بین الاقوامی خبریںسرورق

اب کوئی خواہش باقی نہیں‘، ملبے سے ملنے والی ڈائری نے المناک کہانی سنا دی

ملبے تلے جنم لینے والی بچی کے اغوا کی کوشش، حقیقت کیا ہے؟

دمشق ،15فروری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)شام میں زلزلے سے متاثرہ علاقے حلب میں امدادی کارکنوں کو مکان کے ملبے میں سے کوئی زندہ شخص نہیں ملا البتہ ایک لڑکی کی ڈائری ملی ہے جس نے اس علاقے کے رہائشیوں کی ساری المناک کہانی سنا دی ہے۔سبق ویب سائٹ کے مطابق حلب شام کا وہ علاقہ ہے جو گزشتہ 10 سال سے خانہ جنگی اور محاصرے کا شکار ہے۔ڈائری کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک لڑکی کی ہے جس کی عمر کا اندازہ نہیں ہو سکا ہے۔ اس میں درج عبارت کے ذریعے وہاں کے مکینوں کی مشکلات کی عکاسی ہوتی ہے۔

لڑکی نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے کہ اب کسی بھی چیز کی خواہش باقی نہیں رہی۔چند الفاظ پر مشتمل اس جملے نے حلب کے شامی خاندانوں کی اصل حالت دنیا کو بتا دی ہے کہ کس طرح ان پر سیاسی حالات نے عرصہ حیات تنگ کیا۔جس امدادی کارکن کو ڈائری ملی، ان کا کہنا ہے کہ ہماری بڑی خواہش تھی کہ ملبے تلے ہمیں زندہ لوگ مل جائیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں وہاں سے کوئی بھی زندہ نہیں ملا، صرف یہی ڈائری ملی۔ جس کے مالک کا ابھی تک پتہ نہیں چلا۔

ملبے تلے جنم لینے والی بچی کے اغوا کی کوشش، حقیقت کیا ہے؟

دبئی ،15فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)شمالی شام کے علاقے عفرین میں ہسپتال کے عہدیدار نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ زلزلے کے بعد ملبے تلے جنم لینے والی نومولود ’ آیت‘ کو اغوا کی کوشش کی گئی ہے۔خبر کے مطابق سوشل میڈیا پر ہسپتال پر مسلح افراد کے حملے اور نومولود کو اغوا کرنے کی کوشش کے حوالے سے خبریں گردش میں تھیں۔یاد رہے کہ 63 فروری کو شام اور ترکیہ میں آنے والے زلزلے کے بعد نومولود آیت کو ملبے سے نکال کر ہستال منتقل کیا گیا تھا۔ ہسپتال کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دراصل ہسپتال کے ڈائریکٹر کو ایک میل نرس پر نومولود کے اغوا کی منصوبہ بندی کا شبہ تھا جو آیت کی فوٹو گرافی کر رہا تھا۔ عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس شبے کی بنیاد پر میل نرس کو اسے ہسپتال سے برطرف کردیا گیاتجھا۔تاہم برطرفی کے چند گھنٹے بعد وہ مسلح افراد کے ساتھ ہسپتال پہنچا اور اس نے ڈائریکٹر پر حملہ کیا۔

یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ہسپتال میں تعینات سکیورٹی اہلکاروں سے مسلح افراد نے کہا کہ انہیں ہسپتال کے ڈائریکٹر کی تلاش ہے جس نے ہمارے دوست کو برطرف کیا ہے، ہمیں بچی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے بچی کی حفاظت کے لیے سکیورٹی تعینات کی ہے۔ کئی بچی کے رشتہ دار ہونے کے دعویدار ہیں۔ دنیا بھر سے اس بچی کو گود لینے کی پیش کش بھی کی جا رہی ہے۔ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آیت کو بدھ تک ہسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا۔بچی کے ایک رشتہ دار صالح البدران کا کہنا ہے کہ آیت کی پھوپھی جو زلزلے میں بچ گئی ہیں اس کی پرورش کریں گی۔

یاد رہے کہ شمالی شام کے جندیرس قصبے میں تباہ کن زلزلے کے دوران جنم لینے والی بچی معجزاتی طور پر زندہ بچ گئی تھی۔ نومولود بچی کے خاندان کے تمام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ریسکیو کارکنان زلزلے کے دس گھنٹے بعد آیت تک پہنچے تھے۔ پانچ منزلہ عمارت کے ملبے کو ہٹاتے ہوئے ان کی نظر آیت پر پڑی تھی۔امدادی کارکنوں نے جب بچی کو ملبے سے باہر نکالا تو وہ ناف کے ذریعے اپنی ماں سے جڑی ہوئی تھی۔ فوری طور پر بچی کو عفرین ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

