بین الاقوامی خبریں

کابل ایئر پورٹ کے باہر بھگدڑ مچنے کے باعث سات افغان باشند ے ہلاک

کابل ، ۲۲؍اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کابل میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ حکومتی ہدایت کے بغیر ایئر پورٹ کا رخ نہ کریں جب کہ برطانوی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ کابل ایئر پورٹ کے باہر بھگدڑ مچنے کے باعث سات #افغان باشندے ہلاک ہوئے ہیں۔یہ انتباہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب #کابل #ایئر پورٹ پر افغانستان سے نکلنے کے خواش مند شہریوں کا رش ہے اور #ایئرپورٹ کے داخلی راستے پر شدت پسند تنظیم #دولتِ #اسلامیہ (داعش) کے حملے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق #برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے اتوار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صورتِ حال بہت پیچیدہ ہے تاہم وہ اس پر قابو پانے کے لیے پوری کوشش کر رہے ہیں۔ادھر ایک امریکی اہل کار نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ کابل ایئر پورٹ پر حملے کے خطرے کے پیشِ نظر #امریکی فوج محفوظ #انخلا کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ان کے بقول ایک ممکنہ حل یہ ہے کہ ایئر پورٹ سے باہر مخصوص مقامات پر لوگوں کو جمع کیا جائے اور وہاں سے امریکی فوج سیکیورٹی حصار میں انہیں ایئر پورٹ تک لائے۔

ایک امریکی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر داعش کے حملے کے خطرے سے متعلق مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ خطرات سنجیدہ نوعیت کے ہیں۔امریکی حکام مقامی طالبان رہنماؤں سے بھی اس بابت بات کر رہے ہیں تاکہ ایئر پورٹ کے قریب #طالبان کی چوکیوں سے لوگوں کی آمدورفت آسان بنائی جائے۔ہفتے کو امریکی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران 3800 افراد کا کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے انخلا کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس نے ہفتے کو تصدیق کی تھی کہ 14 اگست سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 17 ہزار افراد کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے جن میں امریکی شہری اور امریکی فوج کے لیے کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔وائٹ ہاؤس کے مطابق جولائی کے اواخر سے لے کر اب تک 22 ہزار افراد کو کابل ایئر پورٹ سے منتقل کیا چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button