دوحہ ، 3اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)قطر میں پہلی مرتبہ قانون سازی کے انتخابات میں کھڑی تمام 26 خواتین امیدواروں میں سے کسی کا انتخاب نہیں ہوسکا۔ غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق خواتین امیدواروں نے قطری عوام کی جانب سے انتخاب نہ کیے جانے پر افسوس کیا تاہم انہوں نے آئندہ انتخابات میں دوبارہ حصہ لینے کے عزم کا اظہار کیا۔
ووٹ 45 نشستوں والی مشاورتی شوریٰ کونسل کے 30 ارکان کے لیے تھا جبکہ قطر کے امیر کونسل کے باقی 15 اراکین کے تقرر کرنے کا حق رہتے ہیں۔ خیال رہے کہ مشاورتی شوریٰ کونسل پالیسیوں کے محدود دائرہ کار کی منظوری دے سکتا ہے جو سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرتا ہے۔ دوحہ کے ضلع مرکھیا کی انتخابی امیدوار اور 59 سالہ نرسنگ منیجر عائشہ الجاسم نے کہا کہ ’تمام مردوں کا ہونا قطر کا وڑن نہیں ہے‘۔
انہوں نے قطری خواتین پر زور دیا کہ وہ ’جس چیز پر یقین رکھتی ہیں اس کی آواز اٹھانا شروع کریں‘ اور مستقبل میں مضبوط خواتین امیدواروں کو ووٹ دیں۔عائشہ نے کہا کہ قطر میں پہلی بار سیاسی عمل میں حصہ لینے کا موقع ہے۔ایک اور خاتون انتخابی امیدوار جیسم نے کہا کہ ان کا سامنا کچھ ایسے مردوں سے ہوا ہے جن کا خیال تھا کہ خواتین کو انتخابی عمل میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔
اپنی انتظامی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے انتخابی مہم میں صحت، نوجوانوں کے روزگار اور ریٹائرمنٹ جیسی پالیسی کو ترجیح دی۔ان کا کہنا تھا کہ ’میں صرف یہ کہتی ہوں کہ میں مضبوط ہوں، میں قابل ہوں، میں اپنے آپ کو ایک مرد کے مقابلے میں فٹ دیکھتی ہوں، اگر آپ مجھے کمزور دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ آپ پر منحصر ہے، لیکن میں کمزور نہیں ہوں۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
مردوں اور عورتوں کے لیے پولنگ اسٹیشن میں داخل ہونے والے لیے الگ الگ راستے تھے۔قطر نے حالیہ برس میں خواتین کے حقوق میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں جن میں خواتین کو آزادانہ طور پر ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کی اجازت بھی شامل ہے۔تاہم حقوق کے گروپوں کی جانب سے سرپرستی کے نظام جیسے مسائل پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں عورت کو شادی، سفر اور تولیدی صحت تک رسائی کے لیے مرد کی اجازت درکار ہوتی ہے۔
انتخابی امیدوار اور وزارت خارجہ کی رکن نے عورتوں اور بچوں کے حقوق سے متعلق ایک باڈی کی تشکیل چاہتی تھیں۔ متعدد خواتین امیدوار کی کوشش تھیں کہ وہ ان قطری بچوں کو قومی شناخت دلانے میں کردار ادا کرسکیں جن کی والدہ نے غیرملکیوں سے شادی کی لیکن اب وہ قطری قانون کے مطابق شہریت منتقل نہیں کرسکتیں۔ خاتون مصنف دفا شوریٰ کونسل میں خواتین کی مخالفت کرنے والوں کو ایک رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھتی۔
انہوں نے کہا کہ قانون مجھے یہ حق دیتا ہے، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سخت مزاج کے حامل افراد اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ 34 سالہ انتخابی امیدوار المہا الماجد نے اپنی پالیسیوں کے ساتھ ’ذہنیت‘ کو تبدیل کرنے کے لیے انتخابات میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ ہاں! یقینی طور پر مردوں کو راضی کرنا کہ وہ خواتین کو ووٹ ڈالیں یہ ایک مشکل کام ہے اور میں اس معاشرے میں رہتے ہوئے یہ اضافی کوشش کرنے کو تیار ہوں۔