ترکیہ: زلزلے سے منہدم عمارتوں کے ملبے سے مزید 4 افراد زندہ بازیاب

turkey syria earthquake death toll

انقرہ،15فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ترکیہ اور شام میں امدادی سرگرمیوں کے دوران ملبے سے مزید چار افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ زلزلے سے دونوں ملکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 41 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور اب بھی کئی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق زلزلے سے متاثرہ ترکیہ کے صوبے قہرمان مرعش میں امدادی سرگرمیوں کے دوران منگل کو 21 اور 17 سالہ دو بھائیوں کو آٹھ دن بعد ملبے کے نیچے سے زندہ نکالا گیا ہے۔اسی طرح انطاکیہ میں ریسکیو ورکرز نے ایک خاتون اور ایک مرد کو 200 گھنٹوں بعد ملبے سے نکالا ہے اور دونوں کا تعلق شام سے ہے۔ریسکیو ورکرز کو امید ہے کہ وہ ملبے سے مزید دبے افراد کو زندہ نکال لیں گے۔زلزلہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد کو شدید سرد موسم کا سامنا ہے، ایسے میں پناہ گاہیں نہ ہونے سے ان کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔مختلف ممالک اور تنظیموں کی جانب سے امداد بھیجنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔اقوامِ متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو کا کام اب مکمل ہونے والا ہے جس کے بعد اب لوگوں کی پناہ، کھانے اور بچوں کی تعلیم کے انتظام کا مرحلہ شروع ہو گا۔

روس نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ترکیہ اور شام میں ملبے تلے لوگوں کی تلاش اور ان کے ریسکیو کا کام مکمل کرنے والا ہے۔ اس کے بعد ممکنہ طور پر روس کی امدادی ٹیمیں واپس روانہ ہو جائیں گی۔گزشتہ ہفتے ترکیہ اور شام میں آنے والے 7.8 شدت کے زلزلے کے نتیجے میں دونوں ملکوں میں ہزاروں عمارتیں منہدم ہو گئی تھیں۔ حکام کے مطابق ترکیہ میں 35 ہزار 418 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ شام میں لگ بھگ پانچ ہزار 800 اموات ہوئی ہیں۔ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے انقرہ میں ٹی وی پر خطاب میں کہا کہ ان کا ملک تاریخ کے سب سے بڑے قدرتی سانحے کا سامنا کر رہا ہے بلکہ یہ انسانی تاریخ کابھی ایک بڑا سانحہ ہے۔عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے یورپ کے ڈائریکٹر ہانس ہینری کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور شام میں لگ بھگ دو کروڑ 60 لاکھ متاثرین کو امداد کی ضرورت ہے جب کہ شدید سرد موسم کے دوران بیماریاں پھیلنے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ: زلزلے سے 70 لاکھ بچے متاثر، ہلاکتوں کی اصل تعداد خوفناک ہوگی

نیویارک،15فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے ترکیہ اور شام میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے 70 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے ترجمان جمیز ایلڈر نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ترکیہ کے زلزلے سے متاثر ہونے والے 10 صوبوں میں بچوں کی کل تعداد 46 لاکھ ہیں جب کہ شام میں 25 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ یونیسف ترجمان کی گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ترکیہ اور شام میں ریسکیو ٹیمیں بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے آپریشنز میں سمیٹ رہے ہیں۔ زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ایلڈر کا کہنا ہے کہ ’یونیسف کو خدشہ ہے کہ کئی ہزار بچے ہلاک ہوچکے ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گو کہ ہلاکتوں کی تعداد اصل تعداد معلوم نہیں ہوئی ہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ تعداد میں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق ہلاکتوں کی ختمی تعداد بہت زیادہ ہوگی۔جمیز ایلڈر کا کہنا ہے کہ تباہی اور ہر وقت ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے تناظر میں یہ واضح ہے کہ ہزاروں بچے اس ہلاکت خیز زلزلے میں اپنے والدین کے محروم ہوئے ہوں گے۔ ’ہلاکتوں کی اصل تعداد خوفناک ہوگی۔ زلزلے کے تباہ ہونے والے مکانات کے درمیان لاکھوں لوگ سردی اور بھوک سے نبردآزاما ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان اپنے بچوں کے ساتھ گلیوں، مالز، اسکولوں، مساجد، بس اسٹیشن اور پلوں کے نیچے سو رہے ہیں اور گھرجانے کے خوف سے کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں۔ہزاروں خاندان سال کے ایک ایسے وقت میں کھلے آسمان تلے پڑے ہیں جب موسم انتہائی سرد ہوتا ہے اور برفباری اور جما دینے والی بارشیں عام ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button