
برلن:(اردودنیا/ایجنسیاں)کلیئر ویو نامی کمپنی کے مصنوعی ذہانت کے ذریعے چہرے پہچان لینے والے سافٹ ویئر پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ اس فرم کے سربراہ نے تاہم اس نئی ٹییکنالوجی کا دفاع کرتے ہوئے اس تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی طرف سے بون میں اہتمام کردہ سالانہ گلوبل میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے ٹیکنالوجی کمپنی کلیئر ویو کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اپنے ادارے کے تیار کردہ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی بھی انسان کے چہرے کو پہچان لینے والے سافٹ پر عالمی سطح پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کر دیا۔
ان کی کمپنی کے اس سافٹ ویئر پر کئی ممالک میں قومی ریگولیٹرز کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔دو ورزہ گلوبل میڈیا فورم کے پہلے دن اس بین الاقوامی اجتماع کے شرکاسے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کلیئر ویو کے سربراہ نے کہا کہ ان کا ادارہ جو بھی معلومات جمع کرتا ہے، وہ سب قانونی ہوتی ہیں اور عوام کو ان معلومات تک رسائی بھی حاصل ہے۔
کلیئر ویو کو اس وجہ سے عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے کہ اس کمپنی کا تیار کردہ متنازعہ سافٹ ویئر مبینہ طور پر سینکڑوں ملین انسانوں کے پرائیویسی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔اس بارے میں کلیئر ویو کے سی ای او ہوآن ٹون تھاٹ نے پیر کی شام دعویٰ کیا کہ اس سافٹ ویئر کے ذریعے ان کی کمپنی کسی کے بھی حقوق کی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہو رہی۔
عوام کے پرائیویسی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم اداروں کی طرف سے Clearview AI کے خلاف اب تک کم از کم پانچ یورپی ممالک میں حکام کو باقاعدہ شکایات درج کرائی جا چکی ہیں۔ ان اداروں کا دعویٰ ہے کہ اس کمپنی کا سافٹ ویئر، جو اربوں کی تعداد میں تصاویر کا موازنہ کر کے چہروں کو پہچان لینے والے ایک سرچ انجن کے طور پر کام کرتا ہے، برطانیہ اور یورپی یونین کے بہت سخت پرائیویسی قوانین کے منافی ہے۔
یہ تنازعہ اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ کس طرح ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت کا زیادہ سے زیادہ ہوتا جا رہا استعمال نگرانی کے عمل کو ایسی نئی انتہا تک لے گیا ہے، جس کی آج سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔گلوبل میڈیا فورم کے پہلے دن ایک مباحثے کے 120 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے اس بارے میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ایک سینئر ریسرچر آموس توہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ حکومتیں اور ادارے اس طرح کا facial recognition سافٹ ویئر استعمال کرنے لگے ہیں، تاکہ عام شہریوں اور صارفین پر نظر رکھ سکیں۔
آموس توہ کے مطابق سب سے متنازعہ پہلو یہ ہے کہ اس سافٹ ویئر کی مدد سے کسی بھی ہجوم میں افراد کو ان کی چہروں کی مدد سے انفرادی سطح پر بھی پہچانا جا سکتا ہے۔کینیڈا کے پرائیویسی کمشنر نے گزشتہ ہفتے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ کینیڈین پولیس کی طرف سے اس سافٹ ویئر کا استعمال پرائیویسی قوانین کے منافی ہے۔ گزشتہ موسم گرما میں یورپی یونین کے ڈیٹا پرائیویسی کے نگران ادارے نے بھی کہہ دیا تھا کہ پولیس کی طرف سے اس سافٹ ویئر کا استعمال ممکنہ طور پر یورپی ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے منافی ہے۔



