
چیف ملٹری ربی: حکومت بنانے کے لیے مذاکرات میں نیتن یاہو کا آخری کارڈ
معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگلی حکومت ایک بل پیش کرے گی جس کا مقصد فوجی ربی کی حیثیت کو مضبوط کرنا ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس، 26 دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اسرائیلی میڈیا نے نامزد وزیر اعظم نیتن یاہو Benjamin Netanyahu اور مذہبی صیہونیت پارٹی کے درمیان ایک معاہدے کا انکشاف کیا ہے جس کے تحت مسلح افواج کے چیف ملٹری ربی کے دفتر پر فوج کا کنٹرول ختم ہو جائے گا۔ اس معاہدہ کو اسرائیلی فوج میں ’’انقلاب‘‘ سے تعبیر کیا جارہا ہے۔اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق سرکاری نشریاتی ادارے سے وابستہ "کان” چینل نے کہا کہ چیف ملٹری ربی کی تقرری کے حوالے سے چیف آف اسٹاف کے اختیارات کو منسوخ کرنے اور اسے چیف سفاردی ربی کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگلی حکومت ایک بل پیش کرے گی جس کا مقصد فوجی ربی کی حیثیت کو مضبوط کرنا ہے۔یہ بل اسرائیل میں چیف ربی کو چیف ملٹری ربی کی تقرری کے عمل پر کنٹرول دے دے گا۔ یاد رہے بریگیڈئر جنرل کا درجہ رکھنے والا چیف ملٹری ربی اس وقت اسرائیلی فوج کے چیف آف سٹاف کی طرف سے مقرر کیا جاتا ہے۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق یہ تقرری ایک کمیٹی کرے گی جس کی سربراہی چیف سفاردی ربی کرے گا۔
یہ کمیٹی حکومتی نمائندوں پر مشتمل ہو گی۔ اس کے علاوہ یشیوا کے سربراہ، اسرائیل ڈیفنس فورسز کے پرسنل ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ، اور فوج کے ایک سابق چیف ربی بھی اس کمیٹی میں شامل ہوں گے۔اختیارات میں یہ تبدیلی فوج پر چیف سفاردی ربی کے اختیار کو مضبوط کرے گی، چیف ملٹری ربی اور چیف ربی اس وقت بہت سے مذہبی مسائل پر جھگڑ رہے ہیں۔ ان مختلف فیہ مسائل میں یہودیت اختیار کرنا، فوج میں خواتین کی نوکری ، آپریشنل ضروریات کیلئے یوم آرام سبت کی خلاف ورزی اور غیر یہودی اسرائیلی فوجیوں کو دفنانا شامل ہیں۔اس بل میں چیف ملٹری ربی کے عہدے کو میجر جنرل تک بڑھانا بھی شامل ہے، اس ترمیم سے اسرائیلی فوج کے جنرل سٹاف فورم کے اجلاسوں میں چیف ملٹری ربی کی مستقل شرکت یقینی ہو جائے گی۔ جنرل سٹاف فورم کے یہ اجلاس جنرلوں اور آرمی چیف آف اسٹاف کے لیے مخصوص ہیں۔
تاریخی طور پر چیف ملٹری ربی کو میجر جنرل کے عہدے ساتھ رکھا جاتا تھا تاہم 2000 میں انہیں بریگیڈیئر جنرل بنا دیا گیا۔ چیف ملٹری ربی عام طور پر 5 سال کی مدت پر کام کرتا ہے جس میں چھٹے سال یا اس سے زیادہ کے لیے توسیع کا امکان ہوتا ہے۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیل کے سابق آرمی چیف آف سٹاف گاڈی آئزن کوٹ نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوج کے لیے برا ہوگا۔آئزن کوٹ نے مزید کہا کہ سکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر ہمیں یہ استحقاق حاصل نہیں ہے کہ ہم اسرائیلی ڈیفنس فورسز کو اتحادی مذاکرات میں ایک سودے بازی کا ٹول بنا کر رکھ دیں۔نعمانی تورہ واوودا تنظیم جو صہیونی مذہبی برادری میں تعلیمی تحقیق اور پالیسی پر توجہ مرکوز کرتی ہے نے بھی اس مسودہ قانون کی مذمت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بل فوجی ربینیٹ کو سیاست زد ہ کرے گا اور فوج کی چین آف کمانڈ کو نقصان پہنچائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فوجی ربینیٹ ایک ایسا پیشہ ہے جس میں مہارت، فوجی تجربہ، اور حکومت کی ضروریات اور اس کے شرعی (حلقہ) شعبوں کے بارے میں علم کی ضرورت ہوتی ہے۔یاد رہے کہ اسرائیل میں دو عظیم ربی ہیں۔ چیف ربی 10 سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ موجودہ سفاردی چیف ربی یتزاک یوزف ہیں اور اشکنازی چیف ربی ڈیوڈ لاؤ ہیں۔ دونوں نے اپنی مدت 2013 میں شروع کی تھی۔ ربینیٹ کا اسرائیل میں یہودی زندگی کے بہت سے پہلوؤں پر دائرہ اختیار ہے۔ موجودہ چیف ملٹری ربی ایال کریم ہیں۔نیتن یاہو ایک حکومتی اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں، توقع ہے کہ یہ اتحاد اگلے چند دنوں میں کنیسٹ میں حلف اٹھا لے گا۔ اس اتحاد میں انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں ایتمار بن گویر کی قیادت میں جیوش پاور اور بیزالل سموٹرچ کی قیادت میں ’’ریلی جئس زائیونزم‘‘ شامل ہیں۔نیتن یاہو اور ان جماعتوں کے درمیان اتحاد کے معاہدوں میں مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو مضبوط اور وسعت دینے، وہاں کے فلسطینیوں پر شکنجہ کسنے اور خود اسرائیلیوں پر انتہا پسند طرز زندگی مسلط کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔



