بین الاقوامی خبریں

آسٹریلوی قانون ساز پر پارلیمنٹ کی عمارت میں جنسی ہراسانی کا الزام

جب بھی میں پارلیمنٹ آتی تھی تو سمجھتی تھی کہ میرے ساتھ حفاظت کے لیے کسی کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔

سڈنی،15جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) آسٹریلوی قانون ساز نے پارلیمنٹ میں اپنے اوپر ہونے والے جنسی حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ عمارت خواتین کے کام کرنے کے لیے محفوظ جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے ایک قدامت پسند سینیٹر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ اس قدامت پسند سینیٹر کو اس معاملے پر لبرل پارٹی نے معطل کر دیا تھا۔آزاد خاتون سینیٹر لیڈیا تھورپ Lidia Thorpe نے روتے ہوئے سینیٹ میں ایک تقریر میں کہا کہ ان پر جنسی تبصرے کیے گئے اور انہیں نامناسب طریقے سے چھوا گیا ہے۔تھورپ نے ایک ساتھی سینیٹر ڈیوڈ فین پر جنسی طور پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔ تھورپ نے جمعرات کو اپنے الزامات کا اعادہ کیا اور بتایا کہ مجھے پارلیمانی سزا کی دھمکی کے تحت اپنا بیان واپس لینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ڈیوڈ فین نے کہا کہ ان الزامات نے مجھے تباہ کردیا اور انتہائی تکلیف پہنچائی ہے۔ انہوں نے کہا یہ الزامات بالکل غلط ہیں۔ ان الزامات کی وجہ سے لبرل پارٹی نے فین کی رکنیت معطل کر دی۔ تھورپ نے کہا کہ فین نے اس معاملے میں وکلاء کو شامل کیا ہے اور پارلیمانی قواعد سے گزرنا آسان بنانے کے لیے مجھے اپنے کیس میں اصلاح کرنا پڑی۔تھورپ نے قانون سازوں سے کہا کہ میں دفتر کے دروازے سے باہر جانے سے ڈرتی تھی، میں دروازہ تھوڑا سا کھولتی تھی اور اس بات کو یقینی بناتی تھی کہ جانے سے پہلے جگہ خالی ہو۔

جب بھی میں پارلیمنٹ آتی تھی تو سمجھتی تھی کہ میرے ساتھ حفاظت کے لیے کسی کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔میں جانتی ہوں کہ اور بھی لوگ ہیں جو اسی طرح کے تجربے سے گزرے ہیں اور انہوں نے اپنے کیریئر کے مفاد میں اس کے بارے میں بات نہیں کی ہے۔واضح رہے 2021 سے آسٹریلیا کا سیاسی میدان پارلیمنٹ کے اندر حملہ اور ہراساں کرنے کے اعلیٰ سطحی الزامات کا مشاہدہ کر رہا ہے۔اس وقت ایک سابق سیاسی معاون برٹنی ہگنس نے کہا تھا کہ ایک قدامت پسند ساتھی نے پارلیمنٹ کے ایک دفتر میں صوفے پر ان کو زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button