بین الاقوامی خبریںسرورق

ترکیہ، شام میں زلزلہ: اموات کی تعداد پانچ ہزار ، سات روزہ سوگ کا اعلان ، ریسکیو آپریشن جاری

دونوں ملکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 4983 ہو گئی ہے۔

انقرہ ،7فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ترکیہ اور شام میں زلزلے سے متاثرہ عمارتوں کے ملبے سے نعشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک دونوں ملکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 4983 ہو گئی ہے۔خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق دنیا بھر سے امدادی ٹیمیں امدادی سامان اور رضاکاروں کے ہمراہ ترکیہ پہنچ رہی ہیں۔ صرف ترکی میں لگ بھگ چھ ہزار عمارتیں گرنے کی اطلاعات ہیں۔ ترکیہ کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق زلزلے سے متاثرہ 10 صوبوں میں 24 ہزار 400 رضاکار امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ ترکیہ کے حکام کے مطابق ملک بھر میں اب تک 3381 افراد ہلاک اور 20 ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔دوسری جانب شام کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ حکومت کے زیرِ اثر علاقوں میں 769 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ 1400 سے زیادہ زخمی ہیں۔ شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں میں زلزلے سے 450 اموات ہوئی ہیں اور سینکڑوں زخمی ہیں۔

زلزلے سے متاثرہ ملکوں میں ہزاروں افراد نے شدید ٹھنڈ میں رات کھلے آسمان تلے گزاری۔ کئی متاثرین نے شاپنگ مالز، اسٹیڈیمز، مساجد اور کمیونٹی سینٹروں میں پناہ لی۔ترک صدر رجب طیب ایردوان نے زلزلے سے ہونے والے نقصان پر سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ترک ہم منصب کو فون کیا اور انہیں مدد کی پیشکش کی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ترکیہ میں امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے امریکہ نے سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔ترکیہ کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام کے مطابق زلزلے سے متاثرہ 10 صوبوں میں اب تک 78 ہزار افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے جب کہ5600 عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔ امریکہ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق پیر کو سات اعشاریہ آٹھ شدت کا زلزلہ آیا تھا جس کی گہرائی 18 کلو میٹر تھی۔ بعدازاں زلزلے کے آفٹر شاکس محسوس کیے جاتے رہے۔بھارتی حکام کے مطابق عملے کے ساتھ امدادی کاموں میں معاونت کرنے والے کتے اور آلات بھی ترکیہ بھیجے جا رہے ہیں۔

بھارتی حکام کے مطابق عملے کے ساتھ امدادی کاموں میں معاونت کرنے والے کتے اور آلات بھی ترکیہ بھیجے جا رہے ہیں۔وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر ترکیہ کے زلزلہ متاثرین کی امداد کے لیے خصوصی طیارہ سامان لے کر روانہ ہو گیا ہے۔وہیں جنوبی کوریا نے ترکیہ میں زلزلے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں معاونت کے لیے 60 ارکان پر مشتمل عمل بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔منگل کو عملہ ترکیہ بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کا کہنا تھا کہ ترکیہ جنوبی کوریا کا برادر ملک ہے جس نے 1950 کے عشرے میں کوریا جنگ میں اپنے دستے بھیجے تھے جس میں ترکیہ کے 70 فوجی مارے گئے تھے۔جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع کے مطابق فوج طیاروں کا بندوبست کر رہی ہے تاکہ ریسکیو ورکرز اور دیگر آلات ترکیہ پہنچائی جا سکیں۔جنگ زدہ ملک شام نے اقوامِ متحدہ اور اس کے رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ زلزلے کے بعد امدادی کاموں میں شام کی مدد کی جائے۔شام کے حکام کے مطابق اس کو زلزلہ متاثرین کے لیے صحت کی بنیادی سہولیات، پناہ کے لیے خیمے اور خوراک درکار ہے۔شام میں حکومت کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے ساتھ ساتھ حزبِ مخالف کے زیرِ انتظام علاقوں میں زلزلے سے تباہی ہوئی ہے۔

شام میں اقوامِ متحدہ کے نمائندے کے مطابق سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اقوامِ متحدہ اس مشکل صورتِ حال میں شام کی ہر ممکن مدد کرے گا۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق امریکہ نے نیٹو میں شامل اپنے اتحادی کو ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ ترکیہ میں زلزلہ زدہ علاقوں میں ریسکیو کے لیے رضا کار بھیج رہا ہے۔صدر بائیڈن اور ایردوان نے ان امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جو کہ زلزلہ بحالی میں مدد گار ہو سکتے ہیں۔

