تباہ کن زلزلے کا خوف، استنبول کے شہری ہجرت کرنے لگے
شامی اور ترک بچوں میں خوف، ہماری دنیا پھر سے اُلٹ جائے گی
استنبول، 10مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ترکیہ کے شہر استنبول میں تباہ کن زلزلے کے امکان کے حوالے سے بار بار کی پیش گوئیوں اور امکانات نے شہر کے مکینوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔ 16 ملین کی آبادی کے ساتھ استنبول ترکیہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لوگوں میں خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ 1999 کی طرح میں دوبارہ خوفناک زلزلہ آسکتا ہے۔ خوف کی اس لہر کے دوران لوگوں نیاستنبول سے ہجرت کرنا شروع کردی گئی ہے۔ استنبول سے ہجرت کرنے والے چھوٹے قصبوں اور دیگر شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ ایک سائنسدان ایک ترک ماہر ماحولیات نے کہا ہے کہ آنے والے زلزلے کا سامنا کرنے کے لیے استنبول سے نکلنا بہترین حل نہیں ہے۔ماحولیات کے سائنسدان گنر یالینک نے بتایا کہ استنبول کے رہائشیوں کی چھوٹی تعداد ملک کے اندر دوسرے شہروں یا صوبوں میں منتقل ہوئی ہے۔ شہر کے رہائشیوں میں سے کچھ لوگ زلزلے کا سامنا کرنے کے لیے اپنی گاڑیوں کو سونے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔
کچھ لوگ زلزلہ یا لوہے کے مزاحم کمرے بنا رہے ہیں۔ماہر ماحولیات نے کہا کہ گزشتہ ماہ جنوبی ترکیہ میں آنے والے زلزلے نے استنبول کے رہائشیوں میں خوف پیدا کر دیا ہے جس نے ان میں سے کچھ کو 1999 میں آنے والے زلزلے کی طرح دوبارہ آنے کے خوف سے یہاں سے ہجرت کرنے کا سوچنے پر مجبور کیا۔ خاص طور پر استنبول میں ایک اور تباہ کن زلزلے کی توقع کی پیش گوئی بھی کی جارہی ہے۔ اس زلزلہ میں لگ بھگ 17 ہزار افراد مارے گئے اور نصف ملین بے گھر ہوگئے تھے۔ شہر ’’ازمید ‘‘ اس زلزلے کے بعد ایک آفت زدہ علاقہ بن گیا تھا۔ اس زلزلہ کی شدت ریکٹر سکیل پر 7.6 ریکارڈ کی گئی تھی۔انہوں نے کہا اس مرتبہ بھی متوقع زلزلہ بڑے جانی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ خیال رہے استنبول پچاس کی دہائی میں صنعتی شہر میں تبدیل ہوا۔
اس دوران اس کی طرف لوگوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت بھی ہوئی۔ شہر میں او ر اس کے اطراف میں کچی بستیاں تعمیر ہوگئیں۔ سستے اور ناقص معیار کے مکانات کی بھی بڑے پیمانے پر تعمیر ہوئی۔اب شہر میں زیادہ تر عمارتیں 40 سال پرانی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان خطرات کا سامنا کرنے کا بہترین حل نئے شہروں کی تعمیر کی منصوبہ بندی میں ہے۔ یہ ایسے شہر ہوں جو قدرتی آفات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ استنبول سے دوسرے شہروں اور دیہی علاقوں میں منتقل ہونا کوئی حل نہیں ہے۔استنبول کے زلزلوں کے متوقع خطرے سے دوچار علاقوں میں رہنے والے متعدد افراد دیہی علاقوں میں واپس آگئے ہیں۔
شامی اور ترک بچوں میں خوف، ہماری دنیا پھر سے اُلٹ جائے گی
انقرہ ، 10مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) شام اور ترکیہ میں گزشتہ ماہ کے ہولناک زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس سے وہاں کے مقیم بچوں کو خوف ہے کہ ان کی دنیا پھر سے الٹ جائے گی۔نیوز کے مطابق زلزلے سے متاثرہ علاقے میں بحالی کی خدمات پر مامور مواصلات کے ماہر یونی سیف کے اہلکار نے سکائی نیوز کو بتایا ہے کہ شام میں آنے والے آفٹر شاکس سے بچوں کے خوف میں اضافہ کیا ہے۔ماہر مواصلات جو انگلش نے کہا ہے کہ یہاں کے رہائشی بچوں کو مستقبل کی امید دلانے کے لیے متاثرہ علاقوں میں سکولوں کا دوبارہ کھلنا انتہائی اہم ہے۔اسکولوں میں اپنی پڑھائی کے ساتھ مصروف ہو جانے والے بچوں میں یہ احساس پیدا ہو گا کہ بہتری آنے والی ہے تاہم شام میں خانہ جنگی امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔قبل ازیں شام میں خانہ جنگی بہت سے خاندانوں کی نقل مکانی کا سبب بنی تھے جب کہ اب زلزلے کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں کوچھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔یونیسف اہلکار نے 9 سالہ شامی بچے ماجد کی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ اس کا پورا بچپن فضائی حملوں کے باعث نقل مکانی میں گزرا ہے اور اب ایک بار پھر وہ نقل مکانی پر مجبور ہوا ہے اور اس کی ماں ہولناک زلزلے کے بارے میں اسے سمجانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماجد اور اس کے بھائی کا ڈاکٹر اور انجینئر بننے کا عزم ہے اور جب میں ان کے اردگرد دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ہمیں ان بچوں کی ہرصورت مدد کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔ماجد سے پوچھے جانے پر وہ ڈاکٹر اس لیے بننا چاہتا ہے کہ زلزلے کی ہولناکی اور فضائی حملوں کی تباہی میں زخمی ہو جانے والوں کو طبی امداد دے سکے۔



