بین الاقوامی خبریں

روسی افواج یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل

ماسکو،27فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے یوکرین کے جنوبی شہر خیرسن اور جنوب مشرقی شہر برڈیانسک کا مکمل محاصرہ کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی وزیر دفاع کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران خیرسن اور برڈیانسک کو روسی فوج نے مکمل بلاک کر دیا ہے۔

دوسری جانب خارکیف کی علاقائی انتظامیہ کے چیئرمین نے کہا کہ روسی فوج ملک کے دوسرے بڑے شہر خارکیف Kharkiv  میں داخل ہو گئی ہے اور لڑائی جا رہی ہے۔چیئرمین اولے سائنی گوبوف نے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کی افواج دشمن کو ختم کر رہی ہیں۔

روس نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ بیلا روس میں بات چیت کے لیے تیار ہے۔ دوسری انب یوکرین کے صدر نے کہا ہے کہ بات چیت کے لیے تیار لیکن بیلا روس میں نہیں۔اس سے قبل یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے دفتر نے کہا کہ روسی افواج نے خارکیف میں ایک گیس پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جبکہ دارالحکومت کیف کے ایک ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

یوکرین کی سرکاری مواصلاتی سروس نے کہا ہے کہ دارالحکومت سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر تیل کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ تیل ڈپو سے اٹھنے والے دھوئیں سے ماحولیاتی تباہی پیدا ہو سکتی ہے اور شہریوں کو زہریلی دھوئیں سے بچنے کی ہدایت کی ہے۔

ابتدائی معلومات سے واضح نہیں کہ یہ پائپ لائن کس قدر اہم ہے اور کیا اس دھماکے سے ملک کے کسی بھی حصے میں گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔یوکرین میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر شہری قریبی ممالک میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ شہری پولینڈ، مالدوفا اور دیگر ہمسایہ ممالک کو بھاگ گئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال مزید خراب ہونے پر یہ تعداد چار لاکھ تک بھی بڑھ سکتی ہے۔ جبکہ حکومت نے 39 گھنٹوں سے کرفیو نافذ کر رکھا ہے تاکہ شہریوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دیا جائے۔

اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا تھا کہ یوکرین کی فوج کی جانب سے سخت مزاحمت ملنے پر روس کی حملہ آور فوج کو مایوسی کا سامنا ہے جبکہ پیش قدمی سست ہونے کے باعث فوج دارالحکومت کیئف میں داخل نہیں ہو سکی۔

پنٹاگون کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ اور مغربی اتحادی ممالک یوکرین کی فوج کو ہتھیار بھجوا رہے ہیں جبکہ امریکہ کا آئندہ دنوں میں مزید اسلحے کی ترسیل کا ارادہ ہے تاکہ روس کے زمینی اور فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

پنٹاگون کے مطابق روس کی حملہ آور فوج کا 50 فیصد اس وقت یوکرین میں موجود ہے تاہم غیر متوقع طور پر مزاحمت کا سامنا کرنے کے باعث پیش رفت آہستہ ہے۔عہدیدار نے کہا کہ بالخصوص یوکرین کے شمالی حصوں میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کوئی خاطر خواہ پیش قدمی نہ ہونے پر روسی فوج کی مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق روسی افواج دارالحکومت کیف سے تقریباً 30 کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

کیف میں زور دار دھماکے ، روس کی جانب سے نئی عسکری کمک

یوکرین پر روس کے حملے کے چوتھے روز آج دارالحکومت کیف کے شمالی اور مغربی محاذ پر بھاری اور درمیانے ہتھیاروں کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔ ان جھڑپوں کا سلسلہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب شروع ہوا۔ اتوار کی صبح کیف کے وسطی علاقے میں زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔

اس کے 20 منٹ بعد مقامی وقت کے مطابق 8:40 پر دو مزید دھماکے سنائی دیے گئے۔کیف میں مقامی صحافی میخائلو الاندرانیکو نے بتایا کہ شہر کی اکثر آبادی پناہ گاہوں یا نچلی منزلوں میں منتقل ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق گذشتہ رات روسی آپریشن کے بعد سخت ترین تھی۔

ادھر روس نے گذشتہ رات کے دوران میں بھاری عسکری ساز و سامان یوکرین کی سرحد کے اندر داخل کیا۔ اسی طرح روسی فوج نے یوکرین میں تزویراتی اہداف پر حملے تیز کر دیئے ہیں۔

ایک امریکی اعلی عسکری ذمہ دار نے الزام عائد کیا ہے کہ روس نے آج صبح تک یوکرین پر 250 سے زیادہ میزائل داغے ہیں۔ ان میں زیادہ تر مختصر فاصلے کے بیلسٹک میزائل ہیں۔

امریکی ذمے دار کے مطابق ان میزائلوں کے ذریعے بنیادی انفرا اسٹرکچر اور شہری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔دوسری روس نے یوکرین میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔

تاہم فوجی ماسکو ایک سے زیادہ مرتبہ یہ تصدیق کر چکا ہے کہ اس کے حملوں میں یوکرین کے عسکری انفرا اسٹرکچر پر توجہ مرکوز ہے۔یاد رہے کہ روس نے جمعرات کو علی الصبح یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔


روسی وزارتِ دفاع کافوج کو یوکرین میں ہرسمت سے پیش قدمی وسیع کرنے کا حکم

ماسکو،27فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) روس کی وزارتِ دفاع نے فوج کو یوکرین میں اپنی جارحیت کو ہر سمت سے وسیع کرنے کے احکامات دیے ہیں جبکہ یوکرین نے بیلاروس میں روس سے مذاکرات سے انکارکر دیا ہے۔

روسی افواج یوکرین کے دارالحکومت کیف کے مضافات میں پہنچ چکی ہیں۔صدر ولادی میر پوتین کے حکم پر جمعرات کو حملے کے پہلے دن اس کو یوکرینی فوج کی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑاتھا۔

روسی فوج کے ترجمان ایگورکوناشینکوف نے ایک بیان میں کہا کہ یوکرینی فریق کی جانب سے مذاکراتی عمل کو مسترد کرنے کے بعد ہفتے کے روز تمام یونٹوں کو آپریشن کے منصوبوں کے مطابق ہر سمت سے پیش قدمی کے احکامات دیے گئے ہیں۔

کریملن نے جمعہ کو کہا تھا کہ صدرپوتین یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیلاروس میں ایک وفد بھیجنے کوتیار ہیں لیکن یوکرین اس کے بجائے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں مذاکرات چاہتا ہے۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ بیلاروس تو خود اس جنگ میں شامل ہے اور یوکرینی علاقوں پر بیلاروس سمیت کئی اطراف سے حملے کیے جا رہے ہیں۔کوناشینکوف نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی افواج نے اس کے وسیع شواہد کے باوجود شہری علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔یوکرین نے ہفتے کوروس کے حملے کے بعد سے 198 شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

ان میں تین بچے بھی شامل ہیں۔روس نے یہ نہیں بتایا کہ اس حملے میں اس کے کتنے فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔وہ اس کو خصوصی فوجی کارروائی قرار دیتا ہے۔ماسکو کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد یوکرین کو’’نازی ازم‘‘سے پاک کرنا ہے۔

اس سے قبل روسی افواج نے یوکرین کے جنوب مشرقی شہرمیلتوپول پر قبضہ کر لیا تھا۔روس کی انٹرفیکس خبر رساں ایجنسی نے خبر دی تھی کہ فوج نے دارالحکومت کیف سمیت متعدد شہروں پر کروزمیزائلوں اور توپ خانے سے مربوط حملے کیے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button