نیویارک ،27فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یوکرین پر حملے سے قبل کے دنوں میں روسی صدر ولاد یمیر پوٹن کی ذہنی کیفیت اور ہو شمندی کے بارے میں بعض موجودہ اور سابقہ مغربی عہدیداروں نے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔
ان کی نظر میں صدر پوٹن کی سوچ اور یوکرین کے بحران پر بات کرنے کے ان کے انداز میں کچھ ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جو ان کے خیال میں روسی لیڈر کو زیادہ خطرناک بنا رہی ہیں۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے پوٹن کی تقریروں میں سے ایک تقریر کو، جس میں انہوں نے یوکرین کے علاقوں ڈونیسک اور لوہانسک کو خود مختار ریاستوں کی حیثیت سے تسلیم کیا،عجیب و غریب اور مسخ شدہ نظریہ قرار دیا۔ امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے اسی تقریر کو انتہائی پریشان کن خطاب کہا ہے۔
امریکہ میں فرانس کے سابق سفیر جیرارڈ اوغارڈا اس بھی آگے بڑھ گئے۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ پوٹن کی تقریر صحیح معنوں میں دماغ کو چکرا دینے والی تھی۔بین الاقوامی کاروباری شخصیت بل براؤڈر کہتے ہیں کہ انہوں نے گزشتہ دو عشروں میں پوٹن کی بہت سی تقریریں سنیں اور یہ انتہائی بد حواسی میں کی گئی تقریر تھی جو حقیقت سے بہت دور اور انتہائی خطرناک تھی۔
پوٹن کے بارے میں اس قسم کی باتیں عام لوگوں اور نجی انٹیلی جنس کے ان اندازوں سے متضاد ہیں جن کے مطابق 69 سالہ روسی لیڈر کو بے رحم، زیرک اور خطرات مول لینے کا خواہش مند قرار دیا جاتا تھا۔
امریکی سی آئی آے کے ڈائریکٹر ولیم برنس نے گزشتہ فروری میں اپنے تقرر کی توثیق سے قبل قانون سازوں کو بتایا تھا کہ ان کے سر کے بالوں میں سے زیادہ تر بال گزشتہ برسوں کے دوران روس میں خدمات انجام دیتے ہوئے سفید ہوئے۔
پوٹن نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سابقہ روسی خفیہ پولیس ’کے جی بی‘ میں فارن انٹیلی جنس افسر کی حیثیت سے کیا اور 1990 میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔پھر وہ سیاست میں آئے اور 1998 میں وہ روس کی اندرون ملک سیکیورٹی سروس ’ایف ایس بی‘ کے سربراہ بنے۔اس کے دو سال بعد پوٹن صدر منتخب ہو گئے اور اس وقت سے اب تک سوائے اس چار سال کی مدت کے جب وہ 2008 سے 2012 تک ملک کے ؤزیر اعظم تھے، مسلسل صدر رہے ہیں۔
سی آئی اے کے ایک سابق چیف آف اسٹیشن ڈینیل ہاف مین کہتے ہیں کہ ولادیمیر پوٹن کے جی بی کے ایک بے رحم کار گزار کے علاوہ اور بہت کچھ بھی ہیں جو وہ ہمیشہ سے رہے ہیں۔ڈینئل ہاف مین نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ پوٹن نے اب تک کوئی غلطی کی ہے اور اس حوالے سے انہوں نے چیچنیا، جارجیا، کرائمیا اور شام میں روس کی کامیاب فوجی مہم جوئیوں کی جانب توجہ دلائی۔
ایک اور سابق انٹیلی جنس عہدیدار مارک کیلٹن نے بتایا کہ پوٹن نے جو وہ چاہتے ہیں اسے چھپایا نہیں، بس تبدیلی یہ آئی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اب ان کے پاس اپنی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے یعنی یوکرین کے ان حصوں پر قبضہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے جن پر وہ 2014 میں قبضہ نہیں کر سکے تھے۔
سابقہ انٹیلی جنس عہدیدار توجہ دلاتے ہیں کہ شاید پوٹن سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے اندر سیاسی اختلافات کے باعث وہ کمزور ہوا ہے اور افغانستان سے واپسی کے سبب واشنگٹن اور اس کے مغربی اتحادی، دوسروں کے جھگڑوں سے نمٹنے کی طرف مائل نہیں ہیں۔
اور پھر چین ہے جو پرانا حریف ہے، جس کے متعلق کیلٹن کا کہنا ہے کہ وہ مشترکہ دشمن امریکہ کی مخالفت میں روس کے ساتھ متحد ہو گیا ہے۔بعض روسی مبصرین کے بقول مختلف رجحانات کے ممکنہ طور پر یکجا ہو جانیسے بھی پوٹن کو اضافی اعتماد حاصل ہوا ہے۔



