
لندن، ۲۴؍اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان میں جس برق رفتاری سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہے اس سے بائیڈن انتظامیہ کو القاعدہ کے دوبارہ سرگرم ہوجانے کا خطرہ لاحق ہے۔ #افغانستان میں جس برق رفتاری سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہے اس سے #بائیڈن انتظامیہ کو القاعدہ کے دوبارہ سرگرم ہوجانے کا خطرہ لاحق ہے۔ #واشنگٹن اسی کے ساتھ ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور #روس اور #چین کے سائبر حملوں کا مقابلہ بھی کرنا پڑ رہا ہے۔
#ٹرمپ انتظامیہ میں انسداد دہشت گردی کے شعبے کے سینیئر ڈائریکٹر کرس کوسٹا کہتے ہیں کہ افغانستان سے امریکی فورسز کی تیز رفتار انخلاء اور #طالبان کے عروج کے ساتھ ہی میرے خیال میں القاعدہ کو بھی موقع مل گیا ہے اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ اس پیش رفت نے جہادیوں کو ہر جگہ متحد ہونے کا موقع فراہم کردیا ہے۔
#امریکہ کے ٹوئن ٹاورز پر گیارہ ستمبر کو حملہ کرنے والے القاعدہ کے کارکنان افغانستان میں گزشتہ 20 برسوں کی جنگ کے دوران بڑی حد تک ختم ہوچکے ہیں اور یہ بات ابھی بہت زیادہ واضح نہیں ہے کہ آیا مستقبل قریب میں وہ امریکہ پرنائن الیون جیسے تباہ کن حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔
بالخصوص ایسے حالات میں جبکہ پچھلے دو دہائیوں کے دوران امریکا نے جاسوسی اور دیگر حفاظتی اقدامات سے خود کو بڑی حد تک مستحکم کر لیا ہے۔تاہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جون میں شائع ایک رپورٹ کہتی ہے کہ القاعدہ کی اعلی ترین قیادت اب بھی افغانستان میں موجود ہے اور سینکڑوں مسلح جانباز بھی ان کے ساتھ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان، جس نے گیارہ ستمبر کے حملوں سے قبل القاعدہ کے جنگجووں کو پناہ دی تھی، اب بھی دوستی، جد و جہد کی مشترکہ تاریخ، نظریاتی ہمدردی اور ایک دوسرے کے درمیان شادی بیاہ کے رشتوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب ہیں۔
پنٹاگون کے ترجمان جان کربی نے جمعے کے روز تسلیم کیا کہ القاعدہ افغانستان میں موجود ہے۔ لیکن خفیہ اطلاعات جمع کرنے کی صلاحیت کم ہوجانے کی وجہ سے ان کے بارے میں ٹھوس انداز میں کچھ کہنا مشکل ہے اور اس لیے بھی کہ وہ کوئی شناختی کارڈ تو لے کر نہیں چلتے ہیں اور نہ ہی کسی رجسٹرمیں ان کا نام درج ہے۔امریکیوں کے خلاف اسلامک اسٹیٹ(آئی ایس) کے ممکنہ حملوں کے خدشے کی وجہ سے امریکی فوج کو کابل میں ہوائی اڈے کی حفاظت کے لیے نئے طریقے اختیار کرنے پڑے ہیں۔
ماضی میں طالبان اور آئی ایس ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرا رہے ہیں لیکن اب پریشانی کی بات یہ ہے کہ افغانستان ایک بار پھر ایسے متعدد انتہا پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے جو امریکا اور دیگر ملکوں پر حملے کرنا چاہتے ہیں۔ابھی واضح نہیں ہے کہ القاعدہ کے کارکنا ن مستقبل قریب میں امریکا پرنائن الیون جیسے تباہ کن حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔امریکی صدرجوبائیڈن کے قومی سلامتی مشیر جیک سولیوان نے پیر کے روز نامہ نگاروں سے با ت چیت کرتے ہوئے کہا کہ بائیڈن کو اس بات کا مکمل اطمینان ہے کہ امریکا نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے جو صلاحیتیں پیدا کرلی ہیں ان کی مدد سے دہشت گردی کو کچل کر رکھ دیا جائے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انٹلیجنس برادری کو اس بات پر یقین نہیں ہے کہ #القاعدہ کے پاس امریکا پر حملہ کرنے کی صلاحیت ہے۔امریکا کا خیال ہے کہ اس نے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ اور جدید ترین جاسوسی کے آلات کی وجہ سے خود کو اتنا مستحکم کر لیا ہے کہ 20 برس پہلے کے مقابلے اب کسی بھی حملے کو زیادہ آسانی سے ناکام بنا یا جا سکتا ہے۔ تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ کسی حملے کی پیشگی تدارک کے لیے خفیہ معلومات حاصل کرنا بہت ضروری ہوتا ہے اور افغانستان سے افواج کے انخلاء کی وجہ سے اس پر اثر پڑے گا۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرس ورے کا خیال ہے کہ سفید فام پسندوں اور نسلی طورپر سرگرم انتہا پسندو ں کی گرفتاریوں کی تعداد سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کا خطرہ کتنا بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملازمت کے پہلے سال کے بعدسے ایسے افراد کی گرفتاریوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔



