
لندن ، 17جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ویتنام میں ایک شخص (Dao Duy Tung) کو #قرنطینہ #ضوابط کی خلاف ورزی کرنے، کورونا وائرس پھیلانے اور حکومت کو مالی نقصان پہنچانے پر 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 30 سالہ ڈاؤ ڈوے (Dao Duy Tung) کو یہ سزا جمعے کو سنائی گئی۔ویتنام کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے کورونا ٹیسٹنگ، کانٹیکٹ ٹریسنگ، سرحدی پابندیوں اور قرنطینہ کے ذریعے وبا پر قابو پایا، لیکن گذشتہ چند ہفتوں کے دوران وہاں کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔
ویتنام کی سرکاری نیوز ایجنسی وی این اے کے مطابق ’ ڈاؤ ڈوے تنگ 22 اپریل کو غیرقانونی طریقے سے لاؤس سے ویتنام میں داخل ہوا اور 14 روزہ قرنطینہ رولز کی خلاف ورزی کی۔لاؤس میں وہ جن لوگوں سے ملا ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا، لیکن اس نے اپنا #ٹیسٹ نہیں کروایا تھا۔ اس کے بجائے وہ دیگر شہروں میں سفر کرکے بہت سے لوگوں سے ملا۔اپریل کے بعد ویتنام میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ ویتنام میں کورونا کیسز کی کل تعداد 42 ہزار سے زیادہ ہے اور اب تک 207 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
#دارالحکومت ہنوئی سے منسلک صوبہ ہائی ڈونگ (northern Hai Duong Province) میں اپریل سے صرف 51 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو دیگر شہروں سے بہت کم ہیں۔ نیوز ایجنسی کے مطابق ڈاؤ ڈوے تْنگ کی وجہ سے حکومت کو ایک لاکھ 30 ہزار ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس کی وجہ سے کتنے لوگ متاثر ہوئے۔
حکومت نے جمعے کو کہا کہ اس نے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے تقریباً ایک ارب ڈالرز خرچ کیے ہیں جن میں ویکسین، آلات اور کورونا سے متاثر ہونے والے افراد پر اٹھنے والے اخراجات شامل ہیں۔مارچ میں بھی اسی طرح کا کیس سامنے آیا تھا جس میں #عدالت نے #ویتنام ایئرلائنز کے ایک اہلکار کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔



