واشنگٹن، 26جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #وزیر اعظم #عمران #خان نے کہا ہے کہ افغانستان سے افواج کی واپسی کے لیے تاریخ طے کرنے کے امریکی فیصلے سے طالبان پر پاکستان کا اثر ختم ہوگیا ہے۔ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز ریکارڈ شدہ #نیویارک ٹائمز کے دو سینئر ایڈیٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نے #افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا کے بعد واشنگٹن کے ساتھ ایک نیا تعلق قائم کرنے پر زور دیا ہے۔
انٹرویو 25 جون کو اس وقت شائع ہوا جب امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے افغان ہم منصب اشرف غنی سے وائٹ ہاؤس میں پہلی مرتبہ ملاقات کی تھی۔عمران خان نے افغانستان کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی اپنی کوششوں کے بارے میں بھی بات کی۔انہوں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ بھارتی حکومت تعلقات کو معمول پر لانے میں دلچسپی نہیں لیتی لیکن شاید دہلی میں حکومت کی تبدیلی میں مدد ملے گی۔
عمران خان نے کہا کہ #امریکا کی جانب سے فوج کی انخلا کی تاریخ دینے کے بعد سے طالبان پر ہمارا اثر ختم ہوگیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب امریکا نے وہاں سے نکلنے کی تاریخ دی تو بنیادی طور پر طالبان نے فتح کا دعویٰ کردیا۔انہوں نے کہا کہ وہ سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے جنگ جیت لی اور اسی وجہ سے ان پر اثر انداز کرنے کی ہماری اثر پذیری اتنی ہی کمزور ہوتی جارہی ہے جتنا وہ خود کو مضبوط محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کرنے سے انکار کر رہے تھے لہٰذا پاکستان ہی نے انہیں امریکا سے بات پر آمادہ کیا۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے بھی طالبان رہنماؤں کو کابل میں حکومت سے بات کرنے پر راضی کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا واقعی! یہ ہم تھے جنہوں نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ افغان حکومت سے بات کریں۔
پاک۔ امریکا تعلقات کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اب امریکا کے افغانستان سے چلے جانے کے بعد بنیادی طور پر پاکستان ایک مہذب تعلقات کی خواہش کرے گا، جو آپ کے اور دیگر ممالک کے مابین ہے اور ہم امریکا کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
افغانستان سے انخلا کے بعد امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک تعلق برقرار رکھنے کے متعلق انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم، میں نے اس کے بارے میں سوچا ہی نہیں کہ پاکستان کو امریکا کے ساتھ اسٹریٹجک مطابقت رکھنی چاہیے۔پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان طالبان پر زور دے رہا ہے کہ وہ عسکری کامیابی کے لیے نہ جائیں کیونکہ اس سے ایک طویل خانہ جنگی کا آغاز ہوسکتا ہے۔



