چین کے ساتھ بھارت کے لیے بھی سری لنکا میں سرمایہ کاری کی اہمیت بڑھ گئی
مالی مشکلات میں گھرے ہوئے سری لنکا میں سرمایہ کاری اور مالی و انسانی امداد کے ذریعے بھارت نے بھی چین کے بڑھتے ہوئے رسوخ کا مقابل کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
دبئی،28دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)مالی مشکلات میں گھرے ہوئے سری لنکا میں سرمایہ کاری اور مالی و انسانی امداد کے ذریعے بھارت نے بھی چین کے بڑھتے ہوئے رسوخ کا مقابل کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔بھارت نے یہ حکمت عملی جون 2022 میں سری لنکا میں آنے والے بد ترین معاشی بحران اور سری لنکا کے جنوب میں چین کے معاشی اثر رسوخ کو بڑھتے ہوئے دیکھنے کے بعد سری لنکا کے شمالی علاقے میں توجہ مرکوز کرنے کے لیے اپنائی ہے۔چین کے علاقے میں بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے کے لیے بھارت نے کم از کم شمالی سری لنکا میں جنوری سے جولائی کے درمیان چار ارب ڈالر کی تیز رفتار معاونت کی تھی۔ علاوہ ازیں سری لنکا میں بد ترین معاش بحران کے بعد سری لنکن عوام کے ادویات سے بھرا جہاز بھی سری لنکن عوام میں قبولیت بڑھانے کے لیے بھیجا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 2،9 ارب ڈالر کے قرضے کا معاہدہ ختم کرنے کے بعد سری لنکا کی معیشت قدرے مستحکم ہونے کی طرف آنا شروع ہو رہی ہے۔ اس پس منظر میں بھارت بھی طویل مدتی سرممایہ کاری کی کوشش میں ہے۔ وجہ چن کے مقابلے میں سری لنکا میں اپنے اثرات کو بڑھانا ہے۔اس بارے میں سری لنکا کے وزیر خارجہ علی صابری کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے ایک ارب ڈالر کے منصوبوں کے لیے بات چیت جاری ہے۔ بلا شبہ اس سے بھارت کی سری لنکا میں موجودگی کا تاثر بڑھے گا ، بھارت اسی قدر سرمایہ لگائے گا جتنا کہ وہ اسے اپنے لیے سٹریجک حوالے سے اہم سمجھے گا۔علی صابری نے مزید کہا ‘ہو سکتا ہے بھارت سری لنکا کے حوالے سے چیزوں کو سٹریٹجیکل بنیادوں پر ہی دیکھتا ہو۔ کیونکہ بھارتی سلامتی کے ایشوز بھی موجود ہیں۔دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ اس بارے میں فی الحال کچھ بات کرنے کو آمادہ نہیں ہے کہ اس کی سری لنکا میں سرمایہ کاری کی وجوہات اپنی سلامتی کے تناظر میں ہیں۔



