جنگ کے 20 سال بعد بھی امریکہ کی فوج عراق میں آخر کیوں ہے؟
یہ 2003 میں جنگ شروع ہونے کے بعد عراق میں امریکی فوجیوں کی سب سے زیادہ تعداد تھی
نیویارک،16مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)عراق پر امریکہ کے حملے کو رواں ماہ 20 برس ہوچکے ہیں۔عراق میں امریکہ کی فورسز اگرچہ اب بہت کم تعداد میں ہیں لیکن اس طویل عرصے تک ان کی موجودگی کو خطے میں امریکہ کے اتحادی اور سفارتی اہداف سے منسلک کیا جاتا ہے۔اس وقت عراق میں لگ بھگ 2500 امریکی فوجی اہل کار موجود ہیں جو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر بغداد اور شمالی عراق کی فوجی تنصیبات میں موجود ہیں۔اگرچہ یہ تعداد ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہے تاہم خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اہل کاروں کی عراق میں موجودگی خطے میں ایرانی اثرات کو محدود کرنے اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکنے کے امریکی عزم کا اظہار ہے۔عراق میں 2007 تک امریکہ کے 17 ہزار فوجی اہل کار موجود تھے۔
یہ 2003 میں جنگ شروع ہونے کے بعد عراق میں امریکی فوجیوں کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔عراق میں امریکہ کے موجودہ کردار کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر سے آگاہی ضروری ہے۔امریکہ نے مارچ 2003 میں عراق پرحملہ کیا تو فضائی قوت سے زمین پر فوج اتارنے کی راہ ہموار کی۔یہ حملہ اس الزام کی بنیاد پر کیا گیا تھا کہ عراق میں صدام حسین کی حکومت کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔بعد ازاں عراق میں ایسے ہتھیاروں کی موجودگی ثابت نہیں ہوسکی۔صدام حسین کی حکومت ختم ہونے اور امریکہ کی شروع کی گئی جنگ کے بعد عراق میں اقتدار کا توازن سنیوں کے مقابلے میں شیعہ آبادی کے حق میں ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی کردوں کو اپنے علاقوں میں خود مختاری حاصل ہوگئی۔کئی عراقیوں نے جنگ کے دوران پیدا ہونے والے حالات کی وجہ سے صدام حسین کی حکومت ختم ہونے کا خیر مقدم کیا۔
اس سے قبل یہ رپورٹس بھی سامنیآئی تھیں کہ شیعہ اور کرد آبادیوں کو ریاستی جبر کا سامنا ہے۔صدام حسین کی حکومت ختم ہونے کے بعد عراق میں شیعہ اور سنی گروہوں میں اقتدار کے حصول کے لیے خانہ جنگی شروع ہوگئی۔ اس خانہ جنگی کے حالات میں امریکہ نے 2011 میں ملک سے اپنی فوج نکال لی تھی۔دوسری جانب سنی اور شیعہ آبادی میں پائی جانے والی خلیج کی وجہ سے جب 2014 میں داعش نے عراق اور شام میں شورش پیدا کی تو عراق کی پولیس اور فوج اس طوفان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔بنیادی طور پر دہشت گرد تنظیم ’القاعدہ‘ سے جنم لینے والے شدت پسند گروہ ’داعش‘ کے شام اور عراق میں پھیلاؤ سے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو نئے خطرے کا احساس ہوا۔ داعش نہ صرف شام اور عراق میں تباہی اور دہشت کی علامت بن گئی تھی بلکہ اس کے عالمی نیٹ ورک نے مغربی ممالک کے لیے بھی سکیورٹی سے متعلق گہرے خدشات پیدا کردیے تھے۔
داعش کے خطرے سے نمٹنے کے لیے 2014 میں بغداد میں قائم حکومت نے امریکہ کو اپنی فوج عراق بھیجنے کی باضابطہ دعوت دی۔ اس دوران امریکہ کی زیرِ قیادت اتحاد نے عراق اور شام میں داعش پر فضائی حملے کیے اور عراقی فوج کو تربیت اور مشاورت بھی فراہم کی۔مارچ 2019 میں داعش کی خلافت کی قیام کی مہم ختم ہونے کے بعد بھی امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراقی فوج کی معاونت جاری رکھی اور اس میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے بھی کردار ادا کیا۔اس وقت عراق میں 2500 امریکی فوجی اہل کار ہیں۔ یہ عراقی فوجیوں کے ساتھ مختلف تنصیبات میں موجود ہیں جہاں وہ تربیت اور آلات فراہم کررہے ہیں۔ان اہل کاروں تعداد کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ تاہم پنٹا گان عراق میں معاونت اور شام میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں شریک ہونے والے اہل کاروں کی تعداد ظاہر نہیں کرتا۔سال 2019 سے 2022 کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کی قیادت کرنے والے مرین کور کے جنرل فرینک مکینزی کا کہنا ہے کہ عراق میں داعش کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔



