بین الاقوامی خبریں

    کراچی کی مدینہ مسجد پر تنازع : مسئلہ قانون و شریعت کا ہے یا جذبات کا؟

کراچی ، 7جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کراچی کے علاقے طارق روڈ پر واقع مدینہ مسجد کو گرانے کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد شہر میں سرکاری اراضی پر غیر قانونی تعمیرات کا مسئلہ ایک بار پھر زیرِ بحث ہے۔ لیکن اس بار یہ مسئلہ بھی بحث میں شامل ہو گیا ہے کہ ایسی مسجد کی شرعی حیثیت کیا ہے جو کسی غیر قانونی زمین یا رفاہی پلاٹ پر بنائی گئی ہو۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کراچی تجاوزات کیس کی سماعت کرنے والے بنچ نے 28 دسمبر 2021 کو کراچی کے معروف کاروباری علاقے طارق روڈ پر واقع دل کشا پارک کی اراضی بحال کرانے کا حکم دیا تھا جہاں اس وقت مدینہ مسجد واقع ہے۔عدالتی فیصلے کے مطابق مدینہ مسجد کو جس 1100 گز زمین پر تعمیر کیا گیا ہے وہ مفادِ عامہ کے حامل دل کشا پارک کی ہے۔ لیکن مدینہ مسجد انتظامیہ کا موقف ہے کہ مسجد کی تعمیر کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے جس کے بعد پارک کی زمین پر مسجد قائم کی گئی۔
مذہبی اسکالرز اور علماء کے مطابق قبضہ کی گئی زمین پر مسجد بنانا شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔ لیکن مدینہ مسجد سے متعلق جن علما سے بات کی گئی ،ان کا کہنا تھا کہ چوں کہ یہ زمین قبضہ کی گئی نہیں ہے اس لیے اس پر شریعت کے اس اصول کا اطلاق نہیں ہوتا۔اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مفتی محمد زبیر کہتے ہیں کہ شریعت کا یہ اصول طے شدہ ہے کہ قبضے کی زمین پر مسجد تعمیر نہیں کی جا سکتی۔
لیکن مدینہ مسجد کے معاملے کے کئی دیگر قانونی اور شرعی پہلو بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مدینہ مسجد کی تعمیر کی قانونی دستاویزات موجود ہیں، متعلقہ اداروں نے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کیا اور نقشہ منظور کیا جس کے چالان بینکوں میں جمع کرائے گئے۔
اس لیے مدینہ مسجد پر قبضے کی زمین پر تعمیر کا اصول نافذ نہیں ہوتا۔مفتی زبیر کے بقول ایسی مسجد جس کی تعمیر کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہوں وہ شرعی مسجد کے زمرے میں آتی ہے اور اسے مسمار کرنے کا حکم جاری کرنا خلافِ آئین و شریعت ہے۔
البتہ معروف مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی کہتے ہیں کہ زمین کسی فرد کی ہو یا حکومت کی، اسے خلافِ قانون استعمال میں نہیں لایا جا سکتا۔جاوید غامدی نے کہا کہ مسجد کی تعمیر کی دو ہی صورتیں ہیں، یا تو کوئی جگہ خرید کر اس پر مسجد تعمیر کی جائے یا حکومت سے اجازت لے کر مسجد بنائی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جگہ پر ناجائز قبضہ کر کے تعمیر کی گئی مسجد کو مسجد کہنا ہی دینی لحاظ سے جائز نہیں، اس  لیے ایسی تعمیر کو گرانے میں کوئی قباحت نہیں۔مدینہ مسجد کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ دل کشا پارک کی زمین پر 1980 میں مسجد کی بنیاد رکھی گئی تھی جو ٹرسٹ کے زیرِ انتظام ہے۔
یہ ٹرسٹ مسجد کی بنیاد رکھنے کے دو برس بعد 1982 میں حکومت پاکستان سے رجسٹرڈ کرایا گیا تھا۔مسجد کا انتظام سنبھالنے والے ٹرسٹ کے چیئرمین حافظ عبدالرحمٰن شاہجہان کا کہنا ہے کہ انہوں نے عدالت میں اپنا موقف پیش کیا تھا کہ تمام قانونی تقاضوں کے بعد مسجد تعمیر کی گئی تھی۔
ان کے بقول ہمارا موقف یہی ہے کہ مسجد اللہ کا گھر ہے جسے گرایا نہیں جا سکتا۔مدینہ مسجد کے معاملے میں اب تک انتظامیہ کی جانب سے نوٹس جاری کرنے کے علاوہ مسجد کو گرانے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے منگل کو مدینہ مسجد کے کیس کی سماعت کے دوران مسجد کو مسمار کرنے کے اپنے حکم پر نظر ثانی کی اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس میں کہا تھا کہ عدالت نے اپنے فیصلے واپس لینا شروع کیے تو انسدادِ تجاوزات کے خلاف جاری کارروائی کا کیا فائدہ ہو گا؟ماضی میں سندھ پولیس کے افسران بھی یہ کہتے رہے ہیں کہ شہر میں سیکڑوں مساجد اور امام بارگاہیں تجاوزات کر کے قائم کی جا چکی ہیں جنہیں ہٹانا اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بس کی بات نہیں۔مدینہ مسجد ٹرسٹ نے 1997 میں مسجد کا الحاق دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے کراچی کے ایک معروف مدرسے جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن سے منسلک علامہ بنوری ٹرسٹ سے کر دیا تھا۔
علامہ بنوری ٹرسٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سعید اسکندر نے بتایا کہ کسی مسجد کا ٹرسٹ سے الحاق اسی صورت ممکن ہے جب مسجد رجسٹرڈ ہو اور اس کے پاس مسجد کی تعمیر کے لیے درکار دستاویزات موجود ہوں۔ ان کے بقول مدینہ مسجد کے الحاق کی درخواست کے وقت اس کے کاغذات مکمل تھے اور ان میں کوئی بے ضابطگی سامنے نہیں آئی تھی۔
یکم جنوری 2022 کو جاری کردہ اس فتوے کے مطابق جو جگہ ایک بار مسجد شرعی بن جاتی ہے، اس کی یہ حیثیت قیامت تک قائم رہتی ہے۔فتوے کے مطابق ایسی کسی مسجد کی ایک انچ برابر جگہ کو گرانا یا اس کی حیثیت بدلنا شرعاً ناجائز ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button