بین الاقوامی خبریں

نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کے خلاف مقدمہ دوبارہ شروع

نیویارک،7ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)نائن الیون حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیح محمد اور چار دیگر افراد 15 برس سے گوانتانامو بے جیل میں ہیں۔ ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت ایسے وقت شروع ہو رہی ہے جب ٹوئن ٹاورز پر حملوں کے 20 برس مکمل ہونے والے ہیں۔

کیوبا کی گوانتاناموبے جیل میں تقریباً 15 سال سے قید خالد شیخ محمد اور چار دیگر ملزمان سن 2019 کے اوائل کے بعد پہلی مرتبہ منگل کے روز فوجی ٹرائیبونل کے سامنے پیش ہوں گے۔ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے مقدمے کی سماعت 2019 کے اوائل میں موخر کردی گئی تھی اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ دوبارہ وہیں سے شروع ہوگی جہاں اسے چھوڑ ا گیا تھا۔

اس مقدمے میں ملزمان کے وکلاء دفاع کی کوشش ہوگی کہ مدعا علیہان پر سی آئی اے کی حراست میں تشدد کرکے حکومت نے جو شواہد حاصل کیے ہیں انہیں غیر معتبر یا نا اہل قرار دیا جائے۔اس مقدمے کے آٹھویں اورنئے ملٹری جج ایئر فورس کے کرنل میتھیو میک کال نے اتوار کے روز اشارہ دیا کہ مقدمے کی سماعت سست رفتار سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل منگل کے روز ابتدائی سماعت ان کی اہلیت کے بارے میں ہوگی۔

دراصل فریقین کے وکلاء کو جنگی جرائم ٹرائیبونل میں یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ ممکنہ تعصب کے خدشے کے پیش نظر کسی نئے جج سے اس کی اہلیت کے حوالے سے سوالات کر سکتے ہیں۔ ہفتے کے بقیہ دنوں میں بیشتر اوقات فوجی استغاثہ اور وکلا دفاع کے درمیان میٹنگوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

فوجی وکلاء کی طرف سے شواہد فراہم کرنے سے انکار کے خلاف کئی عرضیاں داخل کی گئی ہیں اور وکلا دفاع کا کہنا ہے کہ مقدمے سے پہلے کا مرحلہ بڑی آسانی سے مزید ایک سال تک جاری رہ سکتا ہے اور اس دوران جیوری ٹرائل اور فیصلے کی کوئی امید نہیں ہے۔جب یہ پوچھا گیا کہ کیا یہ مقدمہ کبھی اپنے انجام کو پہنچ سکتا ہے تو وکیل دفاع جیمز کونیل نے کہا،’’مجھے نہیں معلوم۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ پانچوں ملزمین خالد شیخ محمد، عمار البلوچی، ولید بن عطش، رمزی بن الشیبہ اور مصطفی الحوساوی، لاغر ہیں اور سن 2006 سے 2006 کے درمیان سی آئی اے کے خفیہ سیاہ قید خانوں میں دی جانے والی شدید اذیت کے دیرپا اثرات کا شکار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان کو یہاں لائے جانے کے بعد سے گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران جس طرح سخت حالات میں اور الگ تھلگ رکھا گیا ہے، اس کا بھی ان پر مجموعی اثر ہے۔

ملزمان کے وکلا اپنے موکل کی دفاع کے لیے بعض خفیہ مواد کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن حکومت اسے فراہم کرنے سے منع کررہی ہے۔ ان خفیہ مواد میں دراصل تشدد کے اصل پروگرام سے لے کر گوانتاناموبے کے حالات اور ملزمان کی صحت وغیرہ کی تفصیلات موجود ہیں۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

متعلقہ خبریں

Back to top button