بین الاقوامی خبریں

افغان طالبان کی کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد پریڈ طالبان غیرملکیوں، افغانوں کے باہر جانے کے حوالے سے وعدے پورا کریں: سلامتی کونسل

کابل ،31اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکی افواج کا انخلا مکمل ہونے کے بعد طالبان کی سپیشل فورس ’بدری 313‘ نے کابل ایئرپورٹ کی سکیورٹی سنبھال لی ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق منگل کو طالبان رہنماؤں نے سپیشل فورسز کے لباس میں ملبوس جنگجوؤں کے ہمراہ ایئر پورٹ کا دورہ کیا جہاں پر تباہ شدہ امریکی ہیلی کاپٹروں کا بھی جائزہ لیا۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سمیت دیگر عہدیداروں نے فاتحانہ انداز میں ایئر پورٹ کے رن وے پر کھڑے ہو کر تصاویر کھنچوائیں جبکہ امریکی رائفل اٹھائے ہوئے ’بدری 313‘ یونٹ نے سفید جھنڈے لہرائے۔

قبل ازیں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا مکمل ہونے کے بعد امریکہ کی طویل ترین جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔امریکی فوج کے انخلا کے بعد کابل میں طالبان نے جشن مناتے ہوئے ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کی۔ انخلا کی مایوس کن کوششوں کی نگرانی کرنے والے آخری امریکی فوجی پیر کی رات کو کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے، جس کے بعد انخلا مکمل ہو گیا ہے۔ تاہم اس نے امریکہ کی سپر پاور کی حیثیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد طالبان جنگجو تیزی سے ہوائی اڈے میں داخل ہوئے اور امریکہ کو دو دہائیوں بعد شکست دینے پر فتح کا جشن منایا اور ہوائی فائرنگ کی۔

رائٹرز کے مطابق آخری امریکی فوجی طیارے سی 17 نے پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق رات کے 11 بج کر 59 منٹ پر کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے پرواز بھری تھی۔کابل ایئرپورٹ سے اڑنے والے اس آخری امریکی فوجی طیارے میں قائم مقام امریکی سفیر راس ولسن اور امریکی فوج کے 82 ویں ایئر بورن ڈویڑن کے سربراہ بھی موجود تھے۔امریکہ کے افغانستان سے انخلا مکمل ہونے کے موقع پر سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے اعلان کیا کہ امریکہ نے افغانستان سے سفارتی عملہ قطر کے درالحکومت دوحہ منتقل کر دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کو عالمی سطح پر کسی بھی قسم کی حمایت اور قانونی حیثیت حاصل کرنی پڑی گی۔سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ دو سو سے کم امریکی شہری ابھی بھی افغانستان میں موجود ہیں جو وہاں سے نکلنے کے خواہش مند ہیں۔ کابل میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان نے مکمل آزادی حاصل کر لی ہے۔منگل کے روز ذبیح اللہ مجاہد نے دیگر قیادت کے ہمراہ کابل ایئر پورٹ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر طالبان ترجمان نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’افغانستان کو مبارکباد،یہ ہم سب کی فتح ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم ان تمام (ممالک) کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات کا خیر مقدم کرتے ہیںذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’امریکہ کی شکست دوسرے حملہ آوروں اور ہماری مستقبل کی نسل کے لیے بڑا سبق ہے۔ یہ دنیا کے لیے بھی ایک سبق ہے۔انخلا مکمل ہونے کے موقع پر طالبان کے سینئر رہنما انس حقانی کا کہنا تھا کہ یہ تاریخی لمحات دیکھتے ہوئے فخر محسوس کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کی افغانستان سے ’محفوظ‘ انخلا کے حوالے سے اپنے وعدے پورا کریں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 15 رکنی سکیورٹی کونسل نے اس حوالے سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں طالبان پر اپنے وعدوں کو پورا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ قرار داد تیرہ ووٹوں کی اکثریت سے منظور کی گئی ہے جب کہ دو ممبران چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔قرارداد برطانیہ امریکہ اور روس نے مل کر ڈرافٹ کی تھی۔

تاہم اس میں فرانسیسی صدر کی جانب سے ’محفوظ زون‘ کے قیام کی بات شامل نہیں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کونسل توقع کرتی ہے کہ طالبان تمام غیر ملکیوں اور افغانوں کو افغانستان سے محفوظ، سکیور اور ترتیب وار جانے کی اجازت دیں گے۔قرارداد میں 27 اگست کو طالبان کی جانب سے جاری بیان کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں طالبان نے کہا تھا کہ افغان شہری کسی بھی وقت بیرون ملک کا سفر بارڈر کراسنگ، بذریعہ سڑک یا جہاز کے ذریعے کر سکتے ہیں۔

سکیورٹی کونسل کو توقع ہے کہ طالبان اپنے ان اور دوسرے تمام وعدوں کو پورا کریں گے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ اب تک چھ ہزار امریکیوں کو افغانستان سے نکالا گیا ہے۔روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جان پساکی کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن ایڈمنسٹریشن یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ اب بھی کتنے ایسے امریکی افعانستان میں موجود ہیں جو کہ وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button