برطانوی وزیر خارجہ کا اہم بیان : ہم طالبان کوتسلیم نہیں کرتے-نئی افغان حکومت کی شکل واضح ہونے کے بعد تسلیم کے متعلق فیصلہ کریں گے: امریکہ-
نیویارک ، ۴؍ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکا افغانستان میں نئی حکومت کو تسلیم کرنے سے قبل یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ طالبان کی نئی حکومت کیسے بنتی ہے اور وہ کیا پالیسیاں اپناتی ہے۔امریکی ذرائع ابلاغ نے اس قبل رپورٹ کیا تھا کہ طالبان کے شریک بانی ملا برادر نئی افغان حکومت کی قیادت کریں گے۔
طالبان کے سیاسی دفتر کے انچارج ملا برادر کے ہمراہ طالبان کے مرحوم بانی ملا عمر کے بیٹے ملا محمد یعقوب اور شیر محمد عباس ستانکزئی شامل ہوں گے۔واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ میں ان رپورٹس پر تبصرہ کے لیے ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ انہوں نے مختلف رپورٹس دیکھی ہیں تاہم ان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ کیسی ہوگا، اس میں کون ہوگا اور کون نہیں، لہٰذا میں اس پر اپنا فیصلہ اور تبصرہ محفوظ رکھ رہا ہوں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جو بائیڈن انتظامیہ افغانستان کے نئے حکمرانوں سے کیا توقع رکھتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ جو بھی حکومت اب سامنے آئے گی اس میں حقیقی جامع شمولیت ہوگی، اس میں غیر طالبان بھی ہوں گے جو افغانستان میں مختلف برادریوں اور مختلف مفادات کے نمائندے ہیں ،تو ہم دیکھیں گے کہ حقیقت میں کیا سامنے آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ نئی افغان حکومت اپنے وعدے پورے کرے گی ،جو انہوں نے سفری آزادیوں، دہشت گردوں کو افغان سرزمین کے استعمال سے روکنے اور خواتین اور اقلیتوں کے حوالے سے کیے ہیں۔
توقع ہے کہ سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن رواں ہفتے قطر اور جرمنی کا دورہ کریں گے تاہم ان کے دفتر نے یہ نہیں بتایا کہ وہ قطر میں وہ طالبان حکام سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔طالبان قطر میں ایک سیاسی دفتر رکھتے ہیں جہاں طالبان اور امریکی حکام نے دو سال سے زیادہ عرصے تک امن مذاکرات کیے اور فروری 2020 میں ایک معاہدے پر دستخط کیا تھا۔
برطانوی وزیر خارجہ کا اہم بیان : ہم طالبان کوتسلیم نہیں کرتے ، دیگرممالک سے بھی تسلیم نہ کرنے کی اپیل کریں گے
برطانوی وزیرخارجہ ڈومینیک راب کا کہنا ہے کہ ہم طالبان کوتسلیم نہیں کرتے اوردیگرممالک سے بھی کہتے ہیں وہ یہی کریں۔برطانوی وزیرخارجہ ڈومینیک راب نے دورہ پاکستان کے حوالے سے ویڈیو بیان میں کہا کہ میں گذشتہ روز قطر کے دورے کے بعد پاکستان میں ہوں، قطر میں وزیرخارجہ سے کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی اور معاملات چلانے کیلئے انکی کوششوں پر بات کی، پاکستان میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔
ڈومینیک راب نے کہا کہ ملاقاتوں میں پاک افغان سرحد کی صورت حال پرگفتگوہوئی، میں صورت حال دیکھنے خود طورخم گیا، طورخم پرمیں نے مستقبل میں درپیش آنے والے چیلنجز کا جائزہ لیا، سرحد پار کرنے والے افراد کیلئے سکیورٹی انتظامات دیکھے۔ڈومینیک راب نے کہا کہ ہم طالبان کو تسلیم نہیں کرتے اوردیگرممالک سے بھی کہتے ہیں کہ وہ یہی کریں، ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کوکبھی بھی دہشگردوں کی پناہ گاہ نہ بننے دیا جائے، ہم ہر ایک قدم پر طالبان کو جج کریں گے انکے الفاظ نہیں بلکہ عمل سے۔



