اسلام آباد ،23ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان نے متنبہ کیا ہے کہ اگر طالبان افغانستان میں ایک جامع حکومت قائم کرنے میں ناکام رہے تو ملک خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے ایک انٹرویو کے دوران پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ اگر طالبان دیگر افغان دھڑوں کو حکومت میں شامل نہیں کریں گے تو جلد یا بدیر انہیں خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے افغانستان عدم استحکام اور افراتفری کا شکار ہو جائے گا۔
جو ان کے بقول دہشت گردوں کے لیے ایک مثالی جگہ ہو گی۔عمران خان نے یہ بات ایک ایسے وقت کہی ہے جب بین الاقوامی برداری طالبان سے ایک ایسی جامع حکومت کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے جس میں خواتین سمیت تمام شہریوں کے حقوق کو تحفظ حاصل ہو۔ اس سے قبل عمران خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں دیگر نسلی گروہوں کو ایک جامع حکومت میں شامل کرنے کے لیے طالبان سے بات چیت شروع کر دی ہے۔
وزیر اعظم خان نے کہا کہ سب کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول، ابھی تک افغانستان میں جامع حکومت قائم نہیں ہوئی ہے۔ لیکن انہیں توقع ہے کہ جلد اس میں پیش رفت ہو گی۔پاکستان کے سابق سفیر محمد شاہد امین کہتے ہیں کہ اگرچہ 1990 کی دہائی میں طالبان کے پہلے دورِ اقتدار مین دیگر غیر پشتون نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ لیکن طالبان کے لیے اس وقت افغانستان کی دیگر برادریوں ازبک و ہزارہ کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہے۔
شاہد امین کے بقول، اگر طالبان نے اندرونی طور پر ایک قابلِ قبول جامع حکومت تشکیل دینے کے طرف پیش رفت نہ کی تو یہ امر تاجک، ازبک اور ہزارہ برادریوں کی ناراضی کا سبب بنے گا جو کسی مرحلے میں خانہ جنگی کا باعث بن سکتی ہے اور اس سے نا صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔
البتہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برداری کی توقع ہے کہ پاکستان طالبان کو آمادہ کرنے کی کوشش کرے تو یہ مناسب ہے کیونکہ ان کے بقول اگر کوئی ملک طالبان پر اثر اندا ہوسکتا ہے تو وہ پاکستان ہی ہے۔



