
امریکی میڈیا کمیٹی نے دینک بھاسکر اور بھارت سماچار پر آئی ٹی کے چھاپوں کی مذمت کی
واشنگٹن، 23 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ میں واقع ایک میڈیا کمیٹی نے ہندوستان کے مشہور میڈیا گروپ #دینک-بھاسکر (Dainik-Bhaskar) اور ٹی وی چینل #بھارت-سماچار (Bharat-Samachar)کے احاطے میں انکم ٹیکس کے چھاپوں کی مذمت کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کواس کی تنقید کرنے والے میڈیا ہاؤسز کو ڈرانے کیلئے ایسی کاروائی نہیں کرنی چاہئے۔ کمیٹی برائے تحفظ صحافی (سی پی جے) نے کہا کہ ہندوستان کو میڈیا کی آزادی کی اپنی طویل روایت کو بحال کرنا چاہئے اور #صحافیوں کو عوامی مفاد کے معاملات پر آزادانہ طور پر رپورٹنگ کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔
قابل ذکر ہے کہ #ٹیکس چوری کے مبینہ معاملے پر محکمہ انکم ٹیکس نے متعدد ریاستوں میں ’دینک بھاسکر‘ اور ’بھارت سماچار‘ کے احاطے میں چھاپہ مارا ہے۔ دینک بھاسکر کی 12 ریاستوں میں موجودگی ہے اور #اخبار کے علاوہ اس کا اپنا ریڈیو اسٹیشن، ویب پورٹل نیز موبائل ایپ بھی ہے۔ جمعرات کے روز صبح ساڑھے پانچ بجے اس کے احاطے میں چھاپہ مارا گیا، جو مختلف ریاستوں میں 30 مقامات پر شام کے دیر تک جاری رہا۔
وہیں اتر پردیش میں ’بھارت سماچار‘ اور اس کے پروموٹرز، ملازمین کے احاطے میں چھاپے مارے گئے۔ سی پی جے کے ایشیاء پروگرام کوآرڈینیٹر اسٹیوین بٹلر نے کہاکہ دینک بھاسکر اور بھارت سماچار کے احاطے پر انکم ٹیکس کے چھاپوں کا استعمال ایک ایسا اقدام ہے جس کا مقصد واضح طور پر میڈیا ہاؤسز کو ہندوستانی حکومت کے خلاف تنقید کا نشانہ بنانے کی وجہ سے۔
یہ ایک بری حکمت عملی ہے اور اسے روکنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کو میڈیاکی آزادی کی اپنی طویل روایت کو بحال کرنا چاہئے، ان تحقیقات کو بند کرنا چاہئے اور #صحافیوں کو عوامی مفادات کے معاملات پر آزادانہ طور پر رپورٹنگ کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔ انہوں نے میڈیا گروپ دینک بھاسکر کے دفاتر اور اس کے احاطے پر قبضہ ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔



