بین الاقوامی خبریں

امریکہ ہمیں پیٹریاٹ دے دیتا ،تو روس سے ایس400- لینے کی ضرورت ہی نہ رہتی: ایردوان

انقرہ ،30؍ ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے ترکی کی روس سے ایس۔400 دفاعی سسٹم کی خرید کے نیٹو اتحاد کو نقصان پہنچانے سے متعلق تنقیدوں کی نفی کی اور کہا ہے کہ اگر امریکی ہمیں پیٹریاٹ میزائل ڈھال سسٹم دے دیتے تو ایس۔400 کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی۔امریکی روزنامے نیویارک ٹائمز نے اقوام متحدہ کے 76 ویں جنرل اسمبلی اجلاس کے لئے نیو یارک میں قیام کے دوران صدر ایردوان کے ساتھ انٹرویو کے ایس۔400 سے متعلق حصے کو شائع کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے انٹرویو کے مذکورہ حصے کو صدر ایردوان کی کل روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے بارے میں شائع ہونے والی خبر میں جگہ دی گئی ہے۔ اس کے مطابق صدر ایردوان نے، روس کے ترقی یافتہ دفاعی سسٹم کو خرید کر مغرب کے سرفہرست عسکری اتحاد یعنی نیٹو کی جڑیں کھوکھلی کر نے سے متعلق، تنقید کی تردید کی ہے۔

خبر کے مطابق صدر ایردوان نے نیویارک ٹائمز کے لئے جاری کردہ بیان میں اس پہلو کی یاد دہانی کروائی ہے کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹالٹن برگ نے بھی اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات کی حمایت کی تھی کہ ترکی کو اپنے اسلحے کے آجر کو منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔

صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ہم اپنا اسلحہ خرید رہے ہیں۔اس سوال کے جواب میں کہ ایس۔400 خریدنا اتنا اہم ہے کہ اس کے لئے ترکی نے امریکہ کے ساتھ جس ناچاکی کو بھی مول لے لیا ہے؟ صدر ایردوان نے کہا ہے میرے خیال میں اتنا ہی اہم ہے۔ ہم اپنے دفاع کو اپنی مرضی کے مطابق مضبوط بنا سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں ترکی۔امریکہ تعلقات بنیادی حیثیت سے اپنی اہمیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ترکی کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔ ان کو برقرار رکھتے ہوئے تقویت دینا ضروری ہے۔ م ہے۔ہم اپنے دفاع کو اپنی مرس۔


  ایردوان روس میں صدر پوٹین سے ملاقات کا آغاز
 

صدر رجب طیب ایردوان نے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹِن کے ساتھ سوچی میں ملاقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس بالمشافہ ملاقات میں شام کے علاقوں تل رفعت اور منبج میں پی کیکے کی موجودگی کے معاملے سمیت آستانہ معاہدے کے احترام کی اہمیت اجاگر کی جائے گی۔

صدر روس کے زیر کنٹرول علاقوں میں ترک فوجیوں پر حملوں پر ترکی کی تشویش کا اظہار بھی کیا جائے گا۔ ادلب اور شام سے شامی مہاجرین کے نئے قافلوں کی ممکنہ ترکی آمد،لیبیا اور افغانستان سمیت دیگر علاقائی و عالمی مسائل کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس دورے میں صدر ایردوان کے ہمراہ،ترک خفیہ ایجنسی کے سربراہ خاقان فیدان اور صدارتی مشیر اطلاعات فخر الدین آلتون اور صدارتی ترجمان ابراہیم قالن بھی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button