بین الاقوامی خبریں

افغان جنگ کو بہت پہلے ختم ہو جانا چاہیے تھا: بائیڈن

نیویارک، یکم ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ امریکہ کے مفاد میں نہیں تھی، جسے بہت عرصہ قبل بند ہو جانا چاہیے تھا۔ انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ فوجی انخلا کا فیصلہ انہی کا فیصلہ ہے اور درست سمت کی جانب ایک قدم ہے۔ منگل کے روز وائٹ ہاؤس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ اب یہ جنگ ختم ہو چکی ہے، چونکہ اب سرزمین پر لڑائی لڑنے کا وقت نہیں رہا، اسے اب سفارتی میدان میں لڑا جائے گا۔
صدر نے کہا کہ یہ لڑائی اس وقت ختم ہو جانی چاہیے تھی جب مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا اور القاعدہ کا قلع قمع کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ11 ستمبر 2001ء کے امریکہ کے خلاف حملوں میں القاعدہ ملوث تھا لیکن یہ دہشت گرد گروہ افغانستان کی سرزمین سے وار کر رہا تھا، جسے نیست و نابود کرنے کی ضرورت تھی، اور یہ کام بخوبی کیا گیا۔لیکن، صدر نے یاد دلایا کہ داعش خراسان جیسے دہشت گرد گروہ کے ساتھ لڑائی ختم نہیں ہوئی، اسے نہ معاف کیا جائے گا، نہ بھلایا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر دولت اسلامیہ خراسان کیخلاف فضائی حملے کیے جائیں گے۔حالیہ کابل مشن کا ذکر کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد افراد کا انخلا کیا گیا، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا انخلا کسی بھی اور ملک نے نہیں کیا۔اس مشن کی کامیابی کی وجہ ہماری افواج، ہمارے سفارت کار اور انٹیلی جنس ہے۔ وہ ہفتوں تک لوگوں کی مدد کرتے رہے، اور انہوں نے یہ سب داعش خراساں کی موجودگی میں کیا۔
آج کے بعد امریکہ دوسرے ممالک میں فوج بھیج کر وہاں قوم سازی نہیں کرے گا۔ افغانستان میں جس طرح ہم قوم سازی اور جمہوریت لانا چاہتے تھے، ایسا وہاں صدیوں میں نہیں ہوا۔صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز قوم سے اپنے خطاب میں افغانستان سے انخلا کی آخری تاریخ پر قائم رہنے کے فیصلے پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ اس اقدام سے وہاں سے ہزاروں امریکی اور افغان شہریوں کو نکال لیا گیا ہے اور اب وہاں محض ایک سو سے دو سو تک امریکی شہری باقی رہ گئے ہیں۔
بائیڈن نے کہا کہ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس وقت 100 سے 200 امریکی افغانستان میں موجود ہیں ،جن میں سے کچھ اپنی مرضی سے وہاں رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ رہ گئے ہیں ان میں سے زیادہ تر کے پاس دوہری شہریت ہے اور وہ وہاں طویل عرصے سے رہائش پذیر ہیں اور انہوں نے کافی عرصہ پہلے وہاں رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔
صدر نے مزید کہا کہ امریکہ انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے پرعزم ہے۔افغان لڑائی پر آنے والی لاگت کا ذکر کرتے ہوئے، صدر جوبائیڈن نے کہا کہ اس پر دو ٹریلین ڈالر خرچ آئے۔ 2400 سے زیاد امریکی فوجیوں کی ارتھی اٹھی، جن میں 13 فوجی چند ہی روز قبل داعش خراسان کی دہشت گردی کے دوران ہلاک ہوئے۔ 

متعلقہ خبریں

Back to top button