
نیویارک، 8اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)طب، کیمسٹری، فزکس اور ادب کے شعبے میں نوبل پرائز 2021 اپنے نام کرنے والی تمام آٹھ شخصیات مرد ہیں جس کے بعد خاص طور پر سائنس کے شعبے میں دیئے جانے والے ان ایوارڈز میں تنوع کے حوالے سے بحث ایک بار پھر زور و شور سے شروع ہو گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق پیر کے روز آرڈم پیٹاپاؤشین Ardem Patapoutianاور ڈیوڈ جولیس David Julius نے میڈیسن کا نوبل انعام جیتا جبکہ فزکس کے شعبے میں جیورجیو پریسی Giorgio Parisi، سیوکورو مانابی Syukuro Manabe اور کلاس ہیسلمن Klaus Hasselmann نے نوبل انعام اپنے نام کیا۔ بینجمین لسٹ Benjamin List اور ڈیوڈ میک میلان David MacMillan کو کیمسٹری میں مالیکیول کے حوالے سے کام پر اس انعام سے نوازا گیا۔
تنزانیہ کے ناول نگار 72 سالہ عبدالرزاق گرناہ بدھ کو ادب میں نوبل انعام جیتنے والے زیریں صحارا کے افریقہ سے تعلق رکھنے والے دوسرے افریقی نژاد مصنف ہیں۔عبد الرزاق گرناہ نو آبادیاتی افریقہ کے مسائل اور دنیا پر نو آبادیاتی نظام کے اثرات کو اپنے ادبی تخلیقات کا حصہ بناتے رہے ہیں۔
سویڈش ایسوسی ایشن فار فیمیل اکیڈمکس کی سربراہ این میری کا کہنا ہے کہ ابھی دو انعام رہتے ہیں، امن انعام اور اکانومی انعام۔ نوبل کمیٹی کے پاس خاتون کو اس اعزاز سے نوازنے کا موقع موجود ہے۔بیلاروس کی جلاوطن رہنما سویٹلانا ٹیکھانوسکایا اور گریٹا تھنبرگ ان خواتین میں سے ہیں جنہیں ناروے میں دیے جانے والے نوبل امن انعام کے حق دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نارویجین نوبل کمیٹی کی سربراہ ایک خاتون ہیں اور اس کے ممبران میں بھی زیادہ تر خواتین ہی شامل ہیں۔پروفیسر ونٹسن موگن یونیورسٹی آف ایسٹ لندن میں اپنی خدمات سرانجام دینے والی ٹاکسی کالوجسٹ ہیں اور سائنس کے شعبے میں ملنے والے انعامات میں عدم مساوات کا جائزہ لینا ان کی تحقیق کا حصہ ہے۔
مورگن کہتی ہیں کہ دنیا کی آبادی اور انعام جیتنے والوں کے درمیان خلیج کی بات کی جائے تو سب سے بڑی خلیج صنفی ہے۔ انعام جیتنے والی خواتین کی تعداد بہت بہت تھوڑی ہے۔



