بین الاقوامی خبریں

ویتنام میں کووڈ کی نئی خطرناک قسم دریافت

ہنوئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ویتنام میں کورونا وائرس کی ایک نئی تبدیل شدہ شکل دریافت ہوئی ہے، جسے انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔یہ نئی شکل بھارتی اور برطانوی کورونا وائرس کی نئی اقسام کی ملاپ سے وجود میں آئی ہے۔ ویت نامی وزرات صحت نے کہا ہے کہ اس نئے تبدیل شدہ کورونا وائرس کا جنیاتی کوڈ جلد ہی دستیاب ہو جائے گا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس ہوا کے ذریعے پھیلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

جنوری سن دو ہزار بیس میں کورونا وائرس کی یہ عالمی وبا پھوٹی تھی، جس کے بعد سے اس وائرس کی بہت سی تبدیل شدہ شکلیں سامنے آ چکی ہیں۔ویت نام میں بھارت اور برطانیہ میں پھیلنے والے کروناوائرس کی شکلوں سے مل کر ایک نئی ہائبرڈ شکل کی تشخیص ہوئی ہے۔ویت نامی وزیرصحت گیون تھنہ لانگ کے مطابق کووِڈ-19 کی یہ نئی شکل ہوا کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہے۔

ویت نام گذشتہ ایک سال کے دوران میں چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس پر قابوپانے میں بڑی حد تک کامیاب رہا ہے لیکن اب اس کو کروناوائرس کی نئی قسم کا سامنا ہے اور یہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔اپریل کے بعد سے ویت نام کے 63 میں سے 31 شہروں میں اب تک تقریباً 3600 افراد کووِڈ-19 کی اس نئی ہائبرڈ شکل سے متاثر ہوچکے ہیں۔

یہ تعداد ملک میں اب تک تشخیص شدہ کل کیسوں کا نصف سے زیادہ ہے۔وزیرصحت نے بتایا ہے کہ نئے تشخیص شدہ کیسوں کے جین کی جانچ کے بعد ہمیں ایک نئی شکل کا پتا چلا ہے اوریہ بھارت اور برطانیہ میں پھیلنے والے وائرس کا آمیزہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ویت نام کووِڈ-19 کی اس نئی شکل کے بارے میں بہت جلد دنیا کومطلع کرے گا۔ویت نام اس سے قبل کرونا وائرس کی سات شکلوں کی تشخیص کی اطلاع دے چکا ہے۔

ان میں بی۔1۔222، بی۔1۔619، ڈی614جی،بی۔1۔1۔7(برطانوی شکل)، بی۔1۔351،اے23۔1 اور بی۔1۔617۔2 (بھارتی شکل)۔واضح رہے کہ ویت نام نے اب تک کروناوائرس کے 6396 کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔ان میں 47 مریض وفات ہوچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button