
تہران:(اردودنیا/ایجنسیاں)ایران میں 18 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے سات امیدوار میدان میں ہیں۔ عوام کا اعتماد جیتنے کے لیے تمام امیدوار اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ تاہم قدامت پسند نظریات کے حامل صدارتی اُمیدوار ابراہیم رئیسی کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدوار امریکہ اور عالمی قوتوں کے ساتھ 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کی بحالی چاہتے ہیں۔
البتہ، ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے امیدواروں کو ملک کے معاشی مسائل پر توجہ دینے کی ہدایت کی ہے۔ ایران میں سپریم لیڈر یا رہبر اعلیٰ کو سب سے زیادہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں اس کے باوجود صدر ملک کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ جانتے ہیں کہ ایران کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے یہ امیدوار کون ہیں اور کیا نظریات رکھتے ہیں؟
ابراہیم رئیسی: انتخابی دوڑ میں 60 سالہ ابراہیم رئیسی کو سب سے اہم اور ’فیورٹ‘ امیدوار قرار دیا جارہا ہے۔ قدامت پسند نظریات کے حامل ابراہیم رئیسی 2019سے ایران کے چیف جسٹس ہیں اور اس سے قبل تین دہائیوں تک وہ ملک کے قانونی نظام سے منسلک رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی وہ کئی اہم ذمے داریاں ادا کر چکے ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ابراہیم رئیسی کو ایران کے سپریم لیڈر کا قریبی معتمد تصور کیا جاتا ہے جس کی بنا پر انہیں خامنہ ای کے جانشین کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس بار انتخابی میدان میں ان کی کامیابی پر مبصرین کی نگاہیں مرکوز ہیں کیوں کہ سپریم لیڈر بننے سے قبل عوامی مقبولیت ثابت کرنے کے لیے صدارتی انتخابات ایک اہم مرحلہ ثابت ہو سکتے ہیں۔یاد رہے کہ آیت اللہ خمینی کے بعد سپریم لیڈر بننے والے سید علی خامنہ ای بھی 1989میں اس منصب پر فائز ہونے سے قبل دو مرتبہ صدر منتخب ہو چکے ہیں۔
ایران میں صدر کا الیکشن بظاہر دنیا کے دیگر صدارتی انتخابات کی طرح معلوم ہوتا ہے لیکن اس میں امیدواروں کی حتمی فہرست کے اجرا، ان کی اہلیت اور مختلف اداروں کے اختیارات کی بہت سی تفصیلات اور طریقہ کار باقی دنیا سے خاصے مختلف ہیں۔ابراہیم رئیسی نے 2017 کے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا، تاہم موجودہ صدر حسن روحانی نے انہیں شکست دے دی تھی۔
تاہم وہ 38 فی صد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ایران سے غربت اور کرپشن کے خاتمے کے ساتھ آئندہ چار برسوں میں 40 لاکھ مکانات کی تعمیر ان کے اہم انتخابی وعدوں میں شامل ہیں۔امیر حسین غازی زادہ ہاشمی: پچاس سالہ امیر حسین غازی زادہ ہاشمی سب سے کم عمر صدارتی امیدوار ہیں۔ قدامت پسند نظریات کے حامل ہاشمی 2008 سے ایران کے شہر مشہد سے پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔
وہ نوجوانوں کو شادی اور روزگار کے لیے آسان شرائط پر پانچ ارب ایرانی ریال (تقریبا 17 ہزار ڈالر) کا قرض فراہم کرنے کی تجویز کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔اس کے علاوہ تہران کی اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ کئی ماہ سے جاری مندی کو فوری دور کرنا بھی ان کے انتخابی پروگرام کا حصہ ہے لیکن اس کی تفصیلات وہ تاحال سامنے نہیں لائے۔
عبدالناصر ہمتی: ان کا تعلق ایران میں ترک زبان بولنے والے اقلیتی لسانی گروہ سے ہے۔ وہ 2018 تک ایران کے مرکزی بینک کے سربراہ رہ چکے ہیں۔مرکزی بینک کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے اقتصادی امور میں’ریاستی مداخلت‘ کم سے کم کرنے کے لیے مہم چلائی تھی۔ خبرکے مطابق ہمتی اعتدال پسند امیدوار ہیں اور صدر روحانی کی طرح امریکہ سمیت مغربی ممالک کے ساتھ فعال سفارتی روابط رکھنے کے خواہاں ہیں۔
