
برلن،یکم اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمنی میں حالیہ قومی انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والی نئی 735 رکنی وفاقی پارلیمان پہلے سے کہیں زیادہ متنوع ہے۔ نئی بنڈس ٹاگ میں کم از کم 83 یا 11.3 فیصد ارکان کا تعلق تارکین وطن کے گھرانوں سے ہے۔ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے تینتیس سالہ رکن پارلیمان آرمانڈ سورن جو بارہ برس کی عمر میں کیمرون سے اپنے خاندان کے ہمراہ جرمنی منتقل ہوئےتھے۔
Join Urdu Duniya WhatsApp Group.
اتوار 26 ستمبر کو ہونے والے وفاقی جرمن الیکشن کے نتیجے میں جو نئی بنڈس ٹاگ وجود میں آئی ہے، اس کے ارکان کی مجموعی تعداد 735 بنتی ہے، جو اپنے حجم کے لحاظ سے کافی بڑی پارلیمنٹ ہے۔
2017ء میں ہونے والے قومی انتخابات کے بعد جو گزشتہ پارلیمنٹ وجود میں ؤئی تھی، اس میں تارکین وطن کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کی شرح 8.2 فیصد بنتی تھی۔نئی جرمن پارلیمان اب پہلے کے مقابلے میں نسلی، لسانی اور ثقافتی حوالوں سے اس لیے کہیں زیادہ متنوع ہے کہ اس میں ایسے سیاست دانوں کی تعداد، جن کا تعلق بیرون ملک سے ترک وطن کر کے جرمنی میں آباد ہونے والے افراد یا گھرانوں سے ہے، بڑھ کر اب کم از کم 11.3 فیصد ہو گئی ہے۔
اس کا ایک مطلب یہ بھی کہ نئی بنڈس ٹاگ کے 735 میں سے کم از کم 83 ارکان ایسے ہیں، جن کے والدین یا ان میں سے کسی ایک کا تعلق آبائی طور پر جرمنی سے نہیں تھا۔آرمانڈ سورن کا تعلق جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ایس پی ڈی سے ہے اور وہ پہلی مرتبہ بنڈس ٹاگ کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ ان کے رویے میں عاجزی اور احساس ذمہ داری دونوں ہی نمایاں ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے اور جس کو بھی یہ سونپی جائے، اسے اس کی اہمیت اور نوعیت کا پورا احساس ہونا چاہیے۔برلن میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ہیڈکوارٹر وِلی برانٹ ہاؤس میں انتخابی نتائج کے اعلان پر بڑی گہما گہمی پیدا ہوئی۔ ابھی تک یہ پارٹی الیکشن میں پچیس فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔
اس کامیابی کو پارٹی میں بہاریہ تبدیلی قرار دیا گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اگلے جرمن چانسلر کا تعلق ایس پی ڈی سے ہوتا ہے۔آرمانڈ سورن کیمرون میں پیدا ہوئے تھے اور وہ 12 برس کی عمر میں جرمنی آئے تھے۔اب ان کا شمار جرمنی کے وفاقی قانون ساز ادارے کے ان نئے ارکان میں ہوتا ہے، جن کی وجہ سے یہ مقننہ اب کئی حوالوں سے ماضی کے مقابلے میں زیادہ متنوع ہو گئی ہے۔
سورن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ابھی کل ہی ہماری پارٹی کے نو منتخب ارکان پر مشتمل پارلیمانی حزب کا پہلا اجلاس ہوا۔ مجھے اس حزب کی کثیرالنسلی اور کثیرالثقافتی لیکن بہت متنوع نوعیت دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔جرمن پارلیمان کو جرمن معاشرے اور تمام سماجی گروپوں کا نمائندہ ہونا چاہیے اور ایسا ہے بھی۔
بنڈس ٹاگ کا رکن منتخب ہونے یا اس پارلیمنٹ کے لیے ہونے والے الیکشن میں ووٹ دینے کا اہل ہونے کے لیے کسی بھی مرد یا خاتون کا جرمن شہری ہونا لازمی ہے۔جرمنی میں تارکین وطن کی آمد اور ان کے سماجی انضمام سے متعلق وفاقی کونسل کی ناظم الامور ڈینیس نرگس کے مطابق چند روز قبل ہونے والے فیڈرل الیکشن کے نتیجے میں جو بہت زیادہ نسلی تنوع دیکھنے میں آیا ہے، وہ بہت مثبت اور بڑی پیش رفت ہے۔
ڈینیس نرگس نے کہا کہ یہ بھی بہت مثبت تبدیلی ہے کہ خود تارکین وطن کے گھرانوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں میں بھی بڑا تنوع دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کا ایک ثبوت یہ کہ نئی بنڈس ٹاگ میں اب افریقی نڑاد جرمن مرد اور خواتین شہریوں کی تعداد بھی کافی زیادہ ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ نو منتخب ارکان پارلیمان میں ترک نڑاد جرمن سیاست دانوں کی تعداد بھی پہلے سے کافی زیادہ ہو گئی ہے اور یہ اضافہ صنفی سطح پر مردوں اور خواتین دونوں میں دیکھنے میں آیا ہے۔
حالیہ جرمن الیکشن کے نتائج کی رو سے یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ جرمن سیاسی جماعتوں میں تارکین وطن کے پس منظر کے حامل سیاست دانوں کو اپنے امیدوار بنانے کا رجحان قدامت پسند یونین جماعتوں میں کم اور بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والی پارٹیوں میں زیادہ ہے۔مثال کے طور پر بائیں بازو کی جرمن سیاسی جماعت دی لِنکے کے گزشتہ ارکان پارلیمان میں تارکین وطن کے پس منظر کے حامل افراد کا تناسب مقابلتاً سب سے زیادہ تھا، جو 28.2 فیصد بنتا تھا۔
اس کے برعکس چانسلر میرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین سی ڈی یو اور اس کی ہم خیال پارٹی کرسچن سوشل یونین یا سی ایس یو کے منتخب اراکین پارلیمان میں مائیگریشن بیک گراؤنڈ والے کامیاب سیاست دانوں کا تناسب سب سے کم ہے، جو محض 4.6 فیصد بنتا ہے۔
حالیہ جرمن الیکشن میں امیدواروں میں نسلی تنوع کے لحاظ سے اس مرتبہ جو زیادہ مثبت اور بھرپور پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے، اس پر اظہار اطمینان اپنی جگہ، لیکن اسی حوالے سے سیاسی اور معاشرتی سطحوں پر کئی دیگر رکاوٹیں ابھی باقی ہیں، جنہیں دور کیا جانا چاہیے۔



