لندن،26فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کے اتحاد نیٹو کے سکریٹری جنرل ینس اسٹولٹنبرگ کا کہنا ہے کہ اتحاد نے اپنے زیر انتظام رسپانس فورس کو تعینات کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کا مقصد نیٹو فورسز کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور فوری جوابی کارروائی کے لیے تیار رہنا ہے۔
یہ پیش رفت جمعرات کی صبح یوکرین میں روس کا فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔نیٹو اتحاد کے ورچوئل سربراہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل ینس نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ہم اتحاد کی اراضی میں تنازع کی کسی بھی توسیع سے اجتناب کے لیے اجتماعی دفاعی رسپانس فورس تعینات کر رہے ہیں۔
اس فورس میں 40 ہزار فوجی شامل ہیں۔اس کا مرکزی محور مشترکہ آپریشنز کی فورسVJTF ہے۔ اس وقت فرانس کے زیر قیادت اس فورس میں 8000 ارکان شامل ہیں۔ اس میں کثیر القومی بریگیڈ اور فضائی ، بحری اور اسپیشل فورسز کے سپورٹ یافتہ بریگیڈز شامل ہیں۔
البتہ نیٹو اتحاد کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ رسپانس فورس کے کتنے فوجیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ رسپانس فورس کا مشن پانچ روز کے اندر ہنگامی بحرانات کا جواب دینا ہے۔ تاہم یہ فورس ضرورت پڑنے پر 48 گھنٹوں کے اندر تعینات کیے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ادھر فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں کے اعلان کے مطابق نیٹو اتحاد کے لیے پیش کردہ فورس کے سلسلے میں جلد ہی سیکڑوں فرانسیسی فوجیوں کی رومانیہ میں تعیناتی اور ایک نیا بریگیڈ اسٹونیا بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اسی طرح پینٹاگان نے بھی ایک بکتر بند بریگیڈ جرمنی بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح یورپ میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ ہو جائے گی۔یاد رہے کہ شمالی اوقیانوس کے اتحاد نیٹو کی تاسیس 1949میں سابق سوویت یونین کے خلاف قلعے کے طور پر عمل میں آئی تھی۔
اس کے بعد سے اس میں توسیع جاری رہی اور اس وقت اتحاد کے رکن ممالک کی تعداد 30 ہے۔یوکرین نیٹو اتحاد کا رکن نہیں ہے۔ روس نے نیٹو سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یوکرین کو اپنے اتحاد میں کبھی قبول نہ کرنے کی پابندی کرے۔
البتہ نیٹو کے رکن ممالک نے اس امر کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اتحاد دروازہ کھلا رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔نیٹو اتحاد کا صدر دفتر برسلز (بیلجیم) میں واقع ہے۔