حال ہی میں دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ الیکشن جیتنے کی صورت میں وہ امریکی صدر جو بائیڈن سے ملنے کے لیے تیار ہوں گے تاہم اس کے لیے امریکہ کو اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ہمتی نے ایران کی معیشت کو اپنی انتخابی مہم کی بنیاد بنایا ہے۔ ٹی وی پر نشر ہونے والے دو صدارتی مباحثوں میں انہوں نے پابندیوں کے باعث ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی اور اس کے باعث عوام کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا ہے۔
سعید جلیلی :یہ ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کے دفتر میں ذمے داریاں نبھاتے رہے ہیں۔سعید جلیلی 2007 سے 2013تک ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ رہ چکے ہیں اور اسی دوران ایران کے جوہری پروگرام پرعالمی قوتوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرت کے انچارج بھی رہے ہیں۔قدامت پسند نظریات کے حامل سعید جلیلی مغربی ممالک سے تعلقات میں بہتری کا انتظار کرنے کے بجائے پڑوسی ممالک کے ساتھ اقتصادی روابط مضبوط کرنے کے حامی ہیں۔
وہ خاص طور پر ایسی ریاستوں سے قریبی تعلقات پیدا کرنے پر زور دیتے ہیں جو ایران کی پالیسیوں سے بھی قربت رکھتی ہیں۔ جلیلی اس سے قبل 2013 کا صدارتی الیکشن بھی لڑ چکے ہیں۔
محسن مہرعلی زادہ: ان کا تعلق بھی ایران میں بسنے والی ترکی النسل کمیونٹی سے ہے۔ اصلاح پسند سیاسی نظریات رکھنے والے محسن مہر علی زادہ ایران کے سابق نائب صدر رہنے کے علاوہ 2017 سے 2018 کے دوران ایران کے صوبے اصفہان کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔اس کے علاوہ 1997میں صدر محمد خاتمی کے پہلے دورِ حکومت میں ایران کی نیشنل اسپورٹس آرگنائزیشن کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔
مہرعلی زادہ نے اپنے انتخابی پروگرام میں زراعت کے شعبے کو جدید بنانے کی تجاویز اور پانی کی قلت سے پیدا ہونے والے مسائل کواہمیت دی ہے۔ ملکی سیاست میں شفافیت کیساتھ کم خرچ پر رہائش کی فراہمی بھی ان کے انتخابی پروگرام کا حصہ ہے۔
محسن رضائی: محسن رضائی ایران کی مسلح افواج کی اہم شاخ ’سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی‘ کے سابق سربراہ ہیں۔ اس سے قبل وہ گزشتہ تین صدارتی انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔ محسن رضائی اس وقت ایران کے حکومتی نظام میں تنازعات کو حل کرنے والی مصالحتی کونسل کے سیکریٹری ہیں۔انہوں ںے اپنے انتخابی پروگرام میں ملک کی تقریباً نصف آبادی چارکروڑ ایرانیوں کے لیے ماہانہ 45 لاکھ ایرانی ریال (17امریکی ڈالر) کی مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔
اس کے علاوہ پڑوسی ممالک سے مضبوط تجارتی تعلقات، برآمدات میں اضافہ اور ایرانی ریال کو خطے کی ’مستحکم ترین‘ کرنسی بنانا ان کے انتخابی منشور میں شامل ہے۔علی رضا زاکانی: نیوکلیئر میڈیسن کے ڈاکٹر 55 سالہ علی رضا زاکانی ایران کے شہر قم سے منتخب ہو کر 2004 سے 2016 تک پارلیمنٹ کے رکن رہ چکے ہیں۔گزشتہ برس ہونے والی پارلیمانی انتخابات میں انہوں نے تہران سے کامیابی حاصل کی ہے۔
زاکانی بیرونِ ملک مقیم ایرانیوں کی معاشی صلاحیت کو استعمال کرنے کے پرزور حامی ہیں اور ساتھ ہی ملک میں کان کَنی کے شعبے کو ترقی دینے کے خواہاں ہیں۔ایران کے صدارتی انتخابات کے لیے اہل اْمیدواروں کا تعین ایران کی گارڈین کونسل (شوریٰ نگہبان) کرتی ہے۔شوریٰ نے گزشتہ ماہ صدارتی انتخاب لڑنے کے 590 خواہش مندوں میں سے صرف سات ناموں کی منظوری دی تھی۔
شوریٰ نے ایران کے اول نائب صدر اسحاق جہانگیری، سخت گیر موقف رکھنے والے سابق صدر محمود احمدی نژاد، سابق اسپیکر علی لاریجانی اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر سعید محمد کو بھی صدارتی الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔خیال رہے کہ ایران کے موجودہ صدر حسن روحانی 2013 میں پہلی بار صدر منتخب ہوئے تھے جب کہ 2017 کے انتخابات میں وہ دوبارہ صدارتی الیکشن جیت گئے تھے۔ البتہ ایران کے آئین کے تحت وہ مسلسل تیسری بار صدارتی الیکشن لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔



