بین الاقوامی خبریںسرورق

 مصر : اخوان رہنما سمیت 24 شہریوں کو سزا ئے موت

قاہرہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمین کے ایک رہنما سمیت 24 شہریوں کو پولیس اہل کاروں کے #قتل کے الزام میں سزائے موت سنا دی۔الجزیرہ کے مطابق عدالت کی جانب سے سزا پانے والوں میں اخوان المسلمون کے مقامی رہنما محمد سویدان بھی شامل ہیں۔شمالی صوبے بحیرہ کی #دمنہور فوجداری عدالت نے 16 ملزمان کو 2015ء میں رشید شہر میں پولیس بس پر بم حملے میں 3 پولیس اہل کاروں کی ہلاکت کا ذمے دار قرار دیا۔
اس حملے میں 39 پولیس اہل کار زخمی بھی ہوئے تھے۔عدالت نے دیگر 8 ملزمان کو 2014ء میں بحیرہ کے شہر دلنجات میں پولیس اہل کاروں پر حملے کے الزام میں سزائے موت سنائی۔تاہم یہ تمام افراد بے قصور ہیں۔ ملزمان کو سزائے موت ان کی عدالت میں پیشی کے بغیر سنائی گئی ہے، جب کہ وفات پا جانے والے 3 ملزمان کے خلاف مقدمہ واپس لے لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق یہ واضع نہیں ہوسکا کہ سزائے موت کا یہ فیصلہ حتمی ہے یا ملزمان کو اپیل کا حق حاصل ہے۔
مصر میں انسانی حقوق پر کام کرنے والی عالمی تنظیم شہاب آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ حتمی ہے اور اسے ہنگامی بنیادوں پر سنایا گیا ہے۔مصر کا شمار عرب کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں لوگوں کو سب سے زیادہ سزائے موت دی جاتی ہے۔مصر میں رواں سال اپریل میں 10 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی، جب کہ اس سے قبل 2013ء میں رابعہ عدویہ دھرنے کے معاملے میں سزائے موت پانے والے اخوان المسلمون کے 12 کارکنوں کی سزا کی توثیق کی گئی تھی۔
مصر کے پہلے منتخب صدر محمد #مرسی کو 2013ء میں معزول کر دیا تھا اور اخوان المسلمین کے ہزاروں کارکنوں اور رہنماؤں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ #مصری فوج نے محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ان کی #جماعت اخوان #المسلمون کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔
#اخوان المسلمون کی بنیاد 1928ء میں رکھی گئی تھی اور کئی دہائیوں کے جبرو زیادتی کے باوجود مصر میں یہ حزب اختلاف کی منظم اور متحرک جماعت کے طور پر قائم رہنے میں کامیاب رہی ہے،لیکن دہشت گرد تنظیموں سے روابط کا بے بنیاد الزام لگا کر مصر سمیت دیگر ممالک میں اس پر پابندی لگائی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button