عافیہ صدیقی کی 20 سال بعد اپنی بہن سے ملاقات
بیس سال بعد پہلی بار عافیہ صدیقی کی ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے
واشنگٹن ، 31مئی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بیس سال بعد پہلی بار عافیہ صدیقی Dr Aafia Siddiqui کی ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے ساتھ ملاقات ہو ئی ہے۔ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر فورٹ ورتھ میں واقع کارسویل فیڈرل میڈیکل سینٹرمیں قید عافیہ صدیقی نے اپنی بہن سے ملاقات کی۔دو بہنیں، منگل کی دوپہر جب ملیں تو دونوں کے درمیان شیشہ تھا،ڈھائی گھنٹے کی اس ملاقات میں پہلا ایک گھنٹہ سر پر اسکارف پہنے، جیل کے خاکی لباس میں ملبوس عا فیہ صدیقی نے بتایا ان پر کیا گزری اور پھر باقی کے وقت فوزیہ ان کو ان کے بچوں کے بارے میں بتاتی رہیں۔فوزیہ صدیقی کے مطابق، ان بیس سالوں کیدوران بہت کچھ بدل گیا۔ عافیہ صدیقی کی والدہ وفات پاچکی ہیں، بیٹی ڈاکٹر بن گئی ہے اوروہ بیٹا جو چھ ماہ کی عمر میں ان سے الگ ہوا تھا،اب نوجوان ہے۔ لیکن ملاقات کے دوران فوزیہ کو عافیہ کو ان کے بچوں کی تصویریں دکھانے کی اجازت نہیں دی گئی، جو وہ بہن کو دکھانے کیلئے پاکستان سے اپنے ساتھ لائی تھیں۔
فوزیہ کی عافیہ سے ملاقات کا احوال سینیٹر مشتاق نے وائس آف امریکہ کو بتایا، کیونکہ فوزیہ ملاقات کے بعد بہت جذباتی تھیں۔عافیہ صدیقی سے ملاقات کی کوششوں میں ان کی بہن کے ساتھ برٹش سول رائٹس لائیر کلائیو اسٹیفرڈ اسمتھ اور پاکستان کے سینیٹر مشتاق احمد خان شریک رہے ہیں۔فوزیہ صدیقی، سینیٹر مشتاق اور ان کی رہائی کی کوشش کرنے والے وکیل کی عافیہ سے ملاقاتیں بدھ اور جمعے کو بھی متوقع ہیں، جن میں عافیہ کی رہائی کے لئے مزید ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
سول رائٹس کے وکیل کلائیو اسٹیفر اسمتھ کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق، عافیہ نے اپنی بہن کو بتایا کہ وہ اپنے خاندان، اپنی والدہ، والد اور بچوں کو ہر وقت یاد کرتی رہتی ہیں۔ عافیہ کی اپنے بچوں سے متعلق ہر بات دو ہزار تین کے اس وقت میں منجمد ہے، جب انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔کلائیو اسٹیفر اسمتھ کے مطابق، ‘یہ ایک بہت غمزدہ کرنے والا لمحہ تھا، لیکن پھر بھی یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ میں اس جذباتی ملاقات کے دوران وہاں موجود رہا۔ تاہم بیان کے مطابق ان ملاقاتوں کی اہمیت یہی ہے کہ ہم عافیہ صدیقی کو جیل سے ان کے گھر واپس لے کر آئیں۔صدیقی اس وقت امریکہ کی ریاست ٹیکساس کی ایک ایسی وفاقی میڈیکل جیل میں زیر علاج ہیں۔جہاں خواتین قیدیوں کو، خصوصی طبی اور ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔اب جبکہ گوانتانامو بے کے بہت سے قیدیوں کو بھی رہائی مل گئی ہے۔
پاکستانی سینیٹر کے مطابق عافیہ صدیقی کے خلاف کیس بہت کمزور ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ کانگریس مین بریڈ شرمین، عافیہ صدیقی اور ڈاکٹر شکیل آفریدی کے تبادلے کی بات کر چکے ہیں، سینیٹر مشتاق کا کہنا تھا کہ وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے لیکن انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عافیہ کی آزادی کیلئے اپیل کرتے ہیں۔عافیہ کی رہائی کی تاریخ 3 جون 2082ہے لیکن جولائی 2019 میں، واشنگٹن ڈی سی کے دورے کے دوران، اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ عافیہ صدیقی کا تبادلہ شکیل آفریدی کے بدلے کر دیا جائے۔ شکیل آفریدی پاکستان میں جیل میں بند ڈاکٹر ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کی شناخت کی تصدیق میں امریکیوں کی مدد کی تھی۔



