بین الاقوامی خبریں

پیرس دہشت گردانہ حملے ’میں داعش کا سپاہی ہوں‘ ملزم کا بیان

پیرس ،9ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پیرس میں دو ہزار پندرہ کے دہشت گردانہ حملوں کے زندہ بچ جانے والے واحد حملہ آور صالح عبدالسلام نے بدھ آٹھ ستمبر کو دوران سماعت عدالت میں ایک بیان دیا۔ ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ ’داعش کا ایک سپاہی‘ ہے۔فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں نومبر 2015میں بیک وقت کئی مقامات پر کیے گئے مربوط دہشت گردانہ حملوں میں 130 افراد مارے گئے تھے اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

ان حملوں کی ذمے داری دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کر لی تھی۔پیرس سے آمدہ رپورٹوں کے مطابق مراکشی نژاد فرانسیسی شہری صالح عبدالسلام نے اپنے داعش کا سپاہی ہونے سے متعلق بیان تقریباًچھ برس قبل 13 نومبر کے روز کیے گئے دہشت گردانہ حملوں سے متعلق مقدمے کی کارروائی کے آغاز پر دیا۔پیرس کی ایک عدالت میں اس مقدمے کی کارروائی کا آغاز انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے تحت ہوا۔

ملزم صالح عبدالسلام کو جب عدالت میں لایا گیا، تو وہ سیاہ لباس پہنے ہوئے تھا اور اس کا چہرہ بھی ایک سیاہ ماسک سے ڈھکا ہوا تھا۔اس مقدمے میں عدالتی کارروائی مجموعی طور پر 20 ایسے جہادیوں کے خلاف کی جا رہی ہے، جن پر ان حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ان میں سے اس وقت 31 سالہ صالح عبدالسلام اس خونریزی کے مرتکب حملہ آوروں میں سے زندہ بچ جانے والا واحد ملزم سمجھا جاتا ہے۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

ڈیڑھ درجن سے زائد ان دہشت گردوں نے یہ حملے چھ شراب خانوں اور ریستورانوں، باٹاکلاں کنسرٹ ہال اور ایک سپورٹس اسٹیڈیم میں کیے تھے۔ یہ حملے اتنے ہلاکت خیز تھے کہ انہیں بہت سے ماہرین نے یورپ کا نائن الیون قرار دیا تھا اور ان کی وجہ سے فرانس کی اپنے ہاں سلامتی انتظامات کے حوالے سے خود اعتمادی کو بھی شدید دھچکا لگا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button