیات کی قطار اندر قطار حاضری اور بغیر اجازت کسی قسم کی بات کرنے سے گریز کو بیان کرکے بتایا کہ آخرت کے عذاب کی ہولناکی اور خوف کافروں کو یہ تمنا کرنے پر مجبور کردے گا کہ کاش ہم دوبارہ پیدا ہی نہ کئے جاتے اور جانوروں کی طرح پیوندِ خاک ہوکر عذاب آخرت سے نجات پاجاتے۔
سورہ نازعات
اس سورت کا مرکزی مضمون مرنے کے بعد زندہ ہونے کا اثبات ہے۔ ابتداءان فرشتوں سے کی گئی ہے جو اس کائنات کے معاملات کو منظم طریقے پر چلانے اور نیک و بد انسانوں کی روح قبض کرنے پر مامور ہیں۔ پھر مشرکین مکہ کے اعتراض کے جواب میں قیامت کی ہولناکی اور بغیر کسی مشکل کے اللہ کے صرف ایک حکم پر قبروں سے نکل کر باہر آجانے کا تذکرہ اور اس پر واقعاتی شواہد پیش کئے گئے ہیں جو اللہ فرعون جیسے ظالم و جابر کو حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے وسائل سے محروم شخص کے ہاتھوں شکست سے دوچار کرکے سمندر میں غرق کرسکتا ہے اور آسمانوں جیسی عظیم الشان مخلوق کو وجود میں لاسکتا ہے وہ انسان کو مرنے کے بعد زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ پھر جنت و جہنم کے تذکرہ اور صبح وشام کسی بھی وقت قیامت اچانک قائم ہوجانے کے اعلان پر سورت کا اختتام عمل میں لایاگیا ہے۔
سورہ عبس
سرداران قریش کے مطالبہ پر حضور علیہ السلام ان سے علیحدگی میں دعوت اسلام کے موضوع پر گفتگو کررہے تھے کہ ان کے اسلام قبول کرلینے کی صورت میں ان کے ماتحت افراد بھی مشرف بہ اسلام ہوجائیں گے۔ اتنے میں ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوب کسی قرآنی آیت کے بارے میں معلومات کے لئے حاضر خدمت ہوئے وہ نابینا ہونے کی بنا پر صورتحال سے ناواقف تھے۔ حضور علیہ السلام کو ان کا یہ انداز ناگوار گزرا جس پر اللہ تعالیٰ نے سورت نازل فرمائی۔
ایک نابینا کے آنے پر منہ بسور کر رخ موڑلیا۔ جو استغناءکے ساتھ اپنی اصلاح کا خواہاں نہیں ہے اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور جو اللہ کی خشیت سے متاثر ہوکر اپنی اصلاح کی خاطر آپ کے پاس آتا ہے اس سے آپ اعراض کرتے ہیں۔ یہ قرآن کریم نصیحت کا پیغام ہے، کسی بڑے چھوٹے کی تفریق نہیں کرتا۔ اس سے جو بھی نصیحت حاصل کرنا چاہے اس کی جھولی علم و معرفت سے بھردیتا ہے۔
غریب علاقوں کو نظرانداز کرکے فائیو اسٹار ہوٹلوں اور پوش علاقوں کے ساتھ تفسیر قرآن کی مجالس کو مخصوص کرنے والوں کی واضح الفاظ میں اس سورت میں مذمت کی گئی ہے۔ انسان اگر پہلی مرتبہ اپنی تخلیق پر غور کرے تو دوبارہ پیدا ہونے پر اسے تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ ماخلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدة۔ تمہارا پیدا ہونا اور مرنے کے بعد زندہ ہونا ایک ہی جیسا ہے۔
زمین، فضاءاور پانی میں منتشر اجزاءکو پھلوں سبزیوں کی شکل دے کر تمہاری خوراک کے ذریعہ تمہارے جسم کا حصہ بنایا۔ مرنے کے بعد تمہارے منتشر اجزاءکو دوبارہ جمع کرکے انسان بناکر پھر قبروں سے باہر نکال لیا جائے گا۔ پھر قیامت کے دن کی شدت اور دہشت کو بیان کرکے نیک وبد کا ان کے اعمال کے مطابق انجام ذکر فرماکر سورت کو اختیام پذیر کیا ہے۔
سورہ تکویر
قیام قیامت اور حقانیت قرآن اس کے مرکزی مضامین ہیں۔ قیامت کے دن کی شدت اور ہولناکی اورہر چیز پر اثر انداز ہوگی۔ سورج بے نور ہوجائے گا۔ ستارے دھندلاجائیں گے، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے، پسندیدہ جانوروں کو نظر انداز کردیا جائے گا، جنگی جانور جو علیحدہ علیحدہ رہنے کے عادی ہوتے ہیں یکجا جمع ہوجائیں گے۔ (پانی اپنے اجزائے ترکیبی چھوڑ کر ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تبدیل ہوکر) سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی۔

 

اردو دنیا واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں

https://chat.whatsapp.com/2N8rKbtx47d44XtQH66jso

مختصر خلاصہ (تراویح) تفسیر قرآن (پارہ21 تا25)

متعلقہ خبریں

Back to top button