سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

ایک قیدی کا اپنے والد کی وفات کے موقع پر جذبات میں۔ اپنی والدہ و بہن بھائیوں کے نام خط

دل بے حد غمگین ہے کہ ہمارے انتہائی  شفیق   بابا ہم سے رخصت ہوگئے

ایک قیدی کا اپنے والد کی وفات کے موقع پر جذبات میں گندھا ہوا آنسوؤں سے مرقوم دعاؤں سے لبریز صبر کی تلقین لیے ہوئے اپنی والدہ و بہن بھائیوں کے نام خط

یہ خط رضی الدین ناصر (قیدی نمبر 141/20 کھولی نمبر 200) سابرمتی سینٹرل جیل گجرات نے اپنے والد مولانا نصیرالدین صاحب کی وفات پر اپنے اہل خانہ کو لکھا ہے…! 

دل بے حد غمگین ہے کہ ہمارے انتہائی  شفیق بابا ہم سے رخصت ہوگئے،  بیدار دل کے حامل ، مجاہدین کے حامی  و مددگار اسیروں کے لیے ہر وقت  بےچین ،معاشرے کی اصلاح کے لیے ہمہ تن مصروف، امت کی حالتِ زار پر بے قرار، یتیموں کا سہارا،وارثینِ شھداء کے کفیل، مساکین کی خوب امداد کرنے والے،رشتے داروں کے حقوق کی ادائیگی میں ہمیشہ آگے،شرکیہ جمہوری سیاست سے براءت کرنے والے ،طاغوتی حکمرانوں اور انکے اہل کاروں سے بے خوف،حق جان لینے کے بعد اس پر عمل کرنے میں جلدی کرنے والے، لوگوں کی اپنے بارے میں رائے سے بے پروا، دنیا سے بے رغبت، تہجد کے پابند ،راتوں میں رب کے آگے گڑ گرانے والے،اپنی بیوی کے قدردان شوہر، اپنی اولاد کے لیے رحمدل باپ،چھوٹے بچوں سے انکے باپوں سے زیادہ شفقت کرنے والے،اولاد کے حقوق میں ہمیشہ عدل کو ملحوظ رکھنے والے۔ یا اللہ میرے والد کو میں نے ایسا پایا ہے اور آپ ہی اصل حقیقت جانتے ہیں آپ تو علیم بذاتِ الصدور ہیں۔

تکلیف تو بہت ہوئی کیونکہ یہ فطری بات ہے شاک ہوگیا کہ  بیماری کی اطلاع پہلے سے نہیں تھی، لیکن۔ امی نے ایک بار ملاقات پر بابا کے یہ الفاظ بتائے تھے میری زندگی میں مندر نہ بن پائے۔   چونکہ اللہ اپنے نیک بندوں کی ایسی دعائیں قبول کر لیتا ہے ،مجھے ہر وقت یہ خدشہ لگا رہتا تھا کہ جلد خبر آنے ہی والی ہے کیونکہ #اخبارات میں تعمیر کی تواریخ کا اعلان ہو چکا تھا اسی لیے میرا دل مطمئن ہے کہ اللہ عز وجل نے بابا کی بات کی لاج رکھ لی ۔ یہ اللہ کی طرف سے انکے لیے اس دنیا میں بہت بڑا اعزاز ہے،اور آخرت کے لیے اللہ فرماتے ہیں انا لا نضیع اجر المحسنین ۔کیایہ وعدہ ہمارے لیے باعث اطمینان وسکون نہیں ہے؟

یا اللہ ہمارے بابا کا شمار صدیقین، شھداء اور صالحین کے زمرے میں کردے۔انکی مغفرت فرما،جنت میں انکے درجات کو بلند فرما،قبر کی آزمائش سے انکو بچالے ،اسے کشادہ کردے انہیں جنت کی بشارت سنا دے،ہمارے مرنے کے بعد ہم سب کو جنت کے اعلی مقامات میں اکٹھا کردے، ہم ہر صبر وسکینت کا فیضان فرما آمین۔

یہ بات بھی ہمارے لیے خوشی اور سکون کا باعث ہے کہ جس طرح بابا نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اللہ کے دین کے لیے لگا دیا تھا یہاں تک کہ ان سے متاثر و انسپائرڈ کچھ بھائی شھادت کے مقام کو بھی پہنچے،اسی طرح حدیث کے مطابق وباء میں  موت ہونے کی وجہ سے ان شاءاللہ شھادت کے رتبے پر فائز ہوئے ہیں،اللہ انہیں #شہید کی حیثیت میں قبول کرلے آمین۔

