
نیویارک،24؍جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایک پراسرار بیماری ان دنوں کئی سفارتکاروں اور امریکی جاسوسوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، 2016ء میں شناخت ہونے والی اس #بیماری کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے۔جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کی خبر کے مطابق کئی امریکی #سفارتکار، #جاسوس اور سی آئی اے اہلکار جو ایک پراسرار بیماری نے جکڑ لیا ہے۔ اس بیماری کو ہوانا سنڈروم‘ کا نام دیا گیا ہے۔
اس بیماری کی سب سے پہلے شناخت کیوبا میں قائم امریکی سفارتخانے میں ہوئی تھی جہاں تعینات سفارتکاروں میں اس بیماری کی تشخیص کی گئی تھی۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہوانا سنڈروم‘ (Havana Syndrome) نامی اس بیماری میں متاثرہ شخص کو مائیگرین کی طرح کا سر درد ہوتا ہے اور اس پر سستی طاری ہو جاتی ہے۔ڈائریکٹر سی آئی اے ولیم برنز نے گزشتہ روز میڈیا کو بریفنگ میں کہا کہ تقریباً 100 امریکی اہلکار اس پراسرار بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔
ولیم برنز کا کہنا تھا کہ امریکا کے طبی ماہرین دسمبر 2020ء میں یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ بیماری مخصوص سمت میں توانائی کی شعاؤں کا نشانہ بننے کے نتیجے میں ہو سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ ایک سازش ہے جسے دانستہ طور پر کیا گیا ہے۔ روس اس میں ملوث ہو سکتا ہے جو #امریکہ کا روایتی حریف ہے۔



