
چالیس ہزار افراد نے اسلامی سال کی پہلی نماز جمعہ مسجد اقصیٰ میں ادا کی-اسرائیلی فوج کا نمازیوں پربہیمانہ تشدد
مقبوضہ الخلیل،14اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)نئے اسلامی سال سنہ 1443ھ کے موقعے کے آغاز پراسرائیلی فوج اور پولیس کی طرف سے کڑی پابندیوں کے باوجود کل جمعۃ المبارک کو ہزاروں فلسطینیوں نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی پولیس نے بیت المقدس بالخصوص پرانے بیت المقدس میں فلسطینی نمازیوں کی نقل وحرکت پر کڑی پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ بیت المقدس میں مسجد #اقصیٰ میں نماز جمعہ کے لیے غرب اردن سے آنے والے نمازیوں کی بسیں روک دیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق پرانے بیت المقدس اور #مسجد اقصیٰ کے اطراف میں دسیوں پولیس اہلکار اور فوجی تعینات کیے گئے۔
پولیس کی گشتی پارٹیوں کی بڑی تعداد فلسطینی نمازیوں کو روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس کے باوجود 40 ہزار #فلسطینی #مسلمان نماز جمعہ کو قبلہ اول میں پہنچنے میں کامیاب رہے۔ نماز جمعہ کی ادائی کے بعد باب الاسباط اور دوسرے دروازوں سے باہر نکلنے والے نمازیوں کو روکا گیا۔ جمعہ کو علی الصباح صہیونی فوج اور پولیس نے مسجد اقصیٰ کے اطراف کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
جمعہ کے خطبہ میں مسجد کے خطیب نےعالم اسلام اور عرب ممالک میں اتحاد و اتفاق پر زور دیا۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ دوستی کرنے کی مہمات کی شدید مذمت کی اور فلسطینیوں سے بھی اپنی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔
نماز جمعہ کے موقعے پر مسجد ابراہیمی میں فلسطینی نمازیوں پر وحشیانہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں متعدد نمازی زخمی ہوگئے۔مقامی فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ جمعہ کو نماز جمعہ کے موقعے پر اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے مسجد ابراہیمی کا محاصرہ کیا اور مسجد میں گھس کر نہ صرف مقدس مقام کی بے حرمتی کی بلکہ مسجد میں نماز جمعہ کے لیے آئے فلسطینی مسلمانوں پر وحشیانہ تشدد کیا۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں کے وحشیانہ تشدد سے درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے جب کہ بیسیوں آنسوگیس کی شیلنگ اور صوتی بموں سے متاثر ہوئے۔خیال رہے کہ کل جمعہ کے روز الخلیل شہر کے فلسطینیوں کی بڑی تعداد نماز جمعہ کی ادائی کے لیے مسجد ابراہیمی میں پہنچے۔اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں اور تشدد کے باوجود بڑی تعداد میں فلسطینی مسجد ابراہیمی میں نماز جمعہ ادا کرنے میں کامیاب رہے۔
ادھر مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر حفظی ابو سنینہ نے نمازیوں پر اسرائیلی فوج کے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قابض فوج کی غنڈہ گردی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نہتے نمازیوں کو مسجد میں گھس کرتشدد کا نشانہ بنانا اور انہیں مسجد سے نکالنا اسرائیلی فوج کی بدمعاشی اور مذہبی دہشت گردی کا کھلا ثبوت ہے۔