ایسی ہی باتیں ہیں جس کی بناء پر دل کو قرار آ جاتا ہے،مصیبت کے اس موقع پر صبر آسان ہوجاتا ہے کہ دنیا مومن کے لیے ایک تکلیف کی جگہ ہے ،آزمائش گاہ ہے،اور جب وہ اس دنیا سے جاتا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق راحت پا لیتا ہے کہ وہ اپنے رب کی مہمانی میں جا رہا ہوتا ہے۔

27 جون کو صبح کھانے سے فارغ ہو کر سوا دس بجے روم میں داخل ہی ہوا تھا کہ زاہد بھائی ایک چٹھی لے کر اندر آئے دروازہ بند کر کے مجھے ہاتھ میں دے دئیے،جس پر گجراتی میں جیلر کی رائٹنگ میں لکھا تھا بلاسٹ کیس کے آروپی رضی الدین ناصر کے پتا آج صبح آٹھ بجے گزر گئے تدفین کی رسم دوپہر دو بجے ادا کی جائے گی۔  پتا کے لفظ پر پہنچتے ہی میں نے انا للہ  پڑھ لیا ،اندازہ ہوگیا تھا۔

اللہ عزوجل نے تھام لیا صبر کی توفیق دی، حواس قابو میں رہے،فورا وضو کیا سجدہ کرکے بابا کے لیے مغفرت ،آسانی اور تمام گھر والوں کے لیے صبر کی دعا کی۔پھر ساتھی بھائی تعزیت کے لیے اکٹھا ہونے لگے۔۔صبر کی تلقین کررہے تھے،بابا کے نیک کاموں کا تذکرہ کررہے تھے۔اسد اللہ نے فورا سپرٹنڈنٹ کے نام اپلیکیشن لکھی کہ گھر والوں کے ساتھ ویڈیو کال کرائی جائے ۔

ساتھ میں یہ بھی درخواست کی کہ لاک اپ کے ٹائم تسلی کے لیے میرے ساتھ مزید دو لوگوں کو رکھا جائے۔ بارہ بجے لاک کا ٹائم ہوجاتا ہے جب تک تو سب لوگ جمع تھے ۔پھر جیلر نے آکر اطلاع دی کہ ہوم منسٹری کی اجازت کے بغیر فون نہیں ہوسکتا اور ساتھ میں کسی اور کو رکھنے سے بھی انکار کر دیا گیا۔سوا بارہ بجے بند کر دیا گیا، وضو کر کے دعا کے لیے بیٹھ گیا خوب دعا کی کہ وہی وقت بابا کے لیے اصل آزمائش کا تھا تدفین اور اسکے بعد کے مراحل پیش آنے تھے ۔

(بارہ بجے ہی جیلر نے یہ بھی بتایا کہ کووڈ سے انتقال ہوا ہے)۔ اب یہ بھی فکر لاحق ہونے لگ گئی تھی کہ گھر پر انتقال ہوا یا سب سے دور اکیلے ہاسپٹل میں؟ امی اور باقی لوگ آخری بار دیکھ بھی پائیں گے یا نہیں؟۔۔غسل دیا جاسکے گا کہ نہیں ؟؟  بابا کی وصیت کے مطابق والے قبرستان میں تدفین ہو پائے گی کہ نہیں ؟ گھر میں کوئی اور انفیکٹیڈ ہوا کیا؟ امی کا کیا حال ہوگا؟ غم ہر غم ہوگا ۔ تمام گھر والوں کو کورنٹائین کردیا گیا ہوگا!

غرض دسیوں خدشے اور سوالات ستانے لگے ؟ صبر اور دعا کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔اور حقیقت میں اس سے بہتر کچھ اور ہو بھی نہیں سکتا۔قید میں  اس بات پر یقین مزید بڑھ جاتا ہے۔ تین بجے لاک کھولا گیا، پھر سب لوگ جمع ہوگئے ۔۔۔اعلان کردیا گیا کہ عصر بعد غائبانہ نمازِجنازہ پڑھی جائے گی۔کھلے آسمان کے نیچے سوا پانچ بجے میں نے  نماز پڑھائی ۔