زلزلے سے اسپتال گرنے لگا مگرنرسوں نے کہا کہ ہم مریضوں کو تنہا نہیں چھوڑ یں گے

استنبول ،7فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ریسکیو ٹیمیں ترکیہ کے شہر اسکندرون کے ایک سرکاری اسپتال کے کھنڈرات کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کا کچھ حصہ پیر کو آنے والے تباہ کن زلزلے سے زمیں بوس ہوگیا تھا جس میں تقریباً 4,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔اندھیرا ہوتے ہی ایک زخمی کو ملبے سے نکال کراسٹریچر پر لے جایا گیا۔ امدادی کارکن ملبے کے اس بڑے ڈھیرسیزخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کو نکالنے کے لیے گئے تو پتا چلا کہ اسکندرون اسپتال کا تباہ ہوچکا ہے۔ اسپتال کا انتہائی نگہداشت کا سیکشن تباہ ہوچکا ہے۔ امدادی کارکن اس مقام پر بارش اور سرد موسم کے باوجود جہاں روشنی کے لیے جنریٹراستعمال کیے گئے تھے، مزید زندہ بچ جانے کی امید کر رہے تھے۔

لواحقین اپنے پیاروں کا حال جاننے کے لیے جمع تھے۔ تیس سالہ ایک خاتون ٹولن نیکہا کہ ہمارے پاس ایک مریض ہے جسے آپریٹنگ روم میں لے جایا گیا تھا، لیکن ہم نہیں جانتے کہ کیاوہ بچ سکے گا یا نہیں۔ خاتون مسلسل روئے جا رہی تھی اور اس کے لبوں پر دعائیں اور التجائیں تھیں۔ اس کا کہنا تھا کہ آج میری خالہ سمیت تین رشتہ دار کھو گئے۔ میرے چچا ملبے تلے دبے ہیں۔ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ خیریت سے ہوں۔ ڈر ہے کہ ہم انہیں بھی کھو نہ دیں۔اسپتال کے اس حصے میں جو اب بھی کھڑا ہے، صحت کے کارکنان افراتفری کے ماحول میں زخمیوں کی دیکھ بھال کررہے ہیں۔ ایمبولینسز نہ ہونے کی وجہ سے زخمی پرائیویٹ کاروں میں لائے جاتے رہے اور درجنوں لوگ اسپتال کے داخلی دروازے پر فرش پر چٹائیوں پر لیٹائے گئے۔

انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ایک نرس نے اپنا نام میرف بتایا۔ اس نے کہا کہ وہ رات کی شفٹ پر تھیں جب صبح سے پہلے زلزلہ آیا۔ اچانک، عمارت لرزنے لگی اور زلزلے کے جھٹکے آہستہ آہستہ بڑھنے لگے۔ میں اور میرے دوستوں نے عمارت سے نکلنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی ہم نے اپنے مریضوں کواکیلا چھوڑا۔ پھر ہم نے ایک خوفناک شور سنا اور عمارت گررہی تھی۔اس نے مزید کہا کہ سیڑھیوں کو نقصان پہنچ چکا تھا، ہم عمارت سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔ ہمیں پہلے تو معلوم نہیں تھا کہ عمارت کا بڑا حصہ گر گیا ہے لیکن جب ہم اپنے کمرے سے باہر نکلے تو راہداری ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔

میرف نے مزید کہا کہ بالآخر اسے بچا لیا گیا، لیکن عمارت کے دوسرے حصے میں اس کے ساتھی اور مریض اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔ وہ ملبے تلے دب چکے ہیں۔15 گھنٹے گزر چکے ہیں، میں اپنے کسی ساتھی سے رابطہ نہیں کر سکتی اور ان میں سے کسی کو بھی ملبے کے نیچے سے نہیں نکالا گیا۔ میرے ساتھیوں نے اپنے مریضوں کو نہیں چھوڑا اور مجھے نہیں معلوم کہ ان کا انجام کیا ہوا ہے۔زلزلے سے صرف خطائی صوبے میں 1,200 سے زیادہ عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔ اسکندرون شہر بھی اسی میں واقع ہے۔ترک وزیر صحت فخر الدین قوجہ نے کہا کہ خطائی میں کم از کم 520 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button