بین الاقوامی خبریں

امریکہ کا کابل میں داعش کے کار سوار خودکش بمبار پر ڈرون حملہ

کابل 30،اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے کابل میں داعش کے کار سوار خود کش بمبار کو پر ڈرون حملہ کیا ہے جو کہ کابل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ کے ترجمان بل اربن کے مطابق امریکی فوج نے کابل میں ایک گاڑی پر دفاعی ڈرون حملہ کیا جس میں داعش کی جانب سے درپیش خطرے کو ختم کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نشانہ بننے کے بعد گاڑی میں ہونے والے دھماکوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس میں کافی مقدار میں بارودی مواد موجود تھا۔ان کے مطابق اس وقت اس حملے میں کسی سویلین کے نشانہ بننے کی کوئی خبر نہیں۔ تاہم افغان میڈیا کے مطابق حملے میں چھ افراد ہلاک جب کہ چار زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ قبل ازیں سابق افغان حکومت کے ایک سکیورٹی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ایئرپورٹ کے قریب دھماکہ راکٹ حملہ تھا اور ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس کا نشانہ ایک مکان بنا ہے۔‘اے پی نے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حوالے سے بتایا کہ امریکہ نے فضائی حملے میں ایک خود کش بمبار کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور کابل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ خیال رہے امریکہ نے سنیچر کو کابل ایئرپورٹ کے قریب ایک مخصوص، یقینی خطرے‘ کے حوالے سے انتباہ کرتے ہوئے اپنے شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔اے ایف پی کے مطابق فوری طور پر دہشت گردی کے انتباہ کے ایک سلسلے نے امریکی افواج کے زیر نگرانی انخلا کی کوششوں کو متاثر کیا اور انہیں طالبان کے ساتھ قریبی سکیورٹی تعاون پر مجبور کیا۔کابل ایئرپورٹ پر جمعرات کو ہونے والے داعش کے خودکش حملے میں 150 سے زائد افغان شہری اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

غیر سرزمین پر بغیر کسی اطلاع کے حملے کرنا غیرقانونی ہے: ذبیح اللہ مجاہد

طالبان کے ترجمان نے کابل پر تازہ ترین امریکی حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر ملکی سرزمین پر امریکہ کی یہ کارروائی غیر قانونی ہے ۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے چین کے سرکاری ٹیلی وژن سی جی ٹی این کو پیر کے روز ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے کسی قسم کی پیشگی اطلاع دیے بغیر کابل میں اتوار کو جو ڈرون حملہ کیا ہے وہ ایک غیر قانونی کارروائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر سرزمین پر کسی دوسرے کے ملک میں بغیر کسی اطلاع کے حملے کرنا غیر قانونی ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

طالبان کے ترجمان کے ان بیانات سے قبل پینٹاگون نے کہا تھا کہ اتوار کے روزداعش خراسان سے تعلق رکھنے والے بعض شدت پسند کابل ایئر پورٹ پر ایک اور خود کش حملے کی تیاری کر رہے تھے جس کو روکنے کے لیے امریکا نے ڈرون حملے کیے۔ امریکا نے اس کے لیے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جو اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی تھی۔پیر کو چین کے ٹیلی وڑن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں سات شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

امریکی کارروائی کو غیر ملکی سرزمین پر ایک غیر قانونی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر افغانستان میں کسی ممکنہ حملے کے خطرات تھے تو اس کی اطلاع سب سے پہلے ہمیں دی جانی چاہیے تھی نہ کہ ایک صوابدیدی حملہ کیا جانا چاہیے تھا، جو شہریوں کی ہلاکتوں کا سبب بنا۔ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بیانات چینی ٹیلی ویژن کو تحریری طور پر دیئے تھے۔ادھر پنٹاگون حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایک خود کش کار بم حملے کی اطلاع تھی جس کا ہدف کابل کا ہوائی اڈہ تھا جہاں امریکی فوجی دستے افغانستان سے انخلا کے حتمی مراحل میں ہیں۔

امریکی ذرائع کے مطابق اس علاقے میں حملے کی منصوبہ بندی اسلامک اسٹیٹ کی ایک علاقائی شاخ آئی ایس آئی ایس خراساں کی جانب سے کی گئی تھی۔امریکی سینٹرل کمان نے کہا ہے کہ اتوار کے روز کابل میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی رپورٹوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button