چالیس افراد شریک تھے ۔چھ بجے بند ہونے کا وقت ہوتا ہے جیلر سے کہا گیا  اتنا کردو  کہ تم ہی گھر فون کرکے کچھ تفصیلات معلوم کرو اور میری خیریت پہنچادو۔ مگر یہ بھی نہیں ہوسکا۔بس اتنا تیقن ملا کہ پیر کے دن وکیل سے ملاقات کروادیں گے ۔اب یہاں سے انتظار شروع ہوا کہ کب پیر کا دن آئے اور کب ملاقات ہو اور تفصیلات معلوم ہوں۔ ان سب رکاوٹوں کے باوجود مجھے یہ احساس تھا کہ مجھ سے بھی زیادہ تکلیف کے مراحل سے گزرنے والے اس دنیا میں ہیں نہیں بلکہ میرے ہی ساتھ قید میں موجود ہیں ندیم بھائی کی مثال ہے ایک کے بعد ایک والدین گذر گئے نہ چہرہ دیکھنا نصیب ہوا نہ بات کرنے ملا اور گھر پر دو بہنوں کی سرپرستی کے لیے بھی کوئی نہیں۔

واقعتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر و شکر کا کتنا بہترین فارمولا بتایا کہ دنیا کے معاملات میں ہمیشہ اپنے سے زیادہ تکلیف والے پر نظر رکھو اور دین کے معاملے میں اپنے سے زیادہ ارمان تقوی ۔والے پر ۔تو انتظار کی بات چل رہی تھی ،اتوار کی صبح جیلر نے آکر بتایا کہ انتقال گھر پر ہوا ہے اور سب خیریت ہیں۔(پھر بھی تفصیلات ندارد)  جیلر کی بات پر یقین کرنے کوئی ثبوت نہیں تھا۔

اب وکیل کا انتظار تھا ۔پیر کا دن آیا صبح کے سیشن میں ملاقات کے لیے نہیں آئے ۔۔سوچا شام میں آئیں گے تو شام میں بھی نہیں آئے ! منگل کا دن بھی اسی طرح انتظار میں گذرا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ایک دن ایک ہفتے کے برابر ہو۔تیرہ سالہ قید میں وکیل صاحب کا پہلی بار اتنی شدت سے انتظار کیا۔

اللہ انہیں معاف کرے پتہ نہیں کیوں نہیں آئے جبکہ آج بابا کے انتقال کو ایک ہفتہ گزر گیا ۔بدھ کے دن صبح جیلر نے بتایا کہ کورٹ سے دس منٹ فون پر بات کروانے کا آرڈر ملا ہے ۔اب فون کرنے کا انتظار تھا ، یہ بھی سوچ لیا کہ مختصر وقت میں زیادہ سے زیادہ کیسے بات ہوسکتی ہے آخر کار شام میں بات ہو ہی گئی ۔جب تفصیل پتہ چلی خصوصا بابا کی آخری رات کی دعائیں۔

فجر کا ادا کرنا۔۔وغیرہ۔اتنا اطمینان ہوا الحمدللہ ایسے لگا جیسے میرے دل پر سے بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا ہے۔اللہ جزائے خیر دے باجی و صفیہ باجی کو ۔جس ضبط کے ساتھ مختصر وقت میں اتنی باتیں انہوں نے بتادیں ۔کہ ایسے صبر آزما موقع پر خواتین کیا مرد حضرات بھی ضبط نہیں کر پاتے ۔مجھے امید تھی کہ امی ضرور صبر کریں گی اور امی نے ایسا ہی کیا مگر میں ضبط نہیں کر پایا  اللہ آپ سب کے صبر کا بھر پور اجر عطا فرمائے آمین 

فون کر کے واپس آیا تو سب لوگ بے چینی سے تفصیل کے منتظر تھے۔سب کو سنایا، بابا کی آخری رات کا سن کر سب کہہ رہے تھے کہ یہ اللہ کا خاص فضل تھا جو اس نے بابا کو عطا کیا۔اتنے شدید حالات میں ایسی آسانیاں پیش آنا (اگر آپ لوگوں نے صرف میری تسلی کے لیے ایسے نہ بتایا ہو تو) کہ انفیکشن کے باوجود گھر رکھنے کی سہولت آخری دن تک اولاد کو خدمت کرنے کا موقع ملنا ،آخری لمحات میں سب کا ساتھ میں موجود ہونا۔

اپنے ہاتھوں سے غسل دے پانا ۔ آخری دیدار کی سہولت۔ ( یہ سب باتیں کووڈ ڈیتھ میں ناممکن ہیں)۔ یہ سب اللہ کی خاص رحمت سے ہی ہو پایا۔ہوسکتا ہے اللہ کو بابا کے اعمال پسند ہوں تو اپنے ایسے بندے کی بے بسی والی موت کو کیسے پسند فرماتا؟ اللہ کا بہت زیادہ شکر ادا کرنے کا مقام ہے ۔

