بین الاقوامی خبریںسرورق

افغانستان سے فوج واپس بلانے پر پچھتاوا نہیں اب افغانوں کو اپنے لیے لڑنا ہو گا، جوبائیڈن

دبئی،11؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایک ایسے وقت میں جب طالبان تحریک نے صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد کے علاقوں پر اپنے کنٹرول کا اعلان کیا ہے #امریکی صدر جو #بائیڈن نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے اپنی #افواج کو #افغانستان سے نکالنے کے فیصلے پر افسوس نہیں۔ امریکی فوج اپنے شیڈول کے مطابق افغانستان سے اس مہینے کے آخر تک نکل جائے گی۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ملک کا دفاع کرنا افغان فوج کی ذمہ داری ہے۔ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف طالبان تیزی کے ساتھ مختلف صوبوں پر اپنا کنٹرول قائم کرتے چلے جا رہے ہیں۔

#امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان #نیڈ پرائس نے زور دیا کہ افغانستان میں تشدد ناقابل قبول ہے اور یہ تشدد طالبان اور امریکا کے باہمی امن معاہدے کے مطابق نہیں ہے۔انہوں نے نامہ نگاروں کو مزید کہا کہ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2020 میں افغانستان میں امن لانے کے معاہدے کے حوالے سے تشدد کی سطح اس معاہدے میں #طالبان کے وعدے کے مطابق نہیں ہے۔اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس نے اشارہ کیا کہ افغان فورسز کو طالبان سے لڑنے کے لیے کافی تربیت حاصل ہے۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے دو ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت خارجہ نے کابل میں اپنا سفارتی عملہ مزید محدود کرنے پر غور شروع کیا ہے۔امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ اب افغانوں کو خود اپنے لیے لڑنا ہو گا۔ جوبائیڈن نے کہا کہ افغان فوج تعداد میں طالبان سے کہیں زیادہ ہے مگر اسے لڑنے کے لیے تیار ہونا ہو گا۔ امریکی صدر نے افغان سیاسی قیادت سے بھی اپیل کی کہ وہ اشتراک عمل کا مظاہرہ کریں۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ شاید اب افغان یہ بات سمجھتے جا رہے ہیں کہ انہیں اعلیٰ سطح پر سیاسی اتفاق رائے کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ امریکی صدر نے افغانستان سے امریکی قیادت میں #نیٹو فورسز کے #انخلا کے فیصلے کا دفاع کیا۔ واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں فقط ڈھائی ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جب کہ دیگر نیٹو #ممالک کی فوج کا مکمل انخلا ہو چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button