بین الاقوامی خبریں

جرمن کی کار ساز کمپنیوں کو عدالت میں کھڑا کیا جائے گا، جرمن ماحولیاتی تنظیمیں

بر لن ، ۴؍ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمنی کی ماحول دوست این جی اوز نے ملکی کارساز کمپنیوں کو عدالت میں لے جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان این جی اوز کے مطابق یہ کار ساز ادارے ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہے ہیں۔ماحول دوست تنظیم گرین پیس اور انوائرمنٹل ایکشن جرمنی (DUH) نے جمعہ تین ستمبر کو اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی جرمن کار ساز اداروں بی ایم ڈبلیو، BMW مرسیڈیز اور فولکس ویگن Volkswagen اور تیل و گیس کی بڑی کمپنی ونٹر شال ڈیا پر ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی صنعتی سرگرمیاں جاری رکھنے پر مقدمہ دائر کریں گی۔

ان تنظیموں کے وکلا ریمو کلنگر اور روڈا فیرہیون ہیں۔ ان وکلا نے مؤکلین کی جانب سے ان کی سرگرمیوں کے تناظر میں عدالتی کارروائی شروع کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔انہی دونوں وکلا نے اپنی عدالتی جد و جہد سے جرمن حکومت کو مجبور کیا تھا کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی گیسوں میں کمی کا نظام الاوقات مرتب کرے۔ جرمن حکومت نے سن 2050 تک سبز مکانی گیسوں کے اخراج صفر تک لانے کا نظام الاوقات اعلیٰ ترین عدالت میں جمع کروایا تھا۔جرمن کار ساز ادارے دھواں چھوڑنے والے انجنوں کی حامل گاڑیوں کی فروخت سن 2030 تک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

ریمو کلنگر اور روڈا فیرہیون نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ کار ساز اداروں کے خلاف جلد دائر کیے جانے والے مقدمے میں بھی وفاقی دستوری عدالت (BverfG) اْن اصولوں اور ضوابط کے تحت فیصلہ کرے گی، جس کا مظاہرہ اس نے جرمن حکومت کے خلاف دائر مقدمے میں کیا تھا اور اس کی روشنی میں نقصان دہ گیسوں کے اخراج کو صفر کے مقام پر لانے کے نظام الاوقات پیش کیا گیا تھا۔ جرمن حکومت کے خلاف دائر مقدمے میں مستقبل کی نسل کو محفوظ رکھنے کا موقف اپنایا گیا تھا۔

اب کار ساز اداروں کو بھی اسی موقف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انوائرمنٹل ایکشن جرمنی نے کہا ہے کہ تمام اداروں کو اعلیٰ ترین وفاقی دستوری عدالت کے فیصلے پر عمل کرنا لازم ہے کیونکہ اس کا تعلق ماحول کے تحفظ سے ہے۔مقدمے کے مدعیان کا کہنا ہے کہ جرمن کار ساز ادارے آلودگی کا باعث بننے والا دھواں چھوڑنے والے انجنوں کی حامل گاڑیوں کی فروخت سن 2030 تک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

یورپی یونین نے فضائی آلودگی کا باعث موٹر کاروں پر مکمل پابندی سن 2035 میں لگانے کا اعلان کر چکی ہے۔اسی طرح ان کا یہ کہنا ہے کہ تیل اور گیس تلاش کرنے والی ونٹر شال ڈیا سن 2026 تک نئے تیل کے کنویں ڈھونڈنے کا عمل جاری رکھے گی۔ a

متعلقہ خبریں

Back to top button