بین الاقوامی خبریں

سعودی عرب – ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحالی کا معاہدہ طے

چین کی ثالثی میں سعودی ایران معاہدہ امریکہ کے لیے امتحان

بیجنگ ، 11مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)بیجنگ میں جاری ایک مشترکہ بیان کے مطابق سعودی عرب اور ایران نے سفارتی تعلقات دوبارہ شروع کرنے اور دونوں ممالک کے سفارتخانوں کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ تینوں ممالک کا یہ بیان سرکاری سعودی پریس ایجنسی نے جاری کیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرنے، ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور 2001 میں ان کے درمیان طے پانے والے سکیورٹی تعاون کے معاہدے کو فعال کرنے پر اتفاق کیا۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ریاض اور تہران ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور ان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کا اعادہ کرتے ہیں۔اور سعودی پریس ایجنسی کے مطابق معاہدہ میں طے پایا ہے کا دونوں ممالک دو ماہ کی مدت کے اندر اپنے سفارت خانے دوبارہ کھول دیں گے۔

سعودی عرب، ایران اور چین کے یک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ میں طے پانے والے اس معاہدے میں سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ سفیروں کے تبادلے کا بندوبست کرنے اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے شائع ہونے والے سہ فریقی بیان میں بتایا گیا کہ تہران اور ریاض نے 1998 میں دستخط کیے گئے معیشت، تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، سائنس، ثقافت، کھیل اور نوجوانوں کے شعبوں میں تعاون کے عمومی معاہدے کو فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔مشترکہ بیان کے مطابق، تینوں ممالک نے علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

چین کی ثالثی میں سعودی ایران معاہدہ امریکہ کے لیے امتحان

نیویارک، 11مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کرنے کے ‘حیرت انگیز‘ معاہدے نے امریکہ کو گہری تشویش میں ڈال دیا ہے۔ یہ خلیجی ریاستوں میں چین کی بڑھتی ہوئی سفارتی مقبولیت اور اہم کامیابی کا مظہر بھی ہے۔خلیج کے دو دیرینہ حریف ایران اور سعودی عرب کے درمیان چین کی ثالثی سے جمعے کے روز سفارتی تعلقات بحال ہو جانے سے واشنگٹن میں یقیناگہری بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ اس خطے میں ایک طویل عرصے سے امریکہ کے بڑے گہرے اثرات ہیں۔اس معاہدے کا اعلان ایسے وقت پر ہوا جب چند ہی گھنٹے قبل چینی صدر شی جن پنگ نے ریکارڈ تیسری مدت کے لیے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ اسے چین اور شی جن پنگ کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔

مزید یہ کہ اس پیش رفت نے امریکہ کو تہران کے جوہری پروگرام اور یمن میں جنگ بندی کے امکانات کے حوالے سے بہت کچھ سوچنے پربھی مجبور کردیا ہے۔مشرقی وسطیٰ کے دو حریف ممالک ایران اور سعودی عرب کے حکام کے درمیان بیجنگ میں چار روز سے خاموشی سے با ت چیت چل رہی تھی۔وائٹ ہاوس کے ترجمان جان کربی نے جمعے کے روز کہا کہ حالانکہ واشنگٹن اس میں براہ راست شامل نہیں تھا لیکن سعودی عرب نے ایران کے ساتھ با ت چیت کے بارے میں امریکی حکام کو آگاہ کردیا تھا۔امریکہ نے چین کی اس اہم سفارتی کامیابی کو کم کرکے پیش کرنے کی کوشش کی۔ جان کربی کا کہنا تھا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ داخلی اور بیرونی دباؤ بشمول ایران اور اس کے حامیوں کی جانب سے حملوں کے خلاف سعودی عرب کے اقدامات نے تہران کو بالآخر مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کردیا۔لیکن امریکہ اور اقوام متحدہ کے ایک سابق اعلیٰ سفارت کار جیفری فیلٹ مین نے کہا کہ چھ برس کے بعد سفارت خانوں کو کھلوانے میں چین کا کردار اس معاہدے کا اہم ترین پہلو ہے۔

خیال رہے کہ ایک طرف امریکہ اور چین کے درمیان تجارت سے لے کر جاسوسی تک جیسے امور پر اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں دوسری طرف دونوں دنیا کے مختلف ملکوں پر اپنے اثر و رسوخ کا دائرہ بڑھانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا عرب ملکوں کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک نے بھی خیرمقدم کیا ہے۔عراق نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک نیا باب شروع ہونے کا خیرمقدم کیا۔ ترکی کی وزارت خارجہ کی طرف سے جارہ کردہ ایک بیان میں معاہدے کو مثبت اقدام قرار دیا گیا۔ عمان نے ریاض اور تہران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے سہ فریقی بیان کو خوش آئند قرار دیا۔خلیجی تعاون کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امید ہے کہ یہ معاہدہ سلامتی اور امن کو بڑھانے میں معاون ثابت ہو گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button