بغداد، 6نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جمعہ کو عراقی سکیورٹی فورسز اور انتخابی نتائج کو مسترد کرنے والے مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب مظاہرین نے بغداد نے گرین زون میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز نے گرین زون پر قابو پالیا اور مظاہرین کو وہاں سے جانے پر مجبور کردیا۔
گرین زون کے گیٹ کے سامنے سے مظاہرین پہلے ہی پیچھے ہٹ چکے ہیں۔عراقی وزارت صحت نے کہا ہے کہ جھڑپوں میں 125 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 27 عام شہری اور باقی سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں، جن پر مظاہرین نے پتھراؤ کیا۔وزارت صحت نے سابقہ اطلاعات کی تردید کی ہے کہ مظاہروں کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس نے گرین زون میں زخمیوں کے درمیان کسی گولی لگنے کے واقعہ کی بھی تردید کی۔ اور عراقی السامریہ چینل نے جمعہ کے روز ایک سکیورٹی ذریعہ کے حوالے سے بتایا کہ وسطی بغداد میں سیکورٹی فورسز اور پارلیمانی انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنے والے مظاہرین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ ذرائع نے جس کی شناخت چینل کی طرف سے ظاہر نہیں کی گئی، نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جب کہ مظاہرین نے وسطی بغداد میں گرین زون کے قریب میں بھی سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔
درایں اثنا الحکمہ گروپ کے سربراہ عمار الحکیم نے عراقی انتخابات کے نتائج کو مسترد کرنے والے مظاہروں کی ضرورت پر زور دیا کہ وہ اپنے پرامن فریم ورک سے الگ نہ ہوں۔ الحکیم نے تمام جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اس حساس حالات میں اعلیٰ ترین قومی مفاد کو ترجیح دیں۔انہوں نے عراق میں انتخابی کمیشن اور عدالتی ادارے سے موصول ہونے والی اپیلوں اور اعتراض کرنے والی قوتوں کے اعتراضات کے منصفانہ حل پر زور دیا۔
انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی صدر تحریک کے رہنما مقتدیٰ الصدر نے کہا ہے کہ انتخابی چیلنجوں کے لیے پرامن مظاہروں کو تشدد اور ریاست کو نیچا دکھانے کے احتجاج میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔الصدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ریاست کو پرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔
گرین زون کے آس پاس کے علاقے میں گرین زون گیٹ کے قریب مظاہرین کے ایک خیمے کے اندر آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں ان کے اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم ہوا۔دریں اثنا، عراقی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ سیکیورٹی نے گرین زون کے آس پاس کے علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کردی ہے۔



