بین الاقوامی خبریں

اسرائیل، اردن کو پانی کی فراہمی دوگنی کرنے پر رضامند

مقبوضہ بیت المقدس، 13اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیل اپنے پڑوسی ملک اردن کو دگنی مقدار میں پانی کی فراہمی کے لیے باضابطہ طور پر راضی ہوگیا جو دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال جولائی میں دونوں ممالک نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل، اردن کو پانی کی فروخت دوگنی کرکے اسے سالانہ 5 کروڑ کیوبک میٹر پانی کرے گا۔

Join Urdu Duniya WhatsApp Group.

اسرائیل کی وزیر برائے انفرا اسٹرکچر، توانائی و آبی وسائل کیرین الحرار نے اپنے بیان میں کہا کہ نیا معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

کیرین الحرار نے اس شعبے میں دوطرفہ تعلقات کو منظم کرنے والی مشترکہ آبی کمیٹی کے کے نمائندوں کے درمیان معاہدے پر دستخط کی تقریب کے لیے اردن کا دورہ کیا۔ اردن کی وزارت آب و آبپاشی کے ذرائع نے تصدیق کی کہ دونوں فریقین نے اردن کے لیے معاہدے پر دستخط کیے تاکہ اردن، امن معاہدے کے فریم ورک سے باہر اضافی مقدار میں پانی کی خریداری کر سکے۔

علاقائی ماحولیاتی گروپ مشرق وسطیٰ ایکوپیس کے اسرائیل کے ڈائریکٹر گیڈون بروم برگ کا کہنا تھا کہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخ میں سب سے زیادہ پانی کی خرید و فروخت کو پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ بڑھتی ہوئی تفہیم کی عکاسی کرتا ہے کہ آب و ہوا کا بحران، جو پہلے ہی خطے کو بہت زیادہ متأثر کر رہا ہے، تعاون کو بڑھانے کا باعث بن سکتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیل زیر زمین پانی کے وسائل پر قابض ہے اور اسے غیر منصفانہ طور پر تقسیم کرتا ہے۔گروپ نے اپریل میں جاری رپورٹ میں اسرائیل پر نسل پرستی کے جرائم کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھا تھا کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی متعصبانہ آبی پالیسیوں کے باعث یہودی شہریوں کو کثرت سے پانی کے استعمال کی اجازت دیتی ہے جبکہ کچھ فلسطینی برادریوں کو بنیادی ضروریات کے لیے بھی پانی کے فقدان کا سامنا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اوسلو معاہدے کی پاسداری کرتا ہے جبکہ ایچ آر ڈبلیو کو اسرائیل مخالف ایجنڈاقرار دیتا ہے۔اردن اور اسرائیل کے درمیان آبی تعاون پچھلے سو سال سے جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button