تمام لوگوں امی ،باجی ،صفیہ باجی دونوں بھابھیوں اور یاسر و جابر بھیا کو اللہ بہترین اجر دے کہ انہوں نے تکلیف و بیماری کے ان ایام میں بابا کی خدمت کی ۔اللہ ان سب کی اس دن کی پریشانی کو دور کرے جس دن اسکے علاوہ اور کوئی کسی کے کام نہیں آسکے گا۔ سب کی اولاد کو اللہ نیک، صالح ،فرمانبردار اور خدمت گزار اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے آمین ۔

پیاری امی ! صبر پر قائم رہیے کہ سوگ اور غم کے ان دنوں میں اللہ نے صبر کے زیور سے آراستہ ہونے کا حکم دیا ہے ۔ صبر ہی کو اختیار کرکے ان شاءاللہ آپ جنت میں بابا کے مقام کو پہنچ سکتی ہیں ۔بے شک آپکی زندگی کا ایک حصہ آپ سے جدا ہو کر چلا گیا لیکن بہترین اولاد کی صورت میں ایک بڑا حصہ اب بھی آپ کے ساتھ موجود ہے۔اپنے بچوں اور انکے بچوں کو نصیحت کرتے رہیے کہ بابا جیسی بہترین صفات اپنے اندر پیدا کریں ۔

دنیا کے معاملات میں ایسی چیزوں کو ترک کریں جو اللہ کو ناپسند ہونے کی بناء پر بابا بھی ناپسند کرتے تھے۔اپنی صحت کا خیال رکھیں ان شاءاللہ میں آؤں گا۔اور اللہ سے امید ہے کہ آپکے ساتھ عافیت کے ایام گزریں گے ۔

پیاری بہنو!! مجھے احساس ہے کہ باپ کی جدائی کا غم بیٹوں سے زیادہ بیٹیوں کو ہوتا ہے ۔اور آپ غمگین کیوں نہ ہوں کہ بابا نے آپ دونوں کے ساتھ جو شفقت کا معاملہ کیا ہے وہ قابل رشک ہے ۔اللہ آپ پر اپنے صبر کا فیضان فرمائے۔اور بابا کے بیٹوں کو توفیق دے کہ وہ بابا کی طرح ہی آپ دونوں کے ساتھ احسان سے پیش آئیں ۔اللہ آپ کی زندگیاں سکوں سے بھر دے۔

پیارے بھائیو!!!! خواہش تھی کہ اس دن فون پر آپ دونوں سے بھی بات ہوجاتی ،بھیا کے انتقال سے لے کر بابا کی وفات تک آپ دونوں صبر کے ساتھ بخوبی اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے ،اللہ آپ کو دونوں جہانوں میں خوب اجر سے نوازے۔

ان ساری ذمہ داریوں اور مصائب سے تو میں کافی دور ہوں شاید مجھے اندازہ بھی نہ ہو کہ ذمہ داریوں کا بوجھ کیسا ہوتا ہے۔ اللہ عزوجل قدم قدم آپ کی نصرت رہنمائی فرمائے۔آمین ۔ایک صحابی نے عرض کیا میرے والدین کی موت کے بعد انکی اطاعت میں کوئی چیز باقی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں چار باتیں باقی رہتی ہیں۔۔انکے حق میں رحم وکرم اور مغفرت کی دعا کرنا۔انکے وعدے پورے کرنا۔۔انکے دوستوں کی عزت کرنا۔۔انکی وجہ سے قائم رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا۔ ابوداود

پیارے بچو!!!نانو/ دادو تم سب سے کتنی محبت کرتے تھے اب انکی محبت کا یہ صلہ ہے کہ تم لوگ زیادہ سے زیادہ انکے لیے مغفرت اور آسانی کی دعا کیا کرو۔اور انکی ساری محبت کا حصہ ننا کو دو انہیں خوش رکھو ۔انکا خیال رکھو انکی دلجوئی کیا کرو ۔انکے کام کردیا کرو۔اور انہیں ناراض کرنے والے کام کبھی مت کرنا ۔ہمارے تمام ساتھی امی اور بھائیوں کو سلام ۔

کہہ رہے ہیں، تعزیت کررہے ہیں۔اسد اللہ شاید خط بھی لکھ رہے ہیں۔والسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ 3.7 .20…10:45 pm.ناصر بن نصیرالدین(اسیر فی سبیل اللہ)وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين و صلى الله علي نبينا محمد وعلى اله واصحابه اجمعين.

متعلقہ خبریں

Back to top button