بین الاقوامی خبریںسرورق

کامیڈی ,طنز و مزاح کے بے تاج بادشاہ عمر شریف انتقال کر گئے

برلن :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے عمر شریف کے خاندانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ طنز و مزاح کے بے تاج بادشاہ مانے جانے والے اداکار عمر شریف جرمنی کے اسپتال میں انتقال کر گئے ہیں۔ معروف اداکار عمر شریف دل کے عارضے کے علاج کی غرض سے منگل کو بذریعہ ایئر ایمبولینس امریکہ روانہ ہوئے تھے۔

سنیچر کو اینکرپرسن وسیم بادامی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر عمر شریف کے انتقال کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا کہ ’عمر بھائی ہم میں نہیں رہے۔جرمنی میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر محمد فیصل نےاپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’گہرے افسوس کے ساتھ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ عمر شریف انتقال کر گئے ہیں، ہم ان کے خاندان اور دوستوں سے تعزیت کرتے ہیں، ہمارے قونصل جنرل ہسپتال میں ان کے خاندان کی ہر طرح سے معاونت کے لیے موجود ہیں۔عمر شریف نے برسوں ملک کا نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں جو ان کے لیے دعا کی اپیل کر رہے تھے۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

عمر شریف کی طبیعت پیر کو اچانک بگڑ گئی تھی، ڈاکٹر طارق شہاب کے مطابق ڈائیلاسز کے دوران ان کا بلڈ پریشر خاصا کم ہوگیا تھا جس کے بعد عمر شریف کو انتہائی نگہداشت وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھا۔گذشتہ ماہ اسٹیج اور ٹی وی کے نامور کامیڈین کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں جن میں وہ ویل چیئر پر بیٹھے نظر آ رہے تھے۔ وہ عارضہ قلب، گردے اور دیگر امراض میں مبتلا تھے۔

عمر شریف کے بیٹے نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے درخواست کی تھی کہ ان کے والد کو علاج کے لیے امریکہ جانا ہے جس کے لیے انہیں مدد درکار ہے۔مشہور اداکار کے بیٹے کی اپیل سامنے آنے کے بعد سندھ کے وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے عمر شریف کے علاج کرانے کا اعلان کیا تھا۔

عمر شریف 19 اپریل 1955 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 14 برس کی عمر میں سٹیج پر اداکاری شروع کی۔مزاحیہ سٹیج ڈرامے ان کی وجہ شہرت بنے اور انہوں نے ٹی وی اور فلموں میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

عمر شریف کو ان کی خدمات کے اعتراف میں نگار ایوارڈ اور تمغہ امتیاز سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا تھا۔سوشل میڈیا پر پاکستان کی شوبز انڈسٹری سے وابستہ فنکار، سیاسی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے افراد لیجنڈری اداکار کے انتقال پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

گزشتہ دو دن سے عمر شریف انتہائی علیل تھے اور انہیں نمونیہ بھی لاحق ہوگیا تھا، تاہم ڈاکٹرز کو توقع تھی کہ ان کی طبیعت سنبھل جائے گی، جس کے بعد انہیں مزید علاج کے لیے امریکہ منتقل کیا جائے گا، تاہم دو اکتوبر کی دو پہر کو وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔
لیجنڈری کامیڈین کی موذی مرض کینسر میں مبتلا ہونے کی افواہیں 2017 میں پھیلی تھیں، اس وقت اداکار کی اسپتال کے بستر پر کھچوائی گئی تصویر وائرل ہونے کے بعد چہ مگوئیاں تھیں کہ وہ سنگین بیماری میں مبتلا ہیں، تاہم اس وقت بھی ان کے اہل خانہ نے ان کی بیماری پر وضاحت کی تھی کہ وہ سینے کے معمولی انفیکشن میں مبتلا ہیں۔عمر شریف نے 1970 کی دہائی سے اپنے کریئر کی ابتدا کی۔
ان کا اصل نام محمد عمر تھا۔ وہ پاکستانی مزاحیہ اداکار منور ظریف سے بہت متاثر تھے اور ان کو اپنا روحانی استاد بھی مانتے تھے لہٰذا انہی کے نقشِ قدم پر چل کر اپنی کامیڈی کے خدوخال تشکیل دیے۔انہوں نے انتہائی کم عمری میں کیریئر کا آغاز کیا اور محض 14 برس کی عمر میں پہلے ڈرامے میں جلوہ گر ہوئے اور پھر انہوں نے پوری زندگی اسکرین، پردے اور تھیٹر پر گزاری۔
انہوں نے متعدد لازوال اسٹیج ڈرامے لکھے، جن میں سے ‘بکرا قسطوں پہ’ بھی تھا، عمر شریف کا مذکورہ تھیٹر وہ ڈراما تھا جس کی وجہ سے انہیں عالمی سطح پر شہرت ملی۔عمر شریف نے فلمی صنعت کا رُخ بھی کیا اور فلمیں بنانے کے ساتھ ساتھ ان میں کام بھی کیا۔
اس تناظر میں ان کی مقبول فلم ‘مسٹر 420’ ہے، انہوں نے مسٹر 420 (1992ء)، مسٹر چارلی (1993ء) اور مس ٹربل سم (1993ء) جیسی فلموں کی نہ صرف ہدایت کاری کی بلکہ ان کی کہانی بھی لکھی۔
عمر شریف نے 3 شادیاں کیں، ان کی بیگمات کے نام دیبا عمر، شکیلہ قریشی اور زرین غزل ہیں، صرف پہلی بیگم سے ان کے 2 بیٹے ہیں، انہی سے ایک بیٹی تھی جن کا انتقال ہوچکا ہے۔ ان کے ایک قریبی دوست اور ساتھی اداکار شرافت علی شاہ کے خیال میں ‘عمر شریف کی بیماری کے پیچھے اصل وجہ ذہنی دباؤ تھی۔ انہوں نے پیشہ ورانہ کام کو بھی اپنے اوپر حاوی رکھا اور پھر نجی زندگی کے مسائل نے بھی ان کو اپنی گرفت میں لیے رکھا’۔

متعلقہ خبریں

Back to top button