
نیویارک،24ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی ایوان نمائندگان نے اسرائیل میں تعمیر ہونے والے ’آئرن ڈوم میزائل ڈیفنس سسٹم‘ کے لیے ایک ارب ڈالر کی اضافی رقم منظور کر لی ہے۔ اسرائیل نے اس کے لیے امریکا کا شکریہ ادا کیا ہے۔امریکی ایوان نمائندگان کانگریس نے 23 ستمبر کے روز بھاری اکثریت سے اس بل کو منظور کر لیا جس میں اسرائیل میں تعمیر ہونے والے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام کے لیے ایک ارب ڈالر کی اضافی رقم دینے کی بات کہی گئی ہے۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
ابتدا میں بعض ڈیموکریٹک ارکان کے اعتراض کی وجہ سے اس بل کو واپس لے لیا گیا تھا تاہم اس اقدام کو اسرائیل کے تئیں امریکی حمایت میں خاتمے کے اشارے کے طور دیکھا گیا اور اس پر شدید نکتہ چینی ہوئی، جس کے بعد اس بل کو کسی ترمیم کے بغیر دوبارہ پیش کیا گیا تھا۔اس بل کی حمایت میں 420 ارکان نے ووٹ کیا جبکہ نو ارکان نے اس کی مخالفت کی۔
اب اسے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا جہاں اس کی منظوری کے قوی امکان ہیں۔ صدر جو بائیڈن اسرائیل کی اضافی امداد کا پہلے ہی وعدہ کر چکے ہیں اور واضح کیا ہے کہ ان کی دستخط کے بعد اسرائیل کے دفاع کے لیے یہ اضافی رقم اسے مہیا کر دی جائے گی۔اسرائیل سے متعلق یہ اقدام ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب امریکہ میں بعض اعتدال پسند ڈیموکریٹک ارکان جو بائیڈن پر اس بات کے لیے سخت زور دے رہے ہیں کہ اسرائیل کو دی جانے والی امداد کو انسانی حقوق کے ریکارڈ سے مشروط کرنے کی ضرورت ہے۔
امریکہ کئی برسوں سے اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام کی ترقی میں مدد کر تا رہا ہے۔ یہ نظام اسرائیل کی طرف داغے جانے والے راکٹوں کو روکنے میں انتہائی کارآمد ثابت ہوا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینیٹ نے اضافی رقم کے بل کی منظوری کے لیے کانگریس کے ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس حمایت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں آج زبردست جواب ملا ہے۔ امریکی عوام اور ان کے نمائندوں کی مضبوط دوستی کے لیے اسرائیلی عوام ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
اس بل کی منظوری سے اس کی حمایت پر سوال اٹھانے والوں کو زبردست جواب ملا ہے۔ کچھ لبرل ڈیموکریٹس نے حال ہی میں امریکا اسرائیل پالیسی پر تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے خدشات کا اظہارکیا تھا۔انسانی حقوق سے متعلق اداروں کے دباؤ پر کانگریس کے بعض اراکین نے اسرائیل کو آئرن ڈوم کی مدد میں دی جانے والی رقوم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے رواں سال مئی میں فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پربدترین بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی اموات ہوئی تھیں۔ دوسری طرف اسرائیل کا کہناہے کہ اس نے غزہ کی پٹی سیداغے 4350 راکٹوں کو فضامیں تباہ کردیا تھا۔فنڈنگ کی مخالف ڈیموکریٹس ارکان میں رشیدہ طلیب نے گفتگو کے دوران کہا کہ ہمیں فلسطینیوں کو اسرائیلی حملوں سے محفوظ رکھنے کی ضرورت کے بارے میں بھی بات کرنی ہے۔ ایوان نمائندگان میں پیش کیا گیا بل ان انٹرسیپٹرز کو تبدیل کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کرتا ہے جو اس دوران استعمال کیے گئے تھے۔



