ذات پات:کیلیفورنیا سینیٹ کے فیصلے سے ہندوتوا تنظیموں کو دھچکا
ذات پات کی بنیاد پر تفریق کے خلاف بل کی متفقہ تائید کے بعد اس کا قانون شکل اختیار کرنا طے ہے۔
کیلیفورنیا،27اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)کیلفورنیا کی سینیٹ جوڈیشیری کمیٹی (California Senate Judiciary committee)کی ذات پات کی بنیاد پر تفریق کے خلاف بل کی متفقہ تائید کے بعد اس کا قانون شکل اختیار کرنا طے ہے۔ ہندوتوا تنظیموں کے لیے اسے بڑا دھچکا کہا جارہا ہے کیونکہ وہ اس کی شدید مخالفت کررہی تھیں۔امریکہ کی مغربی ریاست کیلفورنیا کی سینیٹ جوڈیشیری کمیٹی نے ذات پات کی بنیاد پر تفریق کے متعلق بل کی منگل کے روز اتفاق رائے سے توثیق کردی۔کیلفورنیا کی پہلی مسلم اور افغان سینیٹر عائشہ وہاب نے یہ بل پیش کیا اور کمیٹی کے تمام آٹھوں اراکین نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا۔اس بل کو ہندوتوا کی علمبردار تنظیموں کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے کیونکہ کئی انتہائی بااثر امریکی ہندو تنظیمیں اس بل کی مخالفت کر رہی تھیں۔
تاہم امریکہ میں ذات پات کی وجہ سے زیادتیوں کا شکار ہونے والے افراد اسے اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔
نیپال میں پیدا ہوئے سماجی کارکن پریم پریار کو وہ واقعہ یاد ہے جب کیلفورنیا کے بے ایریا میں پہلی مرتبہ انہیں ان کی ذات یاد دلائی گئی۔ وہ بتاتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی ہاتھ میں پلیٹ اور چمچ لیے ٹیبل کی طرف بڑھ رہا تھا لیکن جب کھانا لینے کی ئمیری باری آئی تومیزبان نے کہا، ‘ پریم کیا تم رکو گے؟ میں تمہارے لیے کھانا لاتا ہوں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، میں آپ کا کھانا گندا نہیں کروں گا۔جنوبی ایشیا میں ذات پات پر مبنی سماجی ڈھانچہ ہزاروں سال پرانا ہے۔ اس میں صفائی ستھرائی اور گندگی سے متعلق ضابطے بھی ہیں۔ اور ان کی بنیاد پر کچھ طبقات کو ’’اچھوت‘‘قرار دے دیا گیا۔
یہ لوگ خود کو اس ڈھانچے کی سب سے نچلی سیڑھی پر دیکھتے ہیں۔
ذات پات پر مبنی ان گروپوں کو بعض دیگر گروپوں کے ساتھ ملا کردلت کہا جاتا ہے۔ کھانا بھی ذات پرمبنی پاکی و صفائی کے پیمانوں میں سے ایک ہے اور اس حوالے سے ہزاروں برسوں سے چلے آرہے ضابطوں کے مطابق دلت جس کھانے کو چھو لیں وہ گندا ہوجاتا ہے۔ یعنی غیردلت اسے نہیں کھا سکتے۔ سن 2015میں کیلفورنیا آنے پر پیریار کو یہاں بھی اس کا تجربہ ہوا۔پیریار ڈیموکریٹک سینیٹر عائشہ وہاب کی حمایت کرتے ہیں، جو کیلفورنیا میں ذات پر مبنی تفریق کو ختم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔مارچ میں وہاب نے ایک بل پیش کیا جسے منگل کے روز سینیٹ کی جوڈیشیئری کمیٹی نے پاس کردیا۔ اس بل کے قانونی شکل اختیار کرلینے کے بعد کیلفورنیا میں ذات پات کی بنیاد پر تفریق کا خاتمہ ہوجائے گا۔
سیاٹیل اورکیلفورنیا ٹیکنالوجی کا مرکز ہیں، جہاں بڑی تعداد میں جنوب ایشیائی افراد بڑی ٹیک کمپنیوں میں ملازمت کرتے ہیں۔ انہیں میں سے ایک سسکو پر ایک کیس چلا جب اس کے ایک ملازم نے اپنے دو سپروائزروں پر ذات کی بنیاد پر تفریق کرنے کا الزام لگایا۔ اس مقدمے نے امریکہ میں ذات پات کی بنیاد پر مبنی تجربات پر ایک بحث چھیڑ دی اور ایکوالٹی لیب نامی ایک سماجی تنظیم نے اسے اپنا موضوع بنایا۔سن 2018 میں ایکوالٹی لیب نے امریکہ میں ذات پات کی بنیاد پر ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی۔ 1500 افرا د سے انٹرویو پر مبنی اس رپورٹ میں حصہ لینے 60 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ دلتوں کو ذات پات کی بنیاد پر توہین آمیز مذاق اور طنز برداشت کرنے پڑتے ہیں۔سن 2021میں کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً نصف بھارتی امریکی ہندو کسی ذات کے ساتھ اپنی شناخت جوڑتے ہیں۔



