بین الاقوامی خبریں

ترقی کے بجائے ہانگ کانگ کی رونقیں مسلسل ماند کیوں پڑ رہی ہیں؟

نیویارک، 26جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #ہانگ کانگ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔ اس کی فلک بوس عمارتیں اور مثالی اقدار آج بھی دلوں پر راج کرتی ہیں۔ ہانگ کانگ کا جدید شہر ایشیا کا ترقی پاتا ایک عالمی مالیاتی مرکز بن چکا تھا۔ تاہم شہر میں 1997 کے مقابلے میں بہت تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ یکم جولائی وہ دن ہے جب ہانگ کانگ #برطانوی سرپرستی کے بعد پھر سے چینی حکمرانی میں چلا گیا، جسے اب 24 برس ہونے والے ہیں۔

اس مالیاتی مرکز میں واقع ہونے والی تبدیلیاں ابتدائی طور پر تو بتدریجی نوعیت کی معلوم ہوتی تھیں، جو ایک ملک دو نظام کے آئیڈیا کے تحت چلایا گیا۔ہانگ کانگ کی مقامی رہائشی اینا چینگ نے اب تک اخبار کا وہ سر ورق سنبھال کر رکھا ہے، جس میں وہ تصویر نمایاں ہے جس میں ہانگ کانگ کے #اختیارات تبدیل ہونے کی تقریب دکھائی گئی ہے۔#اخبار کی 10 لاکھ کاپیاں چھاپی گئیں جو عام اشاعت کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ تھیں۔

چینگ نے بتایا کہ اس وقت یہ ایک تاریخ ساز لمحہ تھا۔ وہ بائیولوجی کی پروفیسر اور جمہوریت نواز سرگرم کارکن تھیں۔ جو اب امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔انھوں نے بتایا کہ 90 کی دہائی میں ہانگ کانگ کے باسی کچھ ایسے بھی تھے جو اچھی توقعات رکھتے تھے کہ چین کا حصہ بننے کے باوجود چین ضرور یہ چاہے گا کہ اسے جمہوری روایات ہی پر پروان چڑھایا جائے۔ لیکن، ایسا نہیں ہو پایا۔

متعدد جمہوریت نواز سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ عام اندازوں کے برعکس بہتری کی جاب گامزن ہونے کے بجائے ہانگ کانگ کے جمہوری اقدار کا #چین پر الٹا اثر ہوا اور وہ اسے ابتری کی جانب لے گیا۔سن 2019 میں حوالگی کے بل کے خلاف اٹھنے والے احتجاج کے دوران جمہوریت نواز سرگرم کارکنوں کی پولیس سے محاذ آرائی ہوئی، جو کئی ماہ جاری رہی۔

جس کے بعد چین نے قومی سیکیورٹی کے قانون کو وضع کیا۔ جس پر عمل درآمد کے نتیجے میں ہانگ کانگ کے ترقی کا دور یکسر رک گیا۔چینگ نے بتایا کہ اس وقت یہ ایک تاریخ ساز لمحہ تھا۔ وہ بائیولوجی کی پروفیسر اور جمہوریت نواز سرگرم کارکن تھیں۔ جو اب امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔انھوں نے بتایا کہ 90 کی دہائی میں ہانگ کانگ کے باسی کچھ ایسے بھی تھے جو اچھی توقعات رکھتے تھے کہ چین کا حصہ بننے کے باوجود چین ضرور یہ چاہے گا کہ اسے جمہوری روایات ہی پر پروان چڑھایا جائے۔ لیکن، ایسا نہیں ہو پایا۔

متعدد جمہوریت نواز سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ عام اندازوں کے برعکس بہتری کی جاب گامزن ہونے کے بجائے ہانگ کانگ کے جمہوری اقدار کا چین پر الٹا اثر ہوا اور وہ اسے ابتری کی جانب لے گیا۔چینگ کے الفاظ میں یوں محسوس ہوا جیسے چین اپنی گرفت کھو رہا ہے، جسے وہ فوری طور پر ٹھیک کرنا چاہتا ہے۔قومی سلامتی کے قانون کے تحت حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کی اجتماعی گرفتاریاں کی گئیں۔

اس ضمن میں قومی سلامتی کے قانون کو سختی سے استعمال کیا گیا۔سن 1989 کے جمہوریت نواز جلوس پر تیانمن اسکوائر پر کی جانے والی پولیس کارروائی کی یاد میں اس سال 4 جون کو ہانگ کانگ میں جلوس نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ہانگ کانگ کے سینئر پولیس سپر نٹنڈنٹ لیو کاکائی نے بتایا کہ نئے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ امن و امان اور عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہانگ کانگ کی پولیس ہر طرح کے ضروری اقدامات کرے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button