استنبول،22دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ترکی کو اپنے ہاں صرف اقتصادی صورت حال میں ابتری ہی کا سامنا نہیں بلکہ اشیائے صرف کی قیمتیں بھی مسلسل بہت زیادہ ہوتی جا رہی ہیں۔
صدر ایردوآن کے لیے ملک میں افراط زر کی بہت اونچی شرح سیاسی طور پر بہت خطرناک ہو سکتی ہے۔ترک کرنسی لیرا کی قدر میں اب تک جو بہت زیادہ کمی ہوئی، اس کیخلاف انقرہ حکومت تاحال کئی اقدامات کا اعلان کر چکی ہے۔
صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا ہے کہ حکومت عام شہریوں کی طرف سے بچائی گئی رقوم کی حفاظت بھی کرنا چاہتی ہے اور ترک لیرا کی قدر میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ کا سدباب بھی۔ اس اعلان کا نتیجہ یہ کہ وہی ترک لیرا جو اسی ہفتے امریکی ڈالر اور یورو کے خلاف اپنی قدر میں ریکارڈ حد تک کمی کا سامنا کر چکا تھا، ان دونوں بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں اپنی شرح تبادلہ کو دوبارہ 25 فیصد تک بہتر بنانے میں کامیاب رہا۔
صدر ایردوآن نے اپنی کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ مستقبل میں ترک عوام کی طرف سے بچتی رقوم کے طور پر بینکوں میں جمع کردہ مالی اثاثوں کی بہتر حفاظت کی جائے گی۔ رجب طیب ایردوآن کے مطابق ترک شہریوں نے اپنی جو رقوم بینکوں میں جمع کرا رکھی ہیں اور جن پر متعلقہ بینکوں نے طے شدہ شرح سے منافع کے وعدے بھی کر رکھے ہیں، اگر لیرا کی قدر میں کمی کی شرح اس منافع سے کم رہی، تو ایسے شہریوں کو ہونے والے مالیاتی نقصان کی تلافی بھی کی جائے گی۔
صدر ایردوآن نے کہاکہ اب ترک شہریوں میں سے کسی کو بھی اپنی مالی بچت کو لیرا کے بجائے کسی غیر ملکی کرنسی میں بدلوانا نہیں پڑے گا، صرف اس خوف کے باعث کہ اسے سود کے طور پر مالی منافع کی نسبت لیرا کی قدر میں کمی کے باعث نقصان زیادہ ہو گا۔
صدر ایردوآن نے ملکی معیشت اور کرنسی کی قدر و قیمت میں اتار چڑھاؤ سے متعلق جو بیان دیا، اس سے چند ہی گھنٹے پہلے تک ملکی مالیاتی منڈیوں کو رواں ہفتے کے دوران مسلسل دوسرے روز بھی انتہائی غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا سامنا رہا تھا۔
اس دوران ایک امریکی ڈالر کی قیمت پہلی بار 18 ترک لیرا سے بھی زیادہ ہو گئی تھی جبکہ ایک یورو بھی اپنی قدر میں 20 لیرا سے زیادہ تک ہو گیا تھا۔رجب طیب ایردوآن کے اعلان اور عوامی بچتی رقوم کے تحفظ کے عزم کے اظہار کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ امریکی ڈالر اور یورپی مشترکی کرنسی یورو کے مقابلے میں ترک لیرا کی قدر میں تقریباً ایک چوتھائی کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
منگل کی سہ پہر تک اپنی قدر میں دوبارہ بہت زیادہ بہتری کے ساتھ ترک کرنسی ایک بار پھر اتنی مضبوط ہو چکی تھی کہ ایک امریکی ڈالر 13.27 لیرا اور ایک یورو 14.97 لیرا کے برابر ہو چکا تھا۔ترک کرنسی لیرا کو حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں اپنی شرح تبادلہ کے لحاظ سے جس مسلسل دباؤ کا سامنا رہا، اس کی سب سے بڑی وجہ ترک مرکزی بینک کے قابل اعتماد ہونے میں ہونے والی متواتر کمی بنی ہے۔



