مقبوضہ بیت المقدس ، 3نومبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بیت المقدس سے بے دخل کئے گئے فلسطینی پارلیمنٹ کے رکن احمد عطون نے کہا ہے کہ بیت المقدس میں الشیخ جراح Sheikh Jarrah کے مقام سے فلسطینی شہریوں کی بے دخلی کے معاملے پر اسرائیل سے سمجھوتہ کرنے کی تجویز قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری جنگ ثابت قدمی اور فلسطینی قوم اور وطن کے وجود کی جنگ ہے اور ہم یہ جنگ جاری رکھیں گے۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
خبر کے مطابق فلسطینی پارلیمنٹ کے رکن احمد عطون نے ایک پریس بیان میں کہا کہ الشیخ جراح کے فلسطینی باشندوں کو سمجھوتے کی تجویز پیش کرنا انہیں ان کے حقوق سے دست بردار کرنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تجویز ہماری فطری حق ، قومی اور اسلامی حق سے محروم رکھنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس سمجھوتے کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے الشیخ جراح کے فلسطینی باشندوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی دشمن کی چالوں میں نہ آئیں اور دشمن کی تجاویز مسترد کردیں۔الشیخ جراح کا کہنا تھا کہ اب اس طرح کی تجاویز اور سمجھوتوں کا سلسلہ چل پڑا تو فلسطینی قوم اپنے حقوق سے مزید محروم ہوجائیں گے۔
ادھر فلسطین کے ممتاز عالم دین اور مسجد اقصیٰ کے خطیب الشیخ عکرمہ صبری نے الشیخ جراح کے فلسطینی باشندوں پر زور دیا ہے کہ وہ قابض اسرائیلی ریاست کی طرف سے پیش کردہ سمجھوتے کی تجاویز مسترد کردیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل کی سپریم کورٹ نے الشیخ جراح کے فلسطینی باشندو پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیلی ریاست کے ساتھ سمجھوتہ کریں اور سمجھوتے کے تحت اپنی جائیدادیں اور زمین خالی کردیں۔
الشیخ جراح القدس میں واقع ایک قصبہ ہے جسے خالی کرانے کے لیے اسرائیلی ریاست طاقت کا بے تحاشا استعمال کرتی آرہی ہے تاہم فلسطینی شہریوں کی طرف اسرائیلی دشمن کی طرف سے اس اقدام کے خلاف ثاب قدمی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔



