بین الاقوامی خبریں

دوران تین ہزار برس قدیم قبریں دریافت، ہتھیار اور دیگر نوادرات مدفن

پشاور، 10اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)خیبر پختونخوا کے آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے چترال کے ایک گاؤں میں کھدائی کے دوران تین ہزار برس قدیم قبریں دریافت کی ہیں۔ ان قبروں میں ہڈیوں کے علاوہ مٹی، لوہے، تانبے کے برتن اور دیگر نوادرات بھی موجود ہیں۔ ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ آثار قدیمہ کے اسسٹنٹ پروفیسر عبدالحمید خان کا کہنا تھا کہ کھدائی کے دوران ملنے والی ہڈیوں کو ڈی این اے کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا جس سے ان کی چترال کی موجودہ آبادی سے تعلق کے بارے میں معلومات کے حصول کی کوشش کی جائے گی۔

چترال میوزیم کے اہلکار میر حیات خان نے بتایا کہ جس جگہ پر قدیم قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ وہ ہوائی اڈے کے قریب سنگور نامی گاؤں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانسہرہ کی ہزارہ یونیورسٹی کے شعبہ آثار قدیمہ کے ماہرین اور اساتذہ اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں اور اس پرانے قبرستان میں کھدائی تین ماہ سے جاری ہے۔

ہزارہ یونیورسٹی کے پروفیسر عبد الحمید اس منصوبے کے نگران ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک 15 قبروں کی کھدائی مکمل کی گئی ہے اور ان قبروں میں سے انسانی باقیات کو جمع کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ان قبروں میں انسانی ہڈیوں کے علاوہ مٹی کے برتن، لوہے اور تانبے کے اوزار اور زیورات بھی ملے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ چترال کے حوالے سے یہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ایک تحقیقی منصوبہ ہے۔ اس تحقیق میں چترال میں رہائش پذیر لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے کہا ہے کہ کھدائی کے دوران دریافت ہونے والی ہڈیوں اور انسانی اعضا کے باقیات کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا۔

Join Urdu Duniya WhatsApp Group.

جس کا مقصد تین ہزارہ سال قبل مرنے والے اور موجودہ چترال میں مقیم موجود لوگوں کے درمیان رشتوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈی این اے ٹیسٹ سے ماضی کے بیماریوں اور خوراک کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔میر حیات خان کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق تین ہزار سال پہلے مرنے والے لوگوں کا تعلق آرین نسل سے ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button