
نیویارک،28 دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ایک ایسے وقت میں جب اومیکرون کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔نیویارک میں صحت کے حکام نے کہا ہے کہ اسپتال میں داخل ہونے والے بچوں کی تعداد نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے۔ ریاست نیویارک کے محکمہ صحت نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ کرونا میں مبتلا بچوں کے اسپتال میں داخلے کی رفتار میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ پانچ دسمبر سے رواں ہفتے کے آغاز تک 18 سال سے کم عمر بچوں کے اسپتال میں داخل ہونے کے واقعات میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔محکمہ نے مزید کہا کہ ان میں سے تقریباً نصف تعداد ان بچوں کی ہے جن کی عمریں پانچ سال سے کم ہیں۔ یہ وہ گروپ ہے جو ویکسین لگوانے کا اہل نہیں ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پچھلے سات دنوں میں روزانہ اوسطاً 190,000 نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔کرونا وائرس کے علاج کے لیے فائز کی تیار کردہ گولیاں 90 فی صد مؤثر ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
کرسمس اور تعطیلات کے موقع پر امریکیوں نے اپنے عزیزوں اور خاندان کے ساتھ ملنے کے لیے بڑے پیمانے پر سفر کیا جو کرونا کے نئے کیسز میں تیزی سے اضافے کی ایک اہم وجہ ہے۔ بڑھتے ہوئے کرونا انفکشن کے باعث اکثر مقامات پر لوگوں کو اپنا کرونا ٹیسٹ کرانے کے لیے وقت نہیں مل پا رہا۔
امریکہ میں وبائی امراض کے اعلیٰ ترین وفاقی مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا کہ انہیں کرونا ٹیسٹنگ کے مسئلے کا علم ہے اور وہ ٹیسٹنگ کے زیادہ مراکز کا انتظام کر رہے ہیں۔ڈاکٹر فاؤچی نے اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کرونا ٹیسٹنگ کے لوگوں کو پیش آنے والی مشکلات کا علم ہے اور ہمیں توقع ہے کہ جنوری کے آغاز تک یہ مسئلہ حل کر لیا جائے گا۔
گزشتہ ہفتے صدر جو بائیڈن نے کوویڈ-19 کے خلاف لڑائی میں حکومت کی نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کرونا کی گھر پر ٹیسٹنگ کے لیے 50 کروڑ کٹیں مفت فراہم کرنے کا بندوبست کر رہے ہیں۔
اسپتالوں پر کرونا وائرس کے مریضوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور ٹیسٹنگ کے مراکز پر طویل قطاروں کے علاوہ امکرون ویرینٹ نے امریکہ بھر میں فضائی کمپنیوں کو اپنی سینکڑون پروازیں منسوخ کرنے پر مجبور کر دیا، کیونکہ ان کا عملہ وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد قرنطینہ میں چلا گیا ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں کیے جانے والے حالیہ مطالعاتی جائزوں سے پتا چلا ہے کہ امکرون ویرینٹ میں مبتلا افراد کی اسپتال میں داخلے کی شرح اس سے قبل کے کرونا ویرینٹس کے مقابلے میں کم ہے اور یہ کہ اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت بھی کم ہی پڑتی ہے۔



