بین الاقوامی خبریں

بائیو این ٹیک اور موڈیرنا: ایم آر این اے ویکسین کے بعد دل کی سوزش

لندن ، 27جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) #بیماریوں کے #کنٹرول اور روک تھام کے #امریکی مرکز، ’ سی ڈی سی‘ نے تصدیق کی ہے کہ کورونا کے خلاف ویکسین ایتھلیٹک افراد اور جوان لوگوں میں دل کی سوزش کا سبب بن رہی ہے۔اس سال اپریل کے بعد ہی سے اس امر کی نشاندہی ہو رہی تھی کہ کووڈ انیس کے خلاف لگائی جانے والی ایم آر این اے ویکسین کے اثرات ایتھلیٹک افراد اور جوان لوگوں میں #دل کی #سوزش کی شکل میں سامنے آرہے ہیں۔

طبی اصطلاح میں اسے ‘میوکارڈیٹس‘ کہتے ہیں۔ یہ دل کے پٹھوں میں سوزش کا سبب بننے والی علامت ہے۔ ایم آر این اے #ویکسین لگوانے والے افراد، خاص طور سے جوان اور ایتھلیٹک یا جسمانی ورزش اور کثرت وغیرہ کرنے والوں میں دل کی سوزش پیدا ہونے کا سب سے پہلے اسرائیلی صحت کے حکام نے انکشاف کیا تھا۔

اسرائیل کے صحت کے حکام کی طرف سے اس شکایت کے سامنے آنے تک یہ ملک ویکسینیشن مہم میں کافی تیز رفتاری سے آگے بڑھ چکا تھا اور ان کے پاس مریضوں کے مفصل اور وسیع اعداد و شمار بھی جمع ہو چکے تھے۔ادھر بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے امریکی مرکز، سی ڈی سی‘ کی طرف سے بھی ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ کووڈ انیس کے خلاف #mRNA ویکسینیشن کے بعد اپریل کے مہینے سے قریب ایک ہزارمیوکارڈیٹس یا ’پیریکارڈیٹس‘ یعنی غلاف قلب کے ورم کے کیسز سامنے آئے ہیں۔

یہ علامات ان لوگوں میں پائی گئیں جنہوں نے #بائیو این ٹیک فائزر اور #موڈیرنا ویکسین لگوائی۔ ان میں سے زیادہ تر کی عمریں 16 سال سے اوپر تھیں۔ ویکسین کی دوسری خوراک یا دوسرے ٹیکے کے چند روز بعد ہی ان میں یہ آثار دکھائی دیے۔ ’سی ڈی سی‘ کے بیان میں کہا گیا کہ زیادہ تر مریض جن کو علاج اور دیکھ بھال فراہم کی گئی وہ جلد ہی بہتر محسوس کرنے لگے۔

ماہرین کے مطابق چند وائرس عام محرکات #وائرس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ’سرد وائرس‘ ) ایڈینو وائرسس اور کاکسیکی وائرس( ہرپس یا فلو وائرس وغیرہ۔ #SARS-CoV-2 بھی اکثر قلب کی سوزش کی دو اقسام کا سبب بنتے ہیں۔ عام طور سے سوزش جسم کے مدافعتی قوت کا کسی وائرس کے خلاف عملی جواب ